حال و احوال
جی کیو کامران
کشمیر نہ صرف بے مثال قدرتی خوبصورتی اور دلکش اب و ہوا کے باعث دنیا بھر میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے بلکہ یہاں کی روایتی دستکاری اور فن کاری بھی اپنی نفاست میں بے مثال ہے، کاریگروں کی محنت اور تخلیقی جواہر سے تراشے گئے فن پارے نہ صرف کشمیر کی ثقافتی پہچان ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی یہاں کے مقامی فن کو ایک مایہ ناز اور پر وقار مقام عطا کرتے ہیں۔
یہاں کی روایتی دستکاریوں میں قالین بافی، شال بافی اور پیپر ماشی جیسے نفیس فنون کو اہمیت حاصل ہے۔ ان کے علاوہ اخروٹ کی لکڑی پر کی گئی باریک نقش و نگاری، نمدہ و گبہ سازی، کریوول کڑھائی ، مٹی کی روایتی برتن سازی، ویلو ورک (بید کی ٹوکریاںاور دیگر اشیاء بنانا) اور تانبے کے برتنوں پر کی گئی مینا کاری یہاں کے بے مثال ہنر اور تہذیب و تمدن کے وہ اعلیٰ فن پارے ہیں، جنہوں نے پوری دنیا کو گرویدہ بنا رکھا ہے۔
قالین بافی کشمیر کی صدیوں پرانی دستکاری ہے جسے سلطان زین العابدین بڈشاہ نے پندرویں صدی میں ایران سے متعارف کروایا ۔سلطان زین العابدین نے یہاں کے مقامی باشندوں کو اس فن میں تربیت دینے کے لئے ایران سے نامور اور ماہر کاریگروں کو کشمیر مدعو کیا، جس سے یہاں قالین بافی کے فن میں فارسی تکنیکوں اور مقامی مہارتوں کا حسین امتزاج پیدا ہوا اور کشمیری قالینوں کو بین الاقوامی سطح پر شہرت اور پزیرائی حاصل ہوئی۔
کشمیر میں قالین بافی کا فن ہاتھ سے بنے ہوئے اعلیٰ اونی اور ریشمی قالینوں کی صورت میں اپنی ایک جداگانہ اور امتیازی شناخت رکھتا ہے۔ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ کشمیر کی معیشت کا کلیدی ستون اور روزگار کا معتبر ذریعہ، یہ عظیم دستکاری آج کئی سنگین بحرانوں کی زد میں آکر دم توڑ رہی ہے۔ وادی کے ایک تجربہ کار دستکار علی محمد، اس فن کی زوال پذیری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک کاریگر دن بھر لوم پر بیٹھ کر سخت مشقت کرتا ہے، مگر اس کے صلے میں اسے محض 250 سے 300 روپے کی اجرت ہی مل پاتی ہے اور آج کے اس کمر توڑ مہنگائی کے دور میں اتنی قلیل آمدنی سے گھر کا چولہا جلانا انتہائی دشوار گذار ہے۔
کشمیر میں شال بافی کی تاریخ بھی صدیوں پر محیط ہے، جس نے پندرہویں صدی میں سلطان زین العابدین (بڈشاہ) کے عہدِ زریں میں بے پناہ فروغ پایا۔ سلطان نے وسطی ایشیا سے ماہر اساتذہ کو وادی مدعو کیا، جن کی زیرِ نگرانی مقامی ہنرمندوں نے اس فن کو عروج بخشا۔
کشمیری شالیں اپنی مادی ساخت اور ریشوں کے لحاظ سے بنیادی طور پر تین اقسام میں منقسم ہیں۔شاہ توس، پشمینہ اور رفل، شاہ توس سے بنا کشمیری شال سب سے بیش قیمت اور نایاب ترین شال ہے۔ اس کا ریشہ ‘تبتی بارہ سنگھے (Chiru) کے اون سے حاصل کیا جاتا ہے، جو 14,000 فٹ کی بلندی پر پایا جاتا ہے۔ اس کی نفاست کا عالم یہ ہے کہ ایک مکمل شال ایک چھوٹی سی انگوٹھی (رِنگ) کے اندر سے گزاری جا سکتی ہے، اسی بنا پر اسے ‘رِنگ شال بھی کہا جاتا ہے۔ پشمینہ سے تیار کردہ کشمیری شال اپنی نرمی اور گرمائش کے باعث عالمی شہرت رکھتا ہے۔رفل کا شال ‘میرینو بھیڑ کے اون سے تیار کیا جاتا ہے اور یہ اپنے پائیداری اور روزمرہ کے استعمال کے باعث بہت مقبول ہے۔ اسکے علاوہ کانی شال، یہاں کی فنی مہارت کا وہ شاہکار ہے جسے چھوٹی لکڑیوں (بون) کی مدد سے لوم پر ایک خاص تحریری ضابطے ‘تعلیم کے تحت بُنا جاتا ہے۔
