غور طلب
رئیس یاسین
جب ایک اسکول بس ڈرائیور کی تنخواہ ایک تربیت یافتہ اور تجربہ کار استاد سے زیادہ ہو، تو یہ کوئی معاشی اتفاق نہیں بلکہ سیاسی غفلت کا واضح نتیجہ ہے۔ آج کے کشمیر میں تعلیمی قابلیت ایک اثاثہ نہیں بلکہ ایک بوجھ بن چکی ہے۔ یہ جملہ کہ’’پڑھا لکھا ہونا بے فائدہ ہے‘‘ تعلیم دشمن سوچ نہیں بلکہ ایک ایسے نظام پر فردِ جرم ہے جس نے تعلیم کو معاشی طور پر بے معنی بنا دیا ہے۔
ایک ایسے استاد کی مثال لیجیے ،جس کے پاس کئی ڈگریاں ہیں، جو کالج اور ہائر سیکنڈری سطح پر تدریس کا تجربہ رکھتا ہے، مگر پھر بھی اُسے ایک نجی اسکول میں انتہائی کم تنخواہ پر کام کرنا پڑتا ہے۔ اسی ادارے میں ایک بس ڈرائیور، جو صرف ساتویں جماعت پاس ہے، اس سے زیادہ کماتا ہے۔ یہ بات بس ڈرائیور کی محنت کو کم تر ثابت کرنے کے لیے نہیں، کیونکہ وہ بھی ایک باعزت اور ضروری کام انجام دے رہا ہے۔ اصل سوال سیاسی ہے۔ذہنی اور فکری محنت کو آخر بے قیمت کیوں سمجھا جا رہا ہے؟اس کا جواب کشمیر میں تعلیمی پالیسی کے مکمل انہدام میں پوشیدہ ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہیں، مگر کسی نے بھی تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے کوئی ٹھوس اور دور رس منصوبہ پیش نہیں کیا۔ نہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں توسیع کی گئی، نہ تحقیق کے مواقع فراہم کیے گئے، نہ نجی اسکول اساتذہ کے حقوق کا تحفظ کیا گیا۔ ڈگریاں تو بڑی تعداد میں پیدا کی جا رہی ہیں، مگر روزگار نہیں۔ یہ عدم توازن محض نااہلی نہیں بلکہ دانستہ پالیسی ترک کرنے کا نتیجہ ہے۔
نجی اسکول جو کسی مؤثر ضابطے کے بغیر کام کر رہے ہیں، استحصال کے مراکز بن چکے ہیں۔ اساتذہ بغیر مستقل تنخواہ، بغیر سماجی تحفظ، بغیر تحریری معاہدوں اور بغیر عزت کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ لیبر قوانین صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔ محکمہ تعلیم خاموش تماشائی بنا ہوا ہے، جبکہ نجی انتظامیہ کم سے کم معاوضے میں زیادہ سے زیادہ کام لے رہی ہے۔ یہ خاموشی دراصل سیاسی رضامندی ہے۔
المیہ اس وقت مزید گہرا ہو جاتا ہے ،جب اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مارکیٹنگ، سیلز اور غیر رسمی ملازمتوں کی طرف دھکیلا جاتا ہے،صلاحیت کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ ریاست نے تعلیمی مواقع پیدا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جو معاشرہ اپنے اہلِ علم کو علم پیدا کرنے کے بجائے اشیاء بیچنے پر مجبور کر دے، وہ خود اپنے فکری وجود کو مٹا رہا ہوتا ہے۔کشمیر کو فوری طور پر 5 سے 6 نجی جامعات کی ضرورت ہے، جو شفاف ضابطوں اور حکومتی سرپرستی کے تحت قائم ہوں۔ اعلیٰ تعلیمی ادارے کوئی عیاشی نہیں بلکہ معیشت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ یہ روزگار پیدا کرتے ہیں، صلاحیتوں کو علاقہ چھوڑنے سے روکتے ہیں اور معاشرے کو استحکام بخشتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے، اس سمت میں ہر سنجیدہ کوشش یا تو تاخیر کا شکار ہوتی ہے یا دفتری رکاوٹوں میں دفن کر دی جاتی ہے۔محبوب مخدومی کی جانب سے نجی اعلیٰ تعلیم کو مضبوط بنانے کی جو کوشش کی گئی، وہ اس بات کی مثال ہے کہ کشمیر میں وژن کو کس طرح سزا دی جاتی ہے۔ سہولت فراہم کرنے کے بجائے، ایسی کوششوں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے،کیونکہ ایک تعلیم یافتہ، باعزت اور معاشی طور پر خود مختار نوجوان طبقہ سیاسی طور پر ناگوار سمجھا جاتا ہے۔
واضح رہے۔یہ بحران نہ وسائل کی کمی کا نتیجہ ہے، نہ صلاحیتوں کی قلت کا۔ یہ ترجیحات کا مسئلہ ہے۔ سڑکیں، نعرے اور عارضی اسکیمیں نمایاں کی جاتی ہیں، مگر وہ اساتذہ جو مستقبل تعمیر کرتے ہیں، غربت کے دھانے پر دھکیل دیے جاتے ہیں، جو حکومت اپنے اساتذہ کا تحفظ نہیں کر سکتی، اسے ترقی کی بات کرنے کا اخلاقی حق حاصل نہیں۔
یہ ایک ساختی ناانصافی ہے۔ یہ صرف نجی اسکولوں یا افراد کی ناکامی نہیں بلکہ حکمرانی کی ناکامی ہے۔ جب تعلیم کو ذلیل کیا جاتا ہے تو معاشرہ غیر مستحکم ہو جاتا ہے اور جب اساتذہ کو رسوا کیا جاتا ہے تو مستقبل تباہ ہو جاتا ہے۔
کشمیر کو ہمدردی نہیں بلکہ پالیسی، سیاسی عزم اور جوابدہی کی ضرورت ہے۔ جب تک تعلیم کو ریاستی ترجیح نہیں بنایا جاتا اور اساتذہ کو قابلِ فروخت شے سمجھا جاتا رہے گا، ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے رہیں گے، اور کشمیر کا تعلیم یافتہ نوجوان اس ناکام نظام کی قیمت چکاتا رہے گا۔
[email protected]