عظمیٰ ویب ڈیسک
کرناہ//کنڈی کرناہ میں گزشتہ رات آگ کی ایک تباہ کن واردات پیش آئی جس میں تین رہائشی مکان مکمل طور پر خاکستر ہو گئے۔
متاثرہ مکانات خالد قریشی، فاروق قریشی اور دانش قریشی کے تھے۔قاضی محلہ کنڈی میں آگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ گھروں میں موجود کوئی بھی سامان محفوظ نہ رہ سکا اور تمام گھریلو اشیاء، کپڑے، زیورات، الیکٹرانکس، بستر، راشن اور ضروری دستاویزات لمحوں میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ رات تقریباً بارہ بج کر پچاس منٹ پر دانش احمد قریشی ولد عبدالقیوم قریشی کے مکان سے اچانک بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے دو دیگر گھروں تک پھیل گئی، جس کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہو گئی۔
مقامی لوگ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوششیں شروع کیں، تاہم شعلوں نے شدت اختیار کر لی اور صورتحال قابو سے باہر ہوتی چلی گئی۔
اس دوران تین مکان اور دو گائو خانے تباہ ہوئے، گائو خانوں میں جانور جن میں دودھ دینے والی گائیں اور مرغ وغیرہ زندہ جل گئے ۔مقامی آبادی نے محکمہ فائر سروس پر سخت غفلت اور لاپرواہی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ فائر ٹینڈر ایک گھنٹے کی تاخیر سے جائے حادثہ پر پہنچے اور جب پہنچے تو گاڑیوں میں پانی کی واضح کمی تھی، جبکہ ہوز پائپ میں دباؤ نہ ہونے کے برابر تھا۔
عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ فائر اسٹیشن جائے حادثہ سے صرف دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اس کے باوجود محکمہ بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہا۔
علاقے کے لوگوں نے اس امر پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا کہ محکمہ فائر سروس کی جانب سے گاڑیوں کی خراب حالت اور انجن کی خرابی کی شکایات نئی نہیں ہیں۔ متعدد بار مطالبات کے باوجود کرناہ میں مطلوبہ تعداد میں فائر اسٹیشن قائم نہیں کیے گئے، نہ ہی اضافی عملہ تعینات کیا گیا اور حکومت مسلسل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
اس دوران محکمہ فائر سروس کا ایک ملازم ڈیوٹی کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے بے ہوش ہو گیا، جسے فوری طور پر سب ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا گیا۔تاہم اس کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے ۔آگ کے پھیلاؤ اور بڑھتے ہوئے نقصان کی اطلاع جب بریگیڈ کمانڈر 104 انفنٹری برگیڈ تک پہنچی تو فوج کی چار کمپنی سمیت تین کمپنیوں کے تقریباً ایک سو جوان جائے وقوعہ پر روانہ کیے۔
فوج نے مقامی لوگوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر صبح پانچ بجے تک مسلسل کارروائی جاری رکھی اور آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہوئی۔
عوام نے فوج کی بروقت اور مؤثر کارروائی کو قابلِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ اگر فوج نہ پہنچتی تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔آگ کی اس ہولناک واردات کے دوران ایک دلخراش سانحہ بھی پیش آیا، جب ایک بزرگ شہری شدید منظر دیکھ کر دل کا دورہ پڑنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
آگ نے دو قریبی گاؤ خانے بھی اپنی لپیٹ میں لے لیے جن میں موجود چند مویشی زندہ جل کر ہلاک ہو گئے، جس سے متاثرہ خاندانوں کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق متاثرہ خاندان مکمل طور پر بے سہارا ہو چکے ہیں اور شدید سردی کے موسم میں پہننے کے کپڑے تک ان کے پاس نہیں بچے۔
عوام نے ضلعی انتظامیہ اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کو فوری اور معقول مالی امداد فراہم کی جائے، سرد موسم کے پیش نظر عارضی رہائش کا انتظام کیا جائے اور محکمہ فائر سروس کی مبینہ غفلت کی اعلیٰ سطحی تحقیقات عمل میں لائی جائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
کنڈی کرناہ میں شبانہ آتشزدگی، تین رہائشی مکانات خاکستر، دل کا دورہ پڑنے سے برزگ شہری جاں بحق