ماجد مجید ،کشمیر یونیورسٹی
موجودہ دور میں ہر قسم کے مشاغل کی بہت سی صورتیں ہمارے سامنے ہیں، موسیقی آلات ہیں، لہو و لعب بھی اور ایسے کھیل تماشے بھی ہیں کہ ساری دنیا ان کے پیچھے پاگل ہوتی جارہی ہے۔ حلال و حرام کی تمیز بھی شرمسار ہے، لہو و لعب کی زندگی گزارنے کے لیے بڑے مستحکم نظام بھی ہیں۔ اگر ان چیزوں سے جی بھر آئے اور اکتاہٹ محسوس ہو جائے تو کسی بڑے سیر و تفریح پر جانےکا منصوبہ کسی حد تک دل کو سکون بخشنے میں راس آجائے۔ اگر دل کے کسی گوشے سے عمرہ کی آواز سنائی دے تو سونے پر سہاگہ ہوجائے، ایک طرف عزیز واقارب دوست دشمن آس پڑوس افراد جھلس تو ضرورجائیں گے لیکن دوسری طرف آپ کا بڑا نام ہوجائے، عزت و آبرو بڑے گی اور عابدوں میں شمار ہونا یقینی ہے ،پھر ایک ایسے ادارے سےجُڑ جائے جو آئے روز عمرہ کی ادائیگی کا اشتہاروں پر اشتہار شائع کروانے میں سب سے بڑا چاپلوس ہو اور سوشل میڈیا پر اپنا نام کمانے میں دن رات ایک کرتا ہو اتنا ہی نہیں، بلکہ سبز باغ دکھانے میں بھی سب سے زیادہ ماہر ہو ۔اگر آپ پہلی بار ادائیگی کے فرائض انجام دینے جارہے ہوں اور لاعلم بھی ہوں پھر ایسے ہی کسی ادارے میں اپنا نام درج کروائے جو حال حال ہی اس میدان میں اپنی قسمت آزمانے اترا ہو ادارے کے اتالیق سے تربیت حاصل کرنا ضروری ہے اور پوری رقم ادا کرکے بلا آخر ادارہ آپ کو پاسپورٹ ویزا عطا کرکے عمرہ پر جانے کی تاریخ اور وقت فراہم کرے گا اور ادارے کے منتخب رہبر سے جان پہچان بھی کرائے گا، جو ادارے کی طرف سے آپ کا ہم سفر ہو اور ہر موڑ پر اس کی رہبری ہوگی ۔ چونکہ آپ پہلی بار سات سمندر پار جارہے ہیں، رہبر کو اپنے بغل میں رکھنے سے اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے سےآپ کو فائدہ ہے ۔رہبر کے بھی اپنے فائدے ہیں، روانگی سے پہلے ادارے نے جو وعدے کئے ہیں ،رہبر ٹال مٹول کرکے اور بہانے بناکے سبز باغات کی سیر کرائے گا۔ اس طرح رہبر اپنے پانچوں انگلیوں سے گھی نکالتا رہے گا لیکن آپ کے سامنے خود کو ادارے کے کام سے مصروف رکھے گا۔ میزبان کے گھر شرمندگی کا لباس پہنے ہر چکر پر چہار دانگ عالم میں سوشل میڈیا فیس بک کے ذریعے اپنی حاضری یقینی بنانا نہ بھولئے گا اور اپنے اور میزبان کےدشمن کو اس قدر خوشی دے کہ وہ بھی تیرے کار کرتوت سے پانی پانی ہوجائے اور یوم آخرت پر تم کو یاد دلایا جائے گا کہ تو میزبان کے گھر آیا ضرور تھا کہ چاردانگ عالم میں تیرا نام ہو، لیکن میزبان کے دشمن کو راحت پہچانے کی خاطر قدم قدم پر اسی کی راہ پر چلتا رہا جبکہ میزبان تیرے واپس آنے کے انتظار میں رہا لیکن تو نہیں آیا۔ خیر یہ کوئی نئی بات نہیں، جب سے موبائل فون ،فیس بُک، واٹس اَپ وغیرہ وغیرہ کا جال پھیلا، انسان اپنےخالق سے بھاگتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر شادی یا کسی دعوت پر جانا ہو، جہاں کھانے پینے کا اچھا انتظام ہو، سج دھج کے جاتے ہیں اور پوری توجہ صرف دعوت اور کھانے پینے پر رہتا ہے ،برعکس اس کے خالق کےبُلاوے پر مسجدوں میں نماز کی ادائیگی کے لئے جاتے ضرور ہیں، اگر موبائل فون ساتھ نہ ہو اور نماز کے دوران موبائل نہ بجے اور سب نمازیوں کو خلل نہ کریں تو نماز ہی مکمل نہیں۔
[email protected]