عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/سپریم کورٹ آف انڈیا نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا ہے جس میں تقریباً دو دہائیاں قبل مشتہر کیے گئے جیل وارڈرز کی بھرتی کے طویل عرصے سے زیرِ التوا عمل کو مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کی جانب سے دائر خصوصی اجازتِ عرضداشت (ایس ایل پی) کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے اور حکم میں مداخلت کے خواہاں نہیں ہیں۔ بنچ نے کہاخصوصی اجازتِ عرضداشتیں مسترد کی جاتی ہیں، اور تمام زیرِ التوا درخواستوں کو نمٹا دیا۔
یہ ایس ایل پی 21دسمبر 2023 کے اس فیصلے سے متعلق تھی جو جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے دیا تھا، جس میں سنٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (کیٹ) کے اس حکم کو برقرار رکھا گیا تھا جس کے ذریعے 2005 میں جیل محکمہ میں وارڈرز کی 73 اسامیوں پر ہونے والی بھرتی کے عمل کی منسوخی کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
اپنے تفصیلی فیصلے میں ہائی کورٹ نے حکام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ انہوں نے بھرتی کے عمل کے خاصے آگے بڑھ جانے کے باوجود اسے منسوخ کیا اور کئی برسوں تک اسامیوں کو خالی رکھا۔ جسٹس تاشی ربستان اور جسٹس راجیش سیکھری پر مشتمل بنچ نے نوٹ کیا تھا کہ اشتہار کے بعد اہل امیدواروں نے درخواستیں دیں، 2010 میں جسمانی اور آؤٹ ڈور ٹیسٹ پاس کیے، جنوری 2011 میں تحریری (لٹریسی) ٹیسٹ اور دستاویزات کی جانچ بھی مکمل ہوئی، اس کے باوجود حتمی نتائج کبھی جاری نہیں کیے گئے۔
جسٹس ربستان کی قیادت والی بنچ نے مشاہدہ کیا کہ حکام نے اس معاملے کو13 سال سے زائد عرصے تک لٹکائے رکھااور بالآخر فروری 2019 میں مبینہ طریقۂ کار کی بے ضابطگیوں کا حوالہ دے کر پورا انتخابی عمل منسوخ کر دیا۔ حکومت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ محکمۂ قانون نے بھی دو مرتبہ مشورہ دیا تھا کہ جب انتخابی عمل اس مرحلے تک پہنچ جائے تو اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔
عدالت نے کہاجب انتخابی عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہو تو حکام سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اتنے طویل عرصے بعد، اور وہ بھی اس وقت جب اسامیاں 2005 سے خالی ہوں، من مانی کرتے ہوئے اسے منسوخ کر دیں۔بنچ نے مزید کہا کہ اگر کوئی طریقۂ کار کی خامیاں تھیں بھی تو انہیں پورا عمل منسوخ کیے بغیر درست کیا جا سکتا تھا، اور امیدواروں کے خلاف کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی، بدعنوانی یا ناجائز طریقوں کے استعمال کا کوئی الزام نہیں تھا۔
تقریباً دو دہائیوں سے انتظار کرنے والے امیدواروں کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائی کورٹ نے حکام کو ہدایت دی تھی کہ تین ماہ کے اندر انتخابی عمل مکمل کیا جائے اور ’’ہمدردانہ رویہ‘‘اختیار کیا جائے، کیونکہ زیادہ تر امیدوار عمