عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر اور کولگام اسمبلی حلقے سے رکنِ اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے جمعرات کو کہا کہ کشمیر میں مساجد کی پروفائلنگ ’’بلاجواز‘‘ہے کیونکہ اس سے پہلے سے موجود بے چینی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو کسی مخصوص برادری کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے یا ان پر کنٹرول کرنے سے باز رہنا چاہیے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات مذہبی امور میں مداخلت کے مترادف ہیں اور مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت کو کمزور کرتے ہیں۔ تاریگامی نے کہا، ایسے اقدامات صرف بیگانگی کو گہرا کرتے ہیں اور عوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔
سماجی رابطہ گاہ ایکس پر ایک پوسٹ میں محمد یوسف تاریگامی نے لکھا، ’’کشمیر میں مساجد کی پروفائلنگ بلاجواز ہے کیونکہ اس سے موجودہ بے چینی میں ایک اور سطح کا اضافہ ہوتا ہے۔ حکام کو کسی مخصوص برادری کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے یا ان پر کنٹرول کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ایسے اقدامات مذہبی امور میں مداخلت ہیں اور مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات صرف بیگانگی کو بڑھاتے اور عوامی اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔‘‘
کسی مخصوص برادری کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے: محمد یوسف تاریگامی