تجلیات ِ ادراک
ڈاکٹرعریف جامعی
بندۂ مؤمن ہر حال میں تقرب الہٰی کا متمنی رہتا ہے۔ ربّ تعالیٰ کی رحمت اگرچہ تمام عالمین کا احاطہ کیے ہوئے ہے، لیکن مؤمن اس رحمت سے اپنے آپ کو محسوس سطح پر نہال پاتا ہے۔ مؤمن کا لحظہ لحظہ انوار الہٰی سے مستنیر ہوتا ہے۔ دراصل اس کا وجود رب تعالی کی تجلّیات کا مہبط ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ربّ تعالیٰ کی کرشمہ سازیاں آفاق اور انفس میں محسوس کرتا ہے۔ آفاق میں خدا کی کرم نوازیاں اس کا حسیاتی مطالعہ ہوتا ہے، جبکہ انفس میں وہ خدا کی قدرت کو اس قلبِ روشن سے محسوس کرتا ہے جو اس کے سینے میں دھڑکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہی دل انسان کی اس شخصیت کا مسکن (محل) ہوتا ہے جو ’’نفخِ روح‘‘ کے ساتھ جلوہ زن ہوتی ہے، کیونکہ اس نفخ کے بعد ہی آدم ؑ مسجود ملائکہ قرار دیئے گئے: ’’پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، تو تم اس کے آگے سجدہ میں گر پڑنا۔‘‘ (الحجر، ۲۹)
اگرچہ ہر مؤمن کی یہ شدید تمنا ہوتی ہے کہ وہ خدا کی یافت کے احساس میں جئے، تاہم پیغمبران کرام علیہم السلام اپنی منصبی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے یہ چاہتے ہیں کہ وہ ربّ تعالیٰ کے ساتھ عبودیت کا کچھ اسی طرح کا تعلق قائم کرسکیں جس کا تجربہ ہر بندے کو ’’عہدِ الست‘‘ (الاعراف، ۱۷۲) کے وقت ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ انبیاء کرام ؑ کو یہ تجربات اس لئے کرائے جاتے ہیں تاکہ وہ اعتماد اور اطمینان کی اعلی ترین سطح پر دعوت حق کی ذمہ داری کو اپنے منطقی انجام (اتمام حجت) تک پہنچا سکیں۔ اس لئے رب تعالیٰ اپنی ان برگزیدہ ہستیوں کو اپنی آیات کا مشاہدہ کراتے رہتے ہیں۔ یہ مشاہدہ ان کے لئے باعث اطمینان بھی بنتا ہے اور اس میں ان کے لئے کامیابی کی نوید بھی پنہاں ہوتی ہے۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب بھی کسی انسان نے خدا کو دیکھنے پر اصرار کیا، تو اس کے سامنے یہ بات واضح کی گئی کہ ’’اگر خدا دکھائی دے تو ایمان بالغیب کی معنویت ختم ہو جائے گی!‘‘ اس بات کو قرآن نے اس طرح بصراحت بیان کیا ہے: ’’کیا لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام انتہا تک پہنچا دیا جائے، اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں۔‘‘ (البقرہ، ۲۱۰) اسی طرح جب بنی اسرائیل نے خدا کو دیکھنے کی ضد کی تو ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا، اس کو قرآن نے کچھ اس طرح سے بیان کیا ہے: ’’اور جب تم نے کہا! اے موسیٰ، ہم ہرگز تمہارا یقین نہ لائیں گے جب تک علانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں، تو تمہیں کڑک نے آلیا اور تم دیکھ رہے تھے۔‘‘ (البقرہ، ۵۵) خود سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے خدا کو دیکھنے کی تمنا کی، تو انہیں صاف طور پر کہا گیا کہ ایسا ممکن نہیں: ’’اور جب موسیٰ ہمارے وعدے کے وقت پر حاضر ہوا اور اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا، تو اس نے عرض کی: اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں۔‘‘ (اللہ نے) فرمایا: تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا، البتہ اس پہاڑ کی طرف دیکھ، یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا۔ پھر جب اس کے ربّ نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا تو اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گر گئے۔ پھر جب (موسیٰ کو) ہوش آیا تو عرض کی: تو پاک ہے، میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔‘‘ (الاعراف، ۱۴۳)
