شاہد حسین
بے شک اخلاق انسانی معاشرے کی بنیادہے۔انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی عروج و زوال کا تعلق ان کی اخلاقی حالت سے ہوتا ہے۔ عمارتیں،
سڑکیں، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کسی قوم کو عظیم نہیں بناتیں، بلکہ سچائی، دیانت، انصاف، برداشت اور باہمی احترام ہی وہ عناصر ہیں جو معاشروں کو زندہ رکھتے ہیں۔ اخلاق کسی معاشرے کی روح ہوتے ہیں اور جس معاشرے سے روح نکل جائے وہ محض افراد کا ہجوم بن کر رہ جاتا ہے، یہ انسانی اقدار کا گہوارہ رہا ہے، آج ایک سنگین اخلاقی بحران سے
دوچار ہے۔ یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ آہستہ آہستہ ہماری زندگیوں، رویّوں اور سوچ میں سرایت کرتا گیا، یہاںتک کہ اب یہ ایک واضح حقیقت بن چکی ہے۔
کشمیر کی تہذیبی و اخلاقی شناخت صرف اُس کے قدرتی حسن تک محدود نہیں رہی بلکہ یہاں کے لوگوں کا اخلاق، شائستگی اور نرم خوئی اس کی اصل پہچان تھے۔ بزرگوں کا احترام، اساتذہ کی عزت، پڑوسیوں کے حقوق اور عورت کے وقار کومعاشرتی اصول سمجھا جاتا تھا۔ اختلاف رائے کو دشمنی میں تبدیل نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ بات چیت اور بردباری سے
مسائل حل کئے جاتے تھے۔مگر آج یہ اقدار رفتہ رفتہ کمزور ہوتی جا رہے ہیں۔ نئی نسل ان روایات کو قدامت پسندی سمجھنے لگی ہے جو کہ ایک خطرناک فکری تبدیلی کی علامت ہے۔
اخلاقی گراوٹ: ایک خاموش مگر خطرناک عمل اخلاقی گراوٹ کسی طوفان کی طرح ایک دن میں نہیں آتی بلکہ یہ دیمک کی مانند آہستہ آہستہ معاشرے کو کھوکھلا کرتی ہے۔جب جھوٹ سچ پر غالب آ جائے، بددیانتی کو ہوشیاری کہا جانے لگے اور خود غرضی کو کامیابی سمجھا جائے تواخلاقی زوال اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہوتا ہے۔یہ گراوٹ صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہوتی ہے جو پورے سماجی نظام کو متاثر کرتی ہے۔آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو اخلاقی گراوٹ واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ بازاروں میں ناپ تول کی کمی،دفاتر میں سفارش اور بدعنوانی، سڑکوں پر عدم برداشت اور گھروں میں بدزبانی عام ہوتی جا رہی ہے۔معمولی اختلافات جھگڑوں میں بدل جاتے ہیں اور برداشت کی جگہ غصہ اور نفرت لے لیتی ہے۔ یہ سب اس بات کاثبوت ہیں کہ ہم اخلاقی طور پر کمزور ہو رہے ہیں۔
زبان اور گفتگو کا بگاڑ : زبان کسی بھی معاشرے کے اخلاق کا آئینہ ہوتی ہے۔آج گفتگو میں شائستگی کم ہوتی جا رہی ہے۔ طنز، تمسخر، تضحیک اور گالی کو عام بات سمجھا جانے لگا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر۔یہ زبانی بگاڑ دراصل ذہنی اور اخلاقی بگاڑ کی علامت ہے، جو معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
نوجوان نسل اور اخلاقی بحران : نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، مگر آج یہی مستقبل اخلاقی انتشار کا شکار نظر آتا ہے۔فوری شہرت، غیر ضروری نمائش، محنت سے گریز اور مقصِد حیات سے دوری نوجوانوں کو ایک غلط سمت میں لےجا رہی ہے۔جب رہنمائی نہ ہو تو یہی نوجوان منفی اثرات کا شکار ہو جاتے ہیں جو پورے معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہوتاہے۔سوشل میڈیا۔ سہولت یا آزمائش؟سوشل میڈیا کااظہار،جھوٹی خبریں، کردار کشی، نفرت انگیز مواد اور غیر خلاقی رجحانات نوجوان ذہنوں کو متاثر کر رہے ہیں۔کشمیر جیسے روایتی اور حساس معاشرے میں سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال اخلاقی گراوٹ کو مزید تیز کررہا ہے۔
خاندانی نظام کی کمزوری: خاندان کسی بھی معاشرے کی پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔بدقسمتی سے آج والدین وقت کی کمی، معاشی دباؤ اور مصروف زندگی کے باعث بچوں کی اخلاقی تربیت پر پوری توجہ نہیں دے پا رہے۔موبائل فون بچوں کے ہاتھ میں ہے، مگر رہنمائی اور تربیت نایاب ہوتی جا رہی ہے، جس کا نتیجہ اخلاقی بگاڑ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
تعلیم بغیر تربیت: تعلیم اگر کردار سازی نہ کرے تو وہ ادھوری ہے۔آج تعلیم کا مقصد زیادہ تر نوکری اور معاشی کامیابی تک محدود ہو گیا ہے، جبکہ اخلاقی تربیت کو نظرانداز کیا جا رہا
ہے۔تعلیمی اداروں میں استاد اور شاگرد کا رشتہ محض رسمی بن کر رہ گیا ہے، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔ اخلاق کا انصاف سے گہرا تعلق ہے۔جب معاشرے میں انصاف کمزور ہو جائے، سفارش اور طاقت کا بول بالا ہو، تو لوگ اخلاقی اصولوں پر یقین کھوبیٹھتے ہیں۔ جو معاشرتی توازن کو تباہ کر دیتی ہے۔ دین ہمیں بہترین اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔کشمیر کی روح ہمیشہ دین اور روحانیت سے وابستہ رہی ہے، مگر آج دین کو عبادات تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ اخلاقی پہلو نظرانداز ہو چکا ہے۔یہی تضاد اخلاقی گراوٹ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ میڈیا معاشرے کی سوچ کو تشکیل دیتا ہے۔اگر میڈیا ذمہ داری، شائستگی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو اصلاح ممکن ہے، لیکن سنسی خیزی اور منفی رجحانات اخلاقی بگاڑ کو بڑھاتے ہیں۔اخلاقی اصلاح کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں۔یہ گھر سے شروع ہو کر اسکول، مسجد، میڈیا اور پورے معاشرے تک پھیلتی ہے۔سب سے پہلے فرد کو خود احتسابی کرنا ہوگی، کیونکہ معاشرہ افراد سے ہی بنتا ہے۔تمام تر مشکلات کے باوجود کشمیر آج بھی زندہ ضمیر لوگوں سے خالی نہیں۔اگر والدین، اساتذہ، علما، میڈیا اور نوجوان اپنی ذمہ داری کو سمجھ لیں تو اخلاقی احیا ممکن ہے۔ اخلاقی گراوٹ ہمارے معاشرے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔اگر ہم نے آج اپنی اخلاقی بنیاد کو مضبوط نہ کیا تو آنے والی نسلیں ایک کھوکھلا معاشرہ ورثے میں پائیں گی۔کشمیر کی اصل پہچان اس کے اخلاق ہیں۔اخلاق زندہ رہے تو کشمیر زندہ رہے گا۔
رابطہ۔ 6005339879
[email protected]