عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا ہے کہ عالمی عدم استحکام اور عالمی معیشت کو درپیش بحران کے باوجود ہندوستان اپنی متوازن خارجہ پالیسی اور دور اندیش فکر کی بدولت بہ سرعت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ مرمو نے بجٹ اجلاس کے پہلے دن اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور طویل عرصے سے قائم عالمی توازنات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے عالمی استحکام اور عالمی معیشت کو بحران میں ڈال رکھا ہے لیکن ان تمام حالات کے باوجود ہندوستان تیز رفتاری سے ترقی کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اس کامیابی کے پیچھے حکومت کی متوازن خارجہ پالیسی اور دور اندیش سوچ کا بڑا کردار ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ موجودہ پیچیدہ عالمی حالات میں ہندوستان دنیا میں ایک پُل (سیتو) کا کردار ادا کر رہا ہے جس کے باعث جنگ میں مصروف ممالک بھی اہم امور پر ہندوستان پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توازن، غیر جانب داری اور انسانی نقطۂ نظر کو ترجیح دیتے ہوئے بھی ہندوستان نے انڈیا فرسٹ کے عزم کو مضبوطی سے قائم رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے بین الاقوامی فورمز پر ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مؤثر انداز میں بلند کیا ہے اور اپنی عالمی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ صدر مرمو نے کہا، ہندوستان نے پوری دنیا میں گلوبل ساؤتھ کی آواز کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا ہے۔ افریقہ اور لیٹن امریکہ سمیت مختلف خطوں میں نئی شراکت داریاں قائم کی گئی ہیں اور پرانے تعلقات کو مزید تقویت دی گئی ہے۔ ہندوستان نے بِمسٹیک، جی-20، برکس، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر بھی اپنی موجودگی کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ عالمی سیاست اور تعاون کا حتمی مقصد انسانیت کی خدمت ہونا چاہیے اور ہندوستان نے اپنے اقدامات کے ذریعے اس کی مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا، لیٹن امریکہ، جنوب مشرقی ایشیا، بحرالکاہل کے جزائر اور پڑوسی ممالک میں بحران کے وقت ہندوستان نے آگے بڑھ کر ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔ سری لنکا میں سائیکلون دِتوا کے دوران حکومت نے ’آپریشن ساگر بندھوشروع کیا۔ اسی طرح میانمار اور افغانستان میں بھی سب سے پہلے ہندوستان نے امداد پہنچائی۔
مرمو نے کہا کہ ہندوستان اپنی وسیع عالمی ذمہ داریوں اور مثبت و سرگرم کردار کے ساتھ کئی بین الاقوامی تنظیموں میں اہم فرائض انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں برس برکس کی صدارت ہندوستان کے پاس ہے اور دنیا اسے امید بھری نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کے مواقع اور چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان عالمی برادری کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے گلوبل اے آئی امپیکٹ سمٹ کے انعقاد کی تیاری بھی کر رہا ہے، جو دنیا کے لیے ایک اہم اور فیصلہ کن تقریب ثابت ہوگی۔