سید مصطفیٰ احمد
منشیات کا غلط استعمال کسی دوائی یا نشے کا ایسا منظم اور بار بار استعمال ہے جس میں فرد خود اپنی یا دوسروں کی صحت کو نقصان پہنچانے والے طریقے یا مقدار میں اسے استعمال کرتا ہے۔ منشیات کا استعمال معاشرتی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے اور اکثر یہ جنسی، گھریلو اور بچوں پر ہونے والے تشدد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور بھارت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ ہمارے ملک کے بعض حصوں میں منشیات کا انحصار ایک بڑا سماجی مسئلہ بن چکا ہے چونکہ بھارت ’’گولڈن کریسنٹ‘‘ (افغانستان، ایران اور پاکستان) اور ’’گولڈن ٹرائی اینگل‘‘(میانمار، لاؤس اور تھائی لینڈ) کے قریب واقع ہے، اس لیے یہاں منشیات کی اسمگلنگ آسانی سے ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نقصان دہ منشیات بآسانی دستیاب ہیں۔جو استعمال ابتدا میں میٹرو شہروں کے چند امیر نوجوانوں تک محدود تھا، آج معاشرے کے ہر طبقے میں پھیل چکا ہے۔ بھارت میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی منشیات بھنگ، ہیروئن اور اندرونِ ملک تیار کی جانے والی دوائیں ہیں۔ الکحل اور تمباکو ملک میں سب سے زیادہ عام نشہ آور اشیاء ہیں۔ نشہ آور دواؤں پر مشتمل فارماسیوٹیکل مصنوعات کا غلط استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ منشیات کے خلاف عالمی بیداری کے لیے ہر سال 26 جون کو ’’منشیات اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن کی بنیاد 7 دسمبر 1987 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد سے رکھی گئی تھی تاکہ بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کر کے دنیا کو منشیات سے پاک بنایا جا سکے۔ سال 2019 کے لیے اس دن کا موضوع ’’صحت برائے انصاف، انصاف برائے صحت ‘‘تھا، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ منشیات سے متعلق مسائل کے حل میں انصاف اور صحت ایک دوسرے کے تکمیلی پہلو ہیں۔
منشیات کے غلط استعمال کی ایک اہم وجہ ان کی ملک کے ہر کونے میں آسانی سے دستیابی ہے۔ کبھی کبھار فلموں میں منشیات کو رومانوی انداز میں دکھایا جاتا ہے جو نوجوانوں کے لیے پرکشش بن جاتا ہے۔ نوجوان اپنی عمر اور تجربے کی کمی کی وجہ سے اس دھوکے میں آجاتے ہیں۔ مناسب مشاورت نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی نفسیاتی کشمکش میں اکیلے رہ جاتے ہیں۔ اس کمی کو دُور کرنے کے لیے ماہرِ نفسیات اور مشیران کی سخت ضرورت ہے، مگر بدقسمتی سے ان کی شدید کمی ہے۔تعلیمی نظام کی سختی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ ہزاروں طلبہ خودکشی کر لیتے ہیں کیونکہ تعلیم میں عملی زندگی سے متعلق کوئی رہنمائی نہیں ملتی۔ خواب بکھر جاتے ہیں، مایوسی بڑھتی ہے اور وہ منشیات میں سکون تلاش کرتے ہیں۔ تعلیم کا مقصد ایسے انسان پیدا کرنا ہونا چاہیے جو عملی زندگی کے مسائل کا سامنا کر سکیں۔ مگر نصاب اور حقیقی زندگی کے درمیان موجود خلا انہیں غیر مطمئن کر دیتا ہے۔عشق و محبت کے رشتوں کی ناکامی بھی نوجوانوں میں منشیات کے رجحان کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح فلموں میں نشے کی تشہیر نوجوان ذہنوں پر تباہ کن اثر چھوڑتی ہے۔ دوستوں کے دباؤ میں آ کر وہ منشیات آزمانے لگتے ہیں۔ انہیں نظر انداز کرنے یا ڈانٹنے سے وہ مزید تنہائی میں چلے جاتے ہیں، جو بالآخر تباہی کا راستہ ہے۔منشیات کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان دماغ پر پڑتا ہے جو انسانی جسم کے تمام افعال کو متاثر کرتا ہے۔ منشیات دماغ کے اعصابی نظام میں قدرتی کیمیائی توازن کو بگاڑ دیتی ہیں۔ ہیروئن اور چرس جیسی منشیات دماغ کے خلیوں میں موجود نیوروٹرانسمیٹرز کی جگہ لے کر غلط پیغامات بھیجتی ہیں، جبکہ کوکین جیسی منشیات ان مادوں کی بے تحاشا مقدار خارج کر کے دماغی توازن کو برباد کر دیتی ہیں۔ اس سے انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت تباہ ہو جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ فرد اپنے خاندان، رشتہ داروں اور معاشرت پر بھی بوجھ بن جاتا ہے۔ مالی تباہی، چوری اور معاشرتی بدامنی اس کے براہِ راست نتائج ہیں۔ امید کی کرن ختم ہو جاتی ہے اور پورا معاشرہ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔
ہمیں بحیثیت ِ قوم ان افراد کی رہنمائی اور ہمدردی سے مدد کرنی چاہیے۔اس لعنت سے بچاؤ کے لیے سب سے مؤثر طریقہ ’’روک تھام‘‘ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے بروقت رہنمائی کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔ خاندان، اسکول اور کمیونٹی کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ ذرائع ابلاغ کو منشیات کو پرکشش بنانے کے بجائے اس کے نقصانات اجاگر کرنے چاہئیں۔ فلموں میں اس کے تباہ کن نتائج دکھانے چاہئیں۔ طلبہ کو شروع سے ہی منشیات سے نفرت اور پرہیز سکھانےچاہئیں۔جہاں منشیات اُگتی ہیں، ان فصلوں کو تباہ کیاجاناچاہئے۔ اسمگلروں اور فروخت کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں نافذ کی جائیں۔ ایسے دکانداروں کے لائسنس منسوخ کئے جائیں جو ان دواؤں کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ہوں۔ حکومت کو عوام کے ساتھ تعاون کر کے اس لعنت کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ والدین، اساتذہ اور مذہبی رہنما اس جدوجہد میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
( مضمون کو تحریر کرتے وقت ہندوستان کے مؤقر میگزینز سے استفادہ کیا گیا)