صوفیہ بانو
ہم لوگ اپنی صحت کا کس قدر خیال رکھتے ہیں، ذرا سی تکلیف ہوئی فوراً دوا کیلئے سوچتے ہیں اور ڈاکٹر کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ خدا نخواستہ زیادہ بیمار ہوئے تو کافی دوڑ دھوپ کرتے ہیںاور کہاں کہاں نہیں جاکر علاج کرواتے ہیںاور وہ اس لئے ہم کرتے ہیں کہ ہماری صحت اچھی رہے، ہم صحتمند ، تندرست اور توانا رہیں۔ علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتتے ہیں اور نہ ہی کوئی کسر چھوڑتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ہم اپنے علاج کیلئے دوا اس وقت تک کھاتے ہیںجب تک آخری وقت نہ آجائے، اس کوشش میںکہ شاید تھوڑا افاقہ ہوجائے۔
دنیاوی زندگی میںجب بھی کوئی تکلیف یا پریشانی ہوتی ہے تو ہم فوراً اس کا علاج کرواتے ہیں لیکن مرنے کے بعد جب جسم کو تکلیف ہوگی اس کی دوا کہاں کرینگے کبھی میری بہنوںنے سوچا ہے۔ ذرا غور کریں اس بات پر کہ مرنے کے بعد جب جسم کو قبر میں ڈال دیا جائیگا ، جسم سڑ جائیگا، پیٹ پھٹ جائیگا، زبان باہر نکل جائیگی، بدبوہوگا، کیڑے مکوڑے جب کھائینگے تب نہ جانے کیا حال ہوگا۔ لیکن میری بہنو!میں آپ کو بتاتی ہوں کہ مرنے کے بعد جو اذیت اور تکلیف ہوگی اس کے علاج کیلئے دعا بیحد ضروری ہے اور دعا تب قبول ہوگی جب ہمارے اعمال اچھے ہونگے، ہمارے اخلاق اچھے ہونگے، ہمارے کردار اچھے ہونگے، ہم اللہ کی عبادت وریاضت خلوص دل سے کرینگے، نبی اکرمﷺکے بتائے ہوئے راستوں پر چلیں گے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہمیں تکلیف تو اٹھانی پڑیگی۔ آج کل ہماری بہنیں کہتی ہیں کہ دعا کیوں کریں؟ ملتا تو وہی ہے جو نصیب میں پہلے سے لکھا ہے، تو میری بہنیں!جب ہم الجھن کا شکار ہوتے ہیں اور ایک اضطرابی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں تو دعا ہی وہ واحد ذریعہ بنتی ہے جو الجھنوں کے حل اور دل کو بے چینی کے چنگل سے آزاد کراتی ہے۔ دعا آنسوں میں کھلا پھول ہے کہ اس کے کھلنے سے چاروں طرف بہار آجاتی ہے، دعا مقدر کا لکھا بدل دینے کی قدرت رکھتی ہے اس لئے بیماری کی حالت میں ، مصیبت اور پریشانی کے وقت میں اپنے اللہ سے دعا کریں، اللہ تعالیٰ ہم سب کی دعا کسی نہ کسی شکل میںقبول کرتا ہے۔ دعا مانگنا فرض ہے اس لئے دعا مانگیں اور جب بھی دعا مانگیںتو اس یقین کے ساتھ مانگیںکہ اللہ تعالیٰ کبھی بھی ہماری دعا رد نہیں کریگا۔
آخر میں صرف اتنا عرض ہے کہ جس طرح جیتے جی طرح طرح کی بیماریوںمیں آپ مبتلا ہوجاتے ہیں تو دوا اور علاج کیلئے بے تحاشہ پیسہ بھی خرچ کرتے ہیں ٹھیک ہونے کیلئے اسپتالوںاور ڈاکٹرخانوںکے چکر بھی کاٹتے ہیںبالکل اسی طرح مرنے کے بعد طرح طرح کی مصیبت و عذاب کو جھیلنا نہ پڑے اس کیلئے اللہ کے احکام کا پابند بنیںاور دعا کو اپنی زندگی کا اہم جز بنائیںانشاء اللہ زندگی ایک پھول کی مانند مہکنے لگے گی اور آخرت بھی سنور جائیگی۔