واضح ہوا کہ انسان ربّ تعالیٰ کا دیدار کرنے کی کسی نہ کسی سطح پر آرزو ضرور رکھتا ہے۔ تاہم اللہ تبارک و تعالی اپنی خاص حکمت کے تحت خود کو انسان کے سامنے ظاہر نہیں کرتا۔ محبت کی زبان میں بات کی جائے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ ’’خدا بندۂ مؤمن کا محبوب ہے اور محب محبوب کی جتنی آرزو رکھے اور ساتھ ساتھ اسے پانے کی جتنی جستجو کرتا رہے، اتنی ہی محبت پختہ سمجھی جائے گی!‘‘ اس جستجو بھری آرزو کے ساتھ مؤمن زندگی گزارتا ہے اور خدا کی محبت کے ثبوت کے لئے وضع کئے گئے ان اصولوں کی پاسداری بھی کرتا ہے: ’’کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا۔‘‘ (آل عمران، ۳۱) اس طرح مؤمن ’’موحدانہ محبت‘‘ کے اس آفاقی اصول کی جیتی جاگتی تصویر بن جاتا ہے جس کے تحت ’’مؤمنین کو خدا کے شدید محبّین قرار دیا دیا گیا ہے۔‘‘ (البقرہ، ۱۶۵) انہی محبّین کے چہرے ’’اس (قیامت کے) روز چمک رہے ہوں گے (اور وہ) اپنے ربّ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘ (القیامہ، ۲۲-۲۳)
غرض، مؤمنین کو خدا کی جس طرح آفاق اور انفس کی آیات یعنی نشانیوں کا مشاہدہ (حٰم السجدہ، ۵۳) عموماً کرایا جاتا ہے، اسی طرح اعلی ترین سطح پر اور اعلی ترین انتظام کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کو خصوصاً خدا اپنی آیات دکھاتا ہے۔ رسالت مآب ؐ پر چونکہ نبوت کا خاتمہ ہوا، اس لئے آپؐ کو رب تعالیٰ نے کچھ اس طرح سے اپنی نشانیاں دکھائیں جو تا ابد اس مشاہدے، جس کی آرزو اور جستجو انسان ابتدائے آفرینش سے کرتا آیا ہے، کی معراج قرار پائی۔ واضح رہے کہ نبیؐ نے عام الحزن، جس میں سیدہ خدیجہ اور ابو طالب کی وفات ہوئی اور ابو لہب بنو ہاشم کا سردار بنا، بنو ثقیف تک اسلام کی دعوت پہنچانے کے لئے طائف کا سفر کیا۔ تاہم اس قبیلے کے سرداروں، عبد یالیل، مسعود اور حبیب، نے صرف دعوت اسلام رد نہیں کی، بلکہ عرب کی مہمانداری کی روایت کے خلاف نبیؐ کو کچھ اس طرح کی اذیت پہنچائی جو آپؐ کی طائف سے واپسی پر اس دعا میں چھلکتی ہے: ’’اے خدا! میں تیرے ہی حضور میں اپنی ضعفِ قوت اور لاچاری اور لوگوں کی ایذا دہی کی شکایت کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین! تو ہی کمزوروں اور بیکسوں کا نگہبان اور محافظ ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے۔ تو مجھ کو کس کے سپرد کررہا ہے۔ کیا ایسے شخص کے جو مجھ سے ترش روی سے پیش آئے یا ایسے دشمن کے جس کو تو نے مجھ پر مسلط کیا ہو۔ اگر تیرا غضب مجھ پر نہیں ہے تو مجھ کو کوئی پروا نہیں۔ تیری عافیت بڑی وسیع ہے۔ میں تیرے اس نور کے ساتھ جس سے تو نے ظلمات کو روشن کیا ہے اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تو اپنا غضب و غصہ مجھ پر نازل فرمائے۔ نیکی اور بدی کی قوت نہیں مگر تیری توفیق کے ساتھ۔‘‘ (ابن ہشام)
رب تعالیٰ نے اپنے آخری نبیؐ کو دنیا والوں کی مہمان نوازی سے بے نیاز کرتے ہوئے آپؐ کو کس شان کے ساتھ اپنا مہمان بنایا، اس کا قرآن نے بڑی شان کے ساتھ بیان کیا ہے: ’’پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔‘‘ (بنی اسرائیل، ۱) آیت کے تتبع سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خداوند قدوس نے ان دونوں مساجد کو اپنی توحید کے بول بالا کے لئے خاص کردیا ہے۔ ابناءِ ابراہیم علیہ السلام میں سے انبیاء کرام علیہم السلام کی ایک بڑی تعداد نے بیت المقدس کو خدا کی تسبیح و تقدیس (عبادت) سے آباد رکھا، جبکہ خود آنجناب ابراہیمؑم اور اسمٰعیل ؑ نے کعبہ کو ’’دنیا کے بتکدوں میں خدا کے واحد گھر‘‘ کی شکل دی۔ نبی ؐ کی بعثت کے ذریعے ربّ تعالیٰ نے توحید کے ان گھروں کو آپس میں ملایا! معراج کے موقع پر خانۂ کعبہ سے اٹھا کر نبی ؐ کو ’’بیت المقدس کے بابرکت ماحول کی سیر اور مشاہدہ کرانا‘‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایک طرف انبیائی مشن اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اور دوسری طرف یہ اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ جماعتِ انبیاء دراصل جماعتِ واحد ہے جسے انسانیت کو راہ راست پر قائم رکھنے کے لئے برپا کیا گیا۔ بفحوائے الفاظ قرآنی:’’تمہاری (یعنی انبیاء کی) جو امت ہے، وہ حقیقت میں ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا پروردگار ہوں، پس تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ (الانبیاء، ۹۲)
