عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کو ایران میں موجود طلبہ، جن میں کشمیری طلبہ بھی شامل ہیں، کی محفوظ واپسی کے لیے مرکزی حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ یہ بیان ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب ایران میں زیرِ تعلیم متعدد کشمیری طلبہ کے والدین نے وہاں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکز سے اپنے بچوں کی وطن واپسی میں مدد کی درخواست کی تھی۔
محبو بہ مفتی نے سماجی رابطہ گاہ ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا،ملک بھر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبہ، جن میں کشمیر کے طلبہ بھی شامل ہیں، ایران میں موجودہ غیر مستحکم صورتحال کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے والدین میں شدید خوف اور اضطراب پیدا کر دیا ہے، جو اپنے بچوں کی سلامتی کے حوالے سے سخت پریشان ہیں۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ’’میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور وزارتِ خارجہ سے اپیل کرتی ہوں کہ فوری مداخلت کریں اور طلبہ کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائیں۔‘‘
اندازوں کے مطابق اس وقت ایران میں 10 ہزار سے زائد بھارتی شہری، جن میں طلبہ بھی شامل ہیں، مقیم ہیں۔دریں اثنا، تہران میں بھارتی سفارت خانے نے ایک تازہ ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے تمام بھارتی شہریوں، بشمول طلبہ، زائرین، تاجر اور سیاحوں، سے کہا ہے کہ وہ کمرشل پروازوں سمیت دستیاب ذرائع آمد و رفت کے ذریعے ایران چھوڑ دیں۔
واضح رہے کہ ایران میں مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ کے آخر میں تہران میں ہوا تھا، جب ایرانی کرنسی ریال ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یہ مظاہرے بعد ازاں ملک کے تمام 31 صوبوں میں پھیل گئے اور معاشی مسائل کے خلاف احتجاج سے بڑھ کر سیاسی تبدیلی کے مطالبے میں تبدیل ہو گئے۔
ایران میں پھنسے طلبہ کی محفوظ واپسی کے لیےمحبوبہ مفتی کی مرکز سے مداخلت کی اپیل