عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما اور رکنِ اسمبلی وحید پرہ نے منگل کے روز الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 311 کا منتخب انداز میں غلط استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ ملک کے کسی اور حصے میں اس طرح کے اقدامات دیکھنے کو نہیں ملتے۔سرکاری ملازمین کی برطرفیوں پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے وحید پرہ نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر قانون صرف کشمیر میں ہی نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ قانونی ضابطہ ٔ کار (ڈیو پراسس) کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس طرزِ عمل پر سوال اٹھایا کہ بغیر مکمل تحقیقات کے ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیا جا رہا ہے۔
وحید پرہ نے کہا، ’’تحقیقات مکمل کیے بغیر اور حقائق ثابت کیے بغیر ملازمین کو برطرف کرنا ناانصافی اور من مانی ہے۔ آخر کیوں پہلے تحقیقات مکمل نہیں کی جاتیں؟‘‘انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں ملازمین کو پہلے ہی برطرف کیا جا چکا ہے اور اس طرح کے اقدامات سے یہ پیغام جا رہا ہے کہ لوگوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، جو مزید بیگانگی اور عدم اعتماد کو جنم دے سکتا ہے۔پی ڈی پی رہنما نے مبینہ پروفائلنگ اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی بھی مذہب کو کسی بہانے نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد اور علما کی پروفائلنگ غلط ہے اور اس سے سماج میں موجود خلیج مزید گہری ہوگی۔
وحید پرہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مساجد اور مذہبی مبلغین کی پروفائلنگ سے متعلق جاری کردہ سرکلر کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور اس عمل کو فوراً ختم کیا جائے، کیونکہ ایسے اقدامات سماجی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہم ان اقدامات کی مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ امن اور اعتماد کے وسیع تر مفاد میں اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرے۔‘‘
’جموں و کشمیر میں آرٹیکل 311 کا منتخب طریقے سے غلط استعمال‘: وحید پرہ