عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/منگل کے روز جموں و کشمیر کے ضلع شوپیان میں تعینات ایک ڈاکٹر نے ناساز گار موسم اور بھاری برف کے باوجود فرض شناسی کی ایسی مثال قائم کی کہ سخت ترین آزمائش بھی ان کے عزم کے سامنے ہار گئی۔ ڈاکٹر مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک جے سی بی (کھدائی کرنے والی مشین) پر سوار ہو کر اسپتال پہنچے۔ڈاکٹر بشارت پنڈت، جو جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے رہائشی ہیں اور اس وقت سری نگر میں مقیم ہیں، شوپیان کے ضلع اسپتال میں بطور گائناکالوجسٹ تعینات ہیں۔
انہوں نے منگل کی صبح ساڑھے سات بجے اپنے گھر سے تقریباً 55 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے لیے روانگی کی۔ سری نگر اور اس کے اطراف میں برفباری ہلکی تھی، تاہم جنوبی کشمیر میں حالات کہیں زیادہ خراب تھے، جہاں شوپیان میں تین سے چار فٹ تازہ برف پڑی ہوئی تھی۔شوپیان پہنچنے کے بعد ان کی گاڑی برف میں پھنس گئی، جس کے بعد وہ اسپتال پہنچنے کی کوشش میں تقریباً تین کلومیٹر پیدل چلنے پر مجبور ہو گئے۔
ڈاکٹر پنڈت نے فون پر خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا،صبح سویرے کا وقت تھا اور زیادہ تر سڑکیں صاف نہیں کی گئی تھیں۔ میں پیدل چل رہا تھا کہ اسی دوران ایک جے سی بی آئی، تو میں اس پر سوار ہو گیا۔انہوں نے بتایا کہ وہ جے سی بی پر سوار ہو کر اسپتال پہنچے اور صبح تقریباً 10:30 بجے وہاں پہنچ سکے۔ڈاکٹر بشارت پنڈت نے کہایہ ذمہ داری اور فرض کا احساس تھا… خاص طور پر حاملہ خواتین کے لیے، جنہیں بروقت علاج نہ ملنے کی صورت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ہر صورت اسپتال پہنچنا تھا تاکہ حاملہ خواتین کے ضروری طبی اقدامات اور آپریشن انجام دیے جا سکیں۔انھوں نے کہاکئی مریض مختلف طبی عمل کے لیے قطار میں تھے اور کچھ ایمرجنسی کیسز بھی تھے۔ اس شدید برفباری میں مریضوں کو دوسرے اسپتالوں میں ریفر کرنا مزید مشکلات پیدا کر سکتا تھا۔ڈاکٹر پنڈت کے مطابق، ان کے شعبے نے دن بھر میں 10 سرجریز انجام دیں اور تمام مریضوں کی حالت مستحکم ہے۔
فرض کی راہ میں برف بھی رکاوٹ نہ بن سکی، شوپیان کے ڈاکٹر جے سی بی پر اسپتال پہنچ گئے