ڈاکٹر شگفتہ خالدی
جموں و کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جو قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ طویل سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کا شکار رہا ہے۔ ان حالات کا سب سے زیادہ اثر معاشرے کے کمزور طبقات پر پڑا ہے، جن میں بے سہارا خواتین سرِفہرست ہیں۔ غربت اور بے روزگاری نے ہزاروں خواتین کو ایسی حالت میں پہنچا دیا ہے ،جہاں ان کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے میں محکمہ سوشل ویلفیئر سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ان خواتین کے لیے حقیقی سہارا بنے، مگر زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔جموں و کشمیر میں محکمہ سوشل ویلفیئر کے تحت بے سہارا خواتین کو جو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، وہ عموماً ایک ہزار سے پندرہ سو روپے ماہانہ تک محدود ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں یہ رقم ’’ماؤزہ صفر‘‘ کے برابر محسوس ہوتی ہے۔ جب آٹا، چاول، دال، تیل، سبزیاں، بجلی، گیس اور ادویات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہوں، تو یہ معمولی رقم کسی بھی خاتون کے لیے محض رسمی مدد کے سوا کچھ نہیں۔
جموں و کشمیر میں حالاتِ زندگی پہلے ہی مشکل ہیں۔ سرد علاقوں میں رہائش، ایندھن، گرم کپڑوں اور علاج پر اضافی خرچ آتا ہے۔ خاص طور پر بیوہ اور بے سہارا خواتین کے لیے سردیوں کا موسم کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر سوشل ویلفیئر کی امداد صرف ایک ہزار یا پندرہ سو روپے ہو، تو اس سے نہ تو راشن پورا ہوتا ہے اور نہ ہی بچوں کی بنیادی ضروریات۔ایک اور اہم مسئلہ سوشل ویلفیئر اسکیموں تک رسائی کا ہے۔ جموں و کشمیر میں بہت سی خواتین دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہتی ہیں، جہاں سرکاری دفاتر تک پہنچنا آسان نہیں۔ کاغذی کارروائی، شناختی دستاویزات، سفارش اور دفاتر کے بار بار چکر ان خواتین کے لیے مزید ذہنی اور جسمانی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔ بعض اوقات سیاسی یا ذاتی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد امداد حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ اصل مستحق خواتین محروم رہ جاتی ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر میں تنازعات اور بدامنی کے باعث بڑی تعداد میں خواتین ایسی ہیں ،جن کے شوہر لاپتہ ہو چکے ہیں یا ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان خواتین پر بچوں کی پرورش، گھر چلانے اور سماجی دباؤ کی دوہری ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر سوشل ویلفیئر کی موجودہ امدادی رقم ان مسائل کا کوئی حل پیش نہیں کرتی۔
اگر حکومت واقعی جموں و کشمیر میں بے سہارا خواتین کی فلاح چاہتی ہے تو سب سے پہلے مالی امداد کی رقم کو مہنگائی کے تناسب سے بڑھانا ہوگا۔ کم از کم اتنی رقم ہونی چاہیے جو ایک خاندان کے بنیادی اخراجات میں کچھ سہارا دے سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ شفاف نظام، آن لائن رجسٹریشن اور دیہی علاقوں میں موبائل سروس مراکز قائم کیے جائیں تاکہ خواتین کو ذلت آمیز دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
مزید برآں بے سہارا خواتین کے لیے ہنر مندی کی تربیت، سلائی کڑھائی مراکز، چھوٹے کاروبار کے لیے بلاسود قرضے، مفت علاج اور بچوں کی تعلیم کے خصوصی پروگرام متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح یہ خواتین مستقل بنیادوں پر خود کفیل ہو سکتی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ جموں و کشمیر میں بے سہارا خواتین کو محض ہمدردی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر کی موجودہ کارکردگی اور معمولی مالی امداد ان کے مسائل کے مقابلے میں نہایت ناکافی ہے۔ اگر اس صورتحال کو فوری طور پر بہتر نہ کیا گیا تو معاشرتی عدم مساوات مزید بڑھے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں بے سہارا خواتین کو واقعی سہارا دیا جائے، نہ کہ صرف کاغذی دعووں تک محدود رکھا جائے۔
[email protected]