کشمیر کی پیپر ماشی یا ‘کاریِ منقش ایک ایسا صدیوں پرانا فن ہے جو نفاست اور فنکارانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس دستکاری کے منفرد عمل میں کاغذ کے گودے کو نہایت مہارت سے تہوں کی صورت میں مختلف سانچوں پر چڑھایا جاتا ہے، جس کے بعد ہنرمند اپنے ہاتھوں کی ہنرمندی سے ان پر پرندوں، گل و بوٹے اور روایتی ‘کانی نقش کے پیچیدہ مگر دلکش نمونے شوخ اور قدرتی رنگوں سے منقش کرتے ہیں۔ اس فن کے ذریعے نہ صرف خوبصورت ڈبے، ٹرے اور گلدان جیسی آرائشی اشیاء تیار کی جاتی ہیں، بلکہ اب یہ ہنر جدید طرزِ زندگی کا حصہ بن کر گھروں کی دیواروں اور چھتوں پر بھی دیدہ زیب ڈیزائنوں کی صورت میں جلوہ گر ہے، جو کشمیری طرزِ تعمیر کو ایک خاص وقار بخشتا ہے۔
کشمیر کی اخروٹ کی لکڑی پر نقش و نگاری محض ایک دستکاری نہیں، بلکہ یہاں کی تہذیب و تمدن کا وہ درخشاں استعارہ ہے جس کی جڑیں صدیوں پرانی تاریخ میں پیوست ہیں۔ جب ایک ہنرمند اپنے تیشے اور چھینی سے اخروٹ کی لکڑی پر چنار کے پتے، گلاب کی نزاکت اور انگور کی بیلیں منقش کرتا ہے، تو یوں گمان ہوتا ہے جیسے اس نے لکڑی کے بے جان وجود میں روح پھونک دی ہو۔
کشمیر کی روایتی دستکاریوں میں نمدہ سازی اور گبہ سازی کو ایک زمانے میں کلیدی اہمیت حاصل تھی، مگر صد افسوس کہ آج یہ بیش بہا فنون اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسی طرح وادی کے دیگر قدیم فنی مظاہر، جن میں مٹی کی ظروف سازی (Pottery)، بید کی لکڑی کا نازک کام (ویلو ورک)، لوہے سے تیار کردہ روایتی اشیاء اور کریوول کڑھائی (Crewel Embroidery) کی سحر انگیزی شامل ہے، اب رفتہ رفتہ گمنامی کے اندھیروں میں کھوتے جا رہے ہیں۔ یہ فن پارے جو کبھی ہماری شناخت کا استعارہ تھے، انتظامیہ کی لاپرواہی اور کچھ کاریگروں اور تاجروں کے بددیانتی کے باعث دن بہ دن دم توڑ رہے ہیں۔
کشمیر کا صدیوں پرانا فنی ورثہ آج محض حادثاتی طور پر نہیں، بلکہ سنگین داخلی و خارجی عوامل کی بنا پر زوال کی ڈھلوان پر ہے۔ جہاں نامساعد حالات نے رسد و ترسیل (Supply Chain) کے نظام کو مفلوج کیا، وہیں مشین ساز نقلی مصنوعات کی بھرمار نے ہاتھ کے نفیس ہنر کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، قلیل اجرت، قدیم و متروک ڈیزائنوں پر انحصار اور استحصالی مڈل مین کے رویوں نے نئی نسل کو اس فن سے بدظن کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر معیار میں ملاوٹ اور بددیانتی نے نکال دی، جس سے ‘کشمیر برانڈ کی عالمی ساکھ مجروح ہوئی ہے۔
وادی کے معروف قلمکار اور ثقافتی نگہبان، ظریف احمد ظریف، اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’کشمیر کے پرانے دستکار محنتی، مخلص اور دیانت دار تھے۔ وہ اپنے کام کو عبادت سمجھتے اور فقر و فاقہ کے باوجود حلال رزق کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کے ہاں جوابدہی کا تصور موجود تھا۔‘‘ظریف صاحب کے مطابق، آج کی نوجوان نسل میں نہ وہ صبر رہا اور نا ہی ہنر سیکھنے وہ شوق جو ہمارے اسلاف کا خاصہ تھا۔ اسی بے چینی اور بے کاری کے نتیجے میں نوجوان نسل منشیات اور دیگر سماجی جرائم کی دلدل میں پھنستی جا رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ مشین نے دستکاری کو دھچکا دیا ہے، لیکن ہاتھ سے بنے معیاری فن پاروں کے قدردان آج بھی موجود ہیں۔ لہٰذا اس فن کی بقا کے لیے معیار کی بحالی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں دستکاری کا شعبہ روزگار کے حوالے سے انتہائی اہم ہے جو تقریباً 4 سے 5 لاکھ کاریگروں کی کفالت کرتا ہے 179 کرافٹ کلسٹرز کے ذریعے یہ صنعت ایک ہزار کروڑ سے زائد کی آمدنی فراہم کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی دم توڑتی دستکاریوں کو 2دوبارہ زندگی بخشنے کے لیے حکومتی سطح پر ہمہ جہت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کوششوں کا محور مہارت کی ترقی (اسکل ڈویلپمنٹ)، مارکیٹنگ کی سہولیات اور مصنوعات کی اصلیت کی تصدیق کے لیے GI ٹیگنگ اور QR کوڈنگ جیسے جدید نظام کا نفاذ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘پی ایم وشوکرما یوجنا، ‘کریڈٹ کارڈ اسکیم، ‘کارخانہ دار اسکیم اور ‘پردھان منتری ویورز مدرا یوجنا (PMMY) جیسی اسکیمیں بنکروں اور دستکاروں کو مالی طور پر بااختیار بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔تاہم ان کوششوں کے باوجود میدانِ عمل میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (KCCI) مسلسل دستکاروں کے حقوق اور اس صنعت کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ اس فن کو بچانے کے لیے ناگزیر ہے کہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے، دستکاروں کو معقول اجرت فراہم کی جائے اور درآمدی ڈیوٹی (Import Duties) میں اضافہ کیا جائے تاکہ مقامی صنعت کو بیرونی مقابلے سے تحفظ مل سکے۔
کشمیر کے مایہ ناز کاروباری اور کشمیری آرٹ کے سفیر منظور احمد وانگنو نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انتظامی سطح پر مزید شفافیت اور معیار کی بحالی پر زور دیا ہے۔ انھوں نے ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج ‘کشمیر برانڈ کے نام پر مارکیٹ میں فروخت ہونے والی 99 فیصد مصنوعات نقلی ہیں۔ اس دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے سخت مارکیٹ چیکنگ اور کڑی نگرانی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔‘‘منظور احمد وانگنو صاحب نے اپنی کامیابی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ دیانتداری اور معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے کا صلہ تھا کہ امریکی صدر بل کلنٹن نے نہ صرف دہلی میں واقع ان کے شو روم کا دورہ کیا بلکہ وہاں قیام کے دوران کشمیری شالوں اور قالینوں کی خریداری بھی کی۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ہم معیار اور دیانت کو مقدم رکھیں تو کشمیری مصنوعات آج بھی عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا سکتے ہیں۔
دستکاری کشمیر کی ثقافت کی اصل شناخت ہے۔ یہاں کی ہر تخلیق مہارت،صبر اور روایت سےجڑے ہاتھوں کا شاہکار ہے ،دنیا نے ہمیشہ کشمیر کی ہنرمندی کی ستائش کی ہے۔اب اسے محفوظ کرنا ہمارا فرض ہے۔آئیے ہم سب مقامی کاروبار کی حمایت کریں اور کشمیر کے اس عظیم ورثے کو زندہ رکھیں۔
(مدرس گورنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول زوہامہ چاڈورہ )