عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/کشتواڑ کے بالائی علاقوں میں ملی ٹینٹوں کو پکڑنے کے لیے جاری بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن منگل کو تیسرے روز میں داخل ہو گیا، جس کے دوران کئی افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔یہ آپریشن اتوار کو چھاترو بیلٹ کے مندرال-سنگھ پورہ کے نزدیک سونار گاؤں میں شروع کیا گیا تھا، جہاں ایک جھڑپ میں ایک حوالدارجاں بحق ہوا تھا جبکہ سات دیگر زخمی ہو گئے۔ زخمی ہونے والوں کو زیادہ تر اس وقت چھروں کے زخم آئے جب چھپے ہوئے ملی ٹینٹوں نے اچانک دستی بم حملہ کیا۔ ملی ٹینٹ گھنے جنگلات میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تاہم ان کا مضبوط ٹھکانہ برآمد کر لیا گیا، جہاں موسمِ سرما کے لیے بڑی مقدار میں راشن، کھانے پینے کی اشیا، کمبل اور برتن موجود تھے۔
سینئر افسران، جن میں انسپکٹر جنرل آف پولیس بھیم سین ٹوٹی اور انسپکٹر جنرل سی آر پی ایف (جموں) آر گوپالا کرشنا راؤ شامل ہیں، جائے وقوعہ پر پہنچ کر متعدد فوجی افسران کے ہمراہ آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ادھر منگل کی صبح جموں میں حوالدار گجندر سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے سادگی کے ساتھ پھول چڑھانے کی تقریب منعقد کی گئی۔ ستواری میں ہونے والی اس تقریب کی قیادت بریگیڈیئر یدھوِیر سنگھ سیکھوان، آفیشیٹنگ چیف آف اسٹاف، وائٹ نائٹ کور نے کی، جس کے بعد میت آخری رسومات کے لیے اُن کے آبائی علاقے اتراکھنڈ روانہ کی گئی۔
اس موقع پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (جموں-کٹھوعہ-سانبہ رینج) شیو کمار شرما، ڈپٹی کمشنر جموں راکیش منہاس اور پولیس، سی آر پی ایف اور بی ایس ایف کے متعدد افسران بھی موجود تھے۔حکام کے مطابق پیر کی دوپہر کو، 12 ہزار فٹ سے زائد بلندی پر واقع ٹھکانے کی برآمدگی کے سلسلے میں کئی افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔ سکیورٹی فورسز ان اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کی شناخت کی کوشش کر رہی ہیں جنہوں نے ملی ٹینٹوں کو راشن، دالیں، برتن اور دیگر سامان کی فراہمی اور ترسیل میں مدد دی۔ برآمد شدہ سامان کم از کم چار افراد کے لیے پورے موسمِ سرما کی کفالت کے لیے کافی تھا۔
فوج کی وائٹ نائٹ کور نے پیر کو ایکس پر بتایا کہ چھاترو میں آپریشن ’’ترشی-ون‘‘جاری ہے۔ بیان میں کہا گیاگھیرا مزید سخت کر دیا گیا ہے اور سرچ آپریشن کو وسعت دی گئی ہے۔ کور کی فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ مل کر علاقے پر مکمل کنٹرول قائم رکھے ہوئے ہے۔حکام کے مطابق فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کی متعدد ٹیمیں، ڈرونز اور کھوجی کتوںکی مدد سے دشوار گزار علاقے میں تلاشی لے رہی ہیں، جہاں گھنی جھاڑیاں اور کھڑی ڈھلوانیں نقل و حرکت اور دید کو محدود کر رہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق پاکستان میں قائم تنظیم جیشِ محمد سے وابستہ دو سے تین ملی ٹینٹ علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یومِ جمہوریہ سے قبل جموں خطے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ پرامن تقریبات کو یقینی بنایا جا سکے، کیونکہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق پاکستان میں موجود ہینڈلرز خطے میں مزید ملی ٹینٹ داخل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ (ایجنسیز)