ایک جائزہ
رئیس احمد کمار
وادی گلپوش سے تعلق رکھنے والے جن ادباء نے ادب کی بے لوث خدمات انجام دیتے ہوئے نہ صرف اپنا لوہا منوایا ہے بلکہ اردو دنیا میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے، ان میں ڈاکٹر ریاض توحیدی کا نام سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ سرحدی ضلع کپواڑہ کے وڈی پورہ ہندواڑہ میں جنم لینے والے اس ادبی سپوت نے اب تک کئی افسانوی مجموعے اردو ادب کو سونپ دئیے ہیں جن میں کالے پیڑوں کا جنگل اور کالے دیووں کا سایہ شامل ہیں۔ حال ہی میں ان کا تازہ افسانوی مجموعہ زندگی کا بازار منظر عام پر آگیا ہے۔ اس افسانوی مجموعہ کو انور مرزا نے مرتب کیا ہے اور ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس نئی دہلی کے زریعے اسے شائع کروایا گیا ہے۔ 220 صفحات پر مشتمل اس افسانوی مجموعہ کا سرورق دیدہ زیب اور عمدہ ہے۔ ڈاکٹر توحیدی نے یہ مجموعہ نئی نسل کے اردو قارئین کے نام کیا ہے۔ اظہار خضر جو ریاست بہار کے پٹنہ شہر سے ہیں، نے اس مجموعہ پر مختصر مگر جامع تبصرہ تحریر کیا ہے۔ بقول ان کے ڈاکٹر ریاض توحیدی فکشن کے ایک اچھے ناقد ہونے کے ساتھ ساتھ اردو افسانہ کے ایک اچھے اور کامیاب تخلیقی فنکار بھی ہیں۔ پروفیسر قدوس جاوید نے ڈاکٹر ریاض توحیدی کی افسانہ نگاری اور ان کی تنقیدی صلاحیتوں پر ایک طویل اور مفصل مضمون رقم کیا ہے۔ بقول قدوس جاوید، ڈاکٹر ریاض توحیدی کے افسانوں میں صرف مقامی موضوعات کی کہانیاں ہی نہیں ملتی ہیں بلکہ ان کے بیشتر افسانوں کا کینوس عالمی سطح کے موضوعات پر بھی پھیلا ہوا ہے۔ پروفیسر قدوس جاوید نے ڈاکٹر توحیدی کے درجنوں افسانوں پر اس مضمون میں تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ اظہار مسرت میں ڈاکٹر ریاض توحیدی خود فرماتے ہیں کہ اس مجموعہ میں جو افسانے قارئین کو پڑھنے کے لیے ملیں گے وہ پہلے دو شائع شدہ مجموعوں اور زیرتربیت تیسرے مجموعے میں سے کچھ منتخب افسانے ہیں۔ اس مجموعہ میں کل اکتالیس افسانے شامل کئے گئے ہیں۔ سفید نور کا راز، اس مجموعہ کا پہلا افسانہ ہے۔ یہ افسانہ ایک فلسفیانہ مکالمے پر مبنی ہے جس میں یہ دکھانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے کہ نور، روشنی، اصل اور نقل میں واضح فرق کیا ہے اور کس طرح ایک فلسفی عام انسان کو مشکل ترین چیزیں سمجھا سکتا ہے۔ ڈیوڈ سیارہ، یہ اس مجموعہ میں شامل ایک سانئس فکشن پر مبنی ایک افسانہ ہے۔ ڈیوڈ ایک بیس سالہ نوجوان سائنسدان کے اردگرد یہ سائنس فکشن گھومتا ہے۔ وہ ایک مین میڈ ورلڈ بنانے میں کامیاب ہوتا ہے جو زمین سے بہت دور ایک نئے سیارے پر قائم کیا جاتا ہے۔ جہاں کی زندگی آرام دہ اور تمام آسائشوں سے لیس ہوتی ہے یہاں تک کہ انہوں نے موت کو شکست دی اور وہاں زندگی ہی زندگی قائم کی۔ اس مشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ جشن منانے میں ہی مگن تھے کہ وہاں کا سارا نظام آناً فاناً تتر بتر ہوا۔ کاسمک شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور روبوٹ پگلنے لگے۔ اس فکشن کے زریعے قدرتی نظام میں انسانی غیر فطری مداخلت کے منفی نتائج سامنے آجانا ایک ردعمل کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ گلوبل جھوٹ، عصر حاضر کے طاقت ور حیوانوں کی کارستانیوں پر ایک مکمل داستان اس مزاحمتی افسانے میں پڑھنے کو ملتی ہے جو جمہوریت کے نام پر بے بس اور کمزور اقوام کا گلہ گھونٹ رہے ہیں۔ سنگ باز، تشدد کس چیز کا نام ہے اور تشدد کی وجہ سے کتنے لوگ برسوں تک ظلم و جبر سہتے رہتے ہیں اس افسانے میں خوب دکھایا گیا ہے۔ حیرانگی تب سامنے آتی ہے جب جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے بے گناہ اور بے قصور افراد کو ظلم و تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے۔ گمشدہ سرمایہ، مجموعے کا یہ ایک پردرد اور دل کو چیر دینے والا افسانہ ہے جس میں موجودہ دور کے بچوں کی اپنے والدین کے تئین بے حسی اور نافرمانی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کس طرح غفار خان اسپتال میں اکیلا پڑا رہتا ہے اور زندگی کے آخری لمحات میں بھی اسے بے سہارا چھوڑا گیا ہے حالانکہ اس کا بیٹا جسے اس نے بڑے ہی ناز و نعم سے پالا پوسا تھا اور وہ ملک سے باہر ایک بڑے سرجن کے طور پر مشہور تھا مگر اس کے باوجود اس نے اپنے والد سے بےرخی اختیار کی تھی۔ ڈپریشن، یہ افسانہ ایک ڈرائیور اور کنڈکٹر کے حیوانی صفات کو بےنقاب کرتا ہے جنہوں نے بوسیدہ اور زنگ آلودہ بس میں سوار مسافروں کو دہائیوں سے ظلم و تشدد کا شکار بنایا ہوا تھا اور کئی لوگوں کو ابدی نیند تک بھی سلا دیا تھا۔ ہوم لینڈ، وادی گلپوش میں جب نوے کی دہائی میں حالات نے کروٹ لی اور پر فضا اور پرمسرت ماحول کو زہرآلودہ بناکر ہندو مسلم سکھ اتحاد کی برسوں پرانی وراثت کی جڑیں اجاڑ دی اس افسانے میں اس کا نقشہ بھرپور انداز میں کھینچا گیا ہے۔ افسانے میں حیران کن انکشافات کو بھی آواز دی گئی ہے جو سچ اور زمینی حقیقت پر مبنی ہے۔ببول کے کانٹے، ایک ایسا افسانہ ہے جو غلط سیاسی رویّوں اور سیاسی رہنماؤں کے اختیارات کے بےجا استعمال کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک اور صاف و شفاف ہونے کے باوجود، سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد ایماندار اور مخلص لوگوں کو طرح طرح سے اذیتوں میں مبتلا کرتے ہیں۔ یہی تلخ حقیقت اس کہانی میں نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ کبھی الوداع نہ کہنا، یہ ایک رومانوی کہانی ہے۔ اس کی جنتی بھی تعریف کی جاے کم ہے۔ کیونکہ سلیس اور آسان زبان میں لکھا گیا افسانہ قاری پر ایک گہرا اثر چھوڑتا ہے کہ کس طرح والدین کی بےجا مداخلت ایک جوڑے کو ہمیشہ کے لیے الگ کرتی ہے اور جب وہ بعد ازاں زندگی گزارنے لگتے ہیں تو ایڈجسٹ نہ ہو پانے کی وجہ سے ہمیشہ روتے رہتے ہیں۔ کالے پیڑوں کا جنگل، ڈاکٹر ریاض توحیدی کے پہلے افسانوی مجموعے کا یہ عنوانی افسانہ ہے۔ کالے پیڑوں کے جنگل نے آدم زادوں کی زندگیاں اجیرن بناکر رکھی تھیں۔ شام ہوتے ہی جو بھی فرد باہر آنے کا سوچتا تھا تو وہ اپنے گھر کے باہر قدم رکھنے سے پہلے ہزار بار سوچتا تھا کیونکہ کئی دہائیوں سے آگ کے شعلوں سے بستی میں شب خون کا سلسلہ جاری تھا۔ یہ مصیبت انکی جرم ضعیفی کی سزا تھی۔ گمشدہ قبرستان، یہ افسانہ ایسے تخلیق کیا گیا ہے کہ قاری کو وادی گلپوش کا وہ زمانہ اپنے آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوجاتا ہے جب تشدد کی وجہ سے ہمارے نوجوان، بوڑھے، بچوں حتاکہ عورتوں کو بھی نشانہ بناکر انہیں ابدی نیند سلایا جاتا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں عورتیں بیوہ اور لاکھوں بچے یتیمی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔ رحمت کے پھول، یہ ایک پردرد افسانہ ہے جس میں ایک اہم سماجی مسلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ لڑکیوں کے پیدا ہونے پر اکثر لوگ آجکل ناخوش ہوتے ہیں مگر بعد ازاں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں ہی اپنی کامیابی سے ماں باپ کے دل خوش کرتے ہیں جو اس افسانے میں خوب دکھتا ہے۔ گلہ قصائی، سیدھے سادھے اور ایماندار تاجروں کے کاروبار کو کوسنا اور ڈاکٹروں کی غیر انسانی اور خودغرضی آج کل کے سماج میں ایک نارم بن چکا ہے۔ کس طرح گلہ قصائی ڈاکٹروں کی عزت کرتا تھا مگر ڈاکٹروں نے اس کے ساتھ کون سا رویہ اختیار کیا، اس افسانے میں ایک دل دہلانے والی کہانی قاری کو متاثر کرتی ہے۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال ہیں اور وہ اپنے افسانوں میں عمدہ اظہار کمال پختگی کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب منفرد اور خوبصورت ہے جس کا ثبوت ان کی کہانیوں میں قاری کو ملتا ہے۔ اللہ کرے انہیں اردو ادب کی مزید خدمت کرنے کی قوت عطا کرے۔ قارئین کرام سے میں ملتمس ہوں کہ اس افسانوی مجموعہ کو پڑھے اور اپنی زریں آراء سے مصنف کو نوازیں۔ شکریہ