عظمیٰ ویب ڈیسک
لکھنؤ/اسپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی عبد الرحیم راتھر نے اُتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں منعقدہ 86ویں آل انڈیا پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس (AIPOC) 2026 سے خطاب کیا۔
اس موقع پر عبد الرحیم راتھر نے عوام کے تئیں مقننہ کی جوابدہی کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے قانون ساز اداروں کو مزید باخبر، ذمہ دار اور عوام دوست بنانے کے طریقۂ کار پر زور دیا۔
اپنے خطاب میں اسپیکر نے منوسمرتی اور قرآنِ مجید کے حوالہ جات پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے تئیں مقننہ کی جوابدہی کی جڑیں قدیم ہندوستانی جمہوری روایات میں پیوست ہیں، جہاں دھرم نے طرزِ حکمرانی کی رہنمائی کی اور سبھا و سمیتی جیسے اداروں کے ذریعے عوامی شمولیت کو یقینی بنایا گیا۔
ہندو مذہبی صحائف کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون ساز طاقت کے مالک نہیں بلکہ دھرم کے خادم ہوتے ہیں، اور مقننہ عوام کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لیے جوابدہ ہے۔
اسی طرح اسلام میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قانون ساز اپنے اختیارات کو انصاف، دیانت اور عوام کے تئیں ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔
اسپیکر نے کہا کہ آئین ایک ایسی مقننہ کا تصور پیش کرتا ہے جو شفاف، جوابدہ اور عوام کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ آئین مقننہ کو قوانین سازی، ایگزیکٹو کی نگرانی، عوامی اخراجات کی منظوری اور بحث و اختلاف کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنے کی بڑی ذمہ داری سونپتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں مقننہ محض قانون سازی کا ادارہ نہیں بلکہ عوام کی اجتماعی آواز، ضمیر اور ان کی خواہشات کی امین ہوتی ہے۔
عبد الرحیم راتھر نے کہا کہ مقننہ کی جوابدہی کا ایک اہم ذریعہ جامع، بامعنی اور باریک بینی سے جانچی گئی قانون سازی ہے۔ ایوان میں سنجیدہ اور باوقار بحث اس بات کا واضح پیغام دیتی ہے کہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، جبکہ عجلت میں اور مناسب مشاورت کے بغیر منظور کیے گئے قوانین عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں ـ
انہوں نے قانون ساز ایوانوں میں بڑھتی ہوئی بدنظمی، ہنگامہ آرائی اور گرتے ہوئے وقار پر عوامی تشویش کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگرچہ اختلافِ رائے جمہوریت کا لازمی جزو ہے، تاہم مسلسل خلل عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
اسپیکر نے مقننہ کی جوابدہی کے ایک اور اہم پہلو یعنی ایگزیکٹو کی مؤثر نگرانی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سوالات، توجہ دلاؤ نوٹس، کمیٹیوں کی کارروائیاں اور بجٹ کی جانچ محض رسمی اقدامات نہیں بلکہ عوامی مفاد کے تحفظ کے مؤثر ذرائع ہیں۔
ڈیجیٹل دور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوابدہی کے لیے شفافیت اور عوام سے براہِ راست رابطہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ لائیو ٹیلی کاسٹ، کھلے کمیٹی نظام، قابلِ رسائی قانون ساز ریکارڈ اور ٹیکنالوجی کا استعمال مقننہ اور عوام کے درمیان فاصلے کو کم کر سکتا ہے۔
اس موقع پر سیکریٹری جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی منوج کمار پنڈتا بھی اسپیکر کے ہمراہ موجود تھے۔
عبد الرحیم راتھرکا لکھنؤ میں 86ویں آل انڈیا پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس سے خطاب