واضح رہے کہ خدا کے برگزیدہ پیغمبروں کی کارگزاریوں کو جس وحدت سے معراج النبیؐ ہمارے سامنے پیش کرتا ہے، اس کے اشارات قرآن مختلف پیرایوں میں پیش کرتا ہے۔ سورہ التین میں جہاں ’’تین اور زیتون‘‘ شام و فلسطین یعنی مختلف انبیاء کے وطن کو ظاہر کرتے ہیں اور ’’طور سینین‘‘ (طور سیناء، کوہ طور) اس مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں سیدنا موسیٰ ؑکو نبوت دی گئی، وہاں ’’بلد الامین‘‘ مکہ مکرمہ کو سیدنا ابراہیم ؑو سیدنا اسمٰعیل ؑاور آخر پر محمدؐ کی دین توحید کے لئے سعی و جہد کے استعارے کے طور پر پیش کرتا ہے۔
تاہم منصبِ نبوت کے لئے تیقن کی وہ سطح درکار ہوتی ہے جو عام مفکرین سے بہت اعلی و ارفع ہو۔ صاحب تفہیم القرآن کے مطابق: ’’انبیاء علیہم السلام میں سے ہر ایک کو اللہ تعالی نے ان کے منصب کی مناسبت سے ملکوت سمٰوات و ارض کا مشاہدہ کرایا ہے اور مادی حجابات بیچ میں سے ہٹاکر آنکھوں سے وہ حقیقتیں دکھائی ہیں جن پر ایمان بالغیب لانے کی دعوت دینے پر وہ مامور کیے گئے تھے، تاکہ ان کا مقام ایک فلسفی کے مقام سے بالکل ممیّز ہوجائے۔ فلسفی جو کچھ بھی کہتا ہے قیاس اور گمان سے کہتا ہے، وہ خود اگر اپنی حیثیت سے واقف ہو تو کبھی اپنی کسی رائے پر شہادت نہ دے گا۔ مگر انبیاء جو کچھ کہتے ہیں، وہ براہ راست علم اور مشاہدے کی بنا پر کہتے ہیں۔‘‘
معراج کے دوران رب تعالی نے نبی ؐ کو کس طرح اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کرایا، اس کا تفصیلی ذکر سورہ النجم میں کیا گیا ہے: ’’جو کچھ انہوں نے دیکھا، ان کے دل نے اسے جھٹلایا نہیں۔ کیا تم اس چیز پر ان سے جھگڑتے ہو جو وہ (اپنی آنکھوں سے) دیکھتے ہیں؟ اور انہوں نے تو اس (فرشتہ) کو دوسری بار دیکھا ہے، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے۔ جب کہ سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ (یعنی نور) چھا رہا تھا۔نہ تو ان کی آنکھ دھوکا کھا گئی اور نہ وہ حد سے آگے بڑھی۔ انہوں نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں دیکھیں۔‘‘ (النجم، ۱۱-۱۸)
انبیاء کرام علیہم السلام کے متبعین میں صدیقین کے ساتھ ساتھ شہداء بھی ہوتے ہیں اور صالحین بھی۔ ظاہر ہے کہ صالحین غیب کے ان مشاہدات پر انبیاء کی خبر پر ایمان لاکر اس کے مطابق اپنی زندگی کو تشکیل دیتے ہیں۔ شہداء ان حقائق پر مبنی نظریۂ حیات پر شہادت دیتے دیتے اپنی جان تک وار دیتے ہیں۔ تاہم صدیقین کس طرح مقام صدیقیت پر فائز ہوتے ہیں، اس کا تذکرہ احادیث میں کچھ اس طرح ملتا ہے: ’’بہت سے لوگ حضرت ابوبکر صدیق کے پاس جمع ہوئے اور کہا، اے ابوبکر! تم نے بھی سنا کہ تمہارے دوست کہہ رہے ہیں کہ میں آج رات بیت المقدس گیا اور وہاں سے مکہ میں آبھی گیا۔(حضرت ابوبکر نے کہا) تم لوگ اس بات سے تعجب کیوں کرتے ہو۔ قسم ہے خدا کی انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ ان کے پاس آسمان سے زمین پر وحی ایک آنِ واحد میں آجاتی ہے اور میں نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور یہ بات اس بات سے جس پر تم تعجب کررہے ہو زیادہ بعید از قیاس نہیں ہے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق حضور ؐ کی خدمت میں آئے۔ آپؐ نے بیان ختم کیا اور فرمایا، اے ابوبکر! تم صدّیق ہو، پس اس روز سے ابوبکر کا نام صدّیق ہوگیا۔‘‘ (ابن ہشام)
(مضمون نگار محکمۂ اعلی تعلیم میں اسلامک اسٹڈیز کے سینئر اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
رابطہ۔ 9858471965
[email protected]