عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/نیشنل کانفرنس کے رہنما تنویر صادق نے ہفتہ کے روز الزام عائد کیا کہ شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی اور اس کے میڈیکل کالج سے متعلق جاری تنازعے پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ایک ہی زبان بول رہی ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے تنویر صادق نے کہا کہ بی جے پی کی کارروائیوں کے باعث طلبہ کے کیریئر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ پی ڈی پی قیادت ایک حساس تعلیمی معاملے پر سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بی جے پی جیسی جماعت طلبا کے مستقبل کو تباہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے دہلی جا کر ایک میڈیکل کالج کو بند کرانے کی کوشش کی ہو، جسے انہوں نے طلبہ اور ان کے اہل خانہ کے لیے نہایت نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پی ڈی پی بھی طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہونے کے بجائے اس معاملے پر سیاست کر رہی ہے۔تنویر صادق نے مزید الزام لگایا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی ایک سیاسی قوت کے طور پر مرحوم مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی کی پالیسیوں اور اقدامات کے باعث ابھری۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کا جائزہ لیتے وقت عوام کو اس سیاسی تاریخ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جموں کے عوام میڈیکل کالج کی بندش کے خلاف ہیں اور یہ صرف چند حاشیائی عناصر ہیں جو گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابقتمام والدین اپنے بچوں کا روشن مستقبل چاہتے ہیں اور کوئی بھی تعلیمی ادارے کی بندش کی حمایت نہیں کرتا۔
نیشنل کانفرنس کے رہنما نے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں کو آگے بڑھانے والوں کو بالآخر پچھتانا پڑے گا اور انہوں نے جموں کے عوام سے اپیل کی کہ وہ دانشمندی سے ووٹ دیں۔ 2019 کے بعد کی سیاسی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ واقعات پہلے ہی رونما ہو چکے ہیں اور تفرقہ انگیز بیانات سے گریز کرنے کی تلقین کی۔انہوں نے تقسیم کی بات کرنے والے بعض رہنماؤں کے بیانات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے بیانات سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور تعلیم و روزگار جیسے اصل مسائل سے توجہ ہٹاتے ہیں۔
تنویر صادق کی پی ڈی پی اور بھاجپا پر شدید تنقید،کہا دونوں جماعتیں ایک ہی زبان بول رہے ہیں