ماسٹر طارق ابراہیم سوہل
انہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں
زباں میری ہے بات ا ن کی
انہی کی محفل سنوارتا ہوں
چراغ میرا ہے رات ان کی
(اکبر آلہ آبادی)
مدت سے فکر دامنگیر ہے کہ کس طرح ہر پیر و جواں اور خورد کلاں، تضیع اوقات میں حیات مستعار کے اس قیمتی اثاثے کو لا حاصل کاموں میں ضائع کرنے میں قطعی کوئی عار محسوس نہیں کر رہا۔دور حاضر کی ایک نمائندہ تخلیق یعنی موبائل فون نے جہاں انسانی آسائش کے لئے راہیں ہموار کر دیں ہیں تو وہیں دوسری جانب اسکے غیر اخلاقی استعمال نے انسانی فطرت کو بگاڑ کر جرائم کی دنیا کی حدود کو وسیع تر کردیا ہے ۔ ہمہ وقت موبائل سے چمٹ کر رہنے والے حضرات کو موبائل کے استعمال نے جسمانی طور معذور اور ذہنی طور مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ موبائل کے بے دریغ اور بلا ناغہ استعمال کو زندگی کا مقصد سمجھ لیا گیا ہے۔یوں موبائل کے گرویدہ پروانوں کا ایک لشکر جرار تیار ہو چکا جو اسکے شعلوں میں دیوانہ وار زندگی کی بازی ہارنے کے لئے آمادہ نظر آ رہا ہے۔
موبائل کے اس بلا ناغہ اور مسلسل استعمال سے جہاں جسمانی امراض کا اندیشہ لا حق ہے وہیں اخلاقی تنزل کا مرض بڑی سرعت سے پھیل رہا ہے ۔ بڑی مدت سے مشاہدے میں آ رہا ہے کہ موبائل فون کو دنیا بھر میں، بڑے پیمانے پے دھوکہ دہی اور تخریب کاری کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ عورت اور دولت اسکے اہداف ہیں ۔
موبائل کے ناجائز استعمالات کا احاطہ مقصود نہیں ہے صرف اتنا بتا دینا کافی ہے کہ اسکا نشہ اتنا نہ بڑھ جائے کہ ہمارے بیش گراں لمحات زندگی یوں گذر نہ جائیں کہ محسوس بھی نہ ہو۔
اس دلدل سے نکلنے کے لئے معاشرے کے ذمہ دار افراد کے کردار میں تبدیلی نا گزیر ہے۔اگر اسکول کے استاد، مسجد کے امام، گھر کے مالک اور والدین کے ہاتھ سے موبائل فون چپک کر رہے تو نوجوان نسل کے لئے کوئی نمونہ بچتا ہی نہیں۔زندگی کا اصل مقصد واضح کرنے کی غرض سے بحر العلوم علامہ اقبال کی تصنیف زبور عجم سے ایک شعر بزبان فارسی:
لالہ صحرائی از طرف خیابانم برید
در ہوا دشت و کہسار و بیابان برید
یعنی انسان اپنی اصل(خدا) سے سے جدا ہو گیا ہے اور اسکا فرض منصبی (مقصد حیات) ہے کہ وہ اپنی اصل کی طرف رجوع کرے۔مکروہات دنیوی میں پھنس کر انسان اپنی اصل سے غافل اور مقصد سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔انسان کی روح زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ میں لالہ گلشن نہیں بلکہ صحرائ ہوں، اس لئے مجھے خیابان(دنیا) سے نکال کر دشت و کہسار(عالم لاہوت) کی فضاء میں پہنچا دو۔لیکن ہم نے یہاں آ کر کون سے اوصاف اپنائے، اسکی مجمل سی وضاحت علامہ اقبال کے اس شعر کی مدد سے
روبہی آموختم از خویش دور افتادہ ام
چاره پروازں ! بآغوش نیستانم بعید
ہم نے روبہی یعنی مکر و فریب سیکھا تاکہ زر، زن اور زمین کو حاصل کر سکیں۔مکاری کے اس عمل نے ہماری سوچ کو گہنا دیا اور محاسبہ کی فکر ہمارے دل و دماغ سے نکل گئی۔ ناز تو ہمیں ضرور ہے کہ ہم اشرف المخلوقات ہے مگر نفس امارہ کی یلغار نے ہمیں رب ذوالجلال کا باغی بنا دیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اعمال کا احتساب کریں، اپنی حقیقت کو پہچانے اور زندگی کے سنہری لمحات کی قدردانی کریں کیونکہ وقت ایک بہتے ہوئے دریا کی طرح ہے ۔
تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پے عیاں ہو جا
خودی کا ترجمان ہو جا خدا کا رازداں ہو جا (اقبال)
(رابطہ۔9858018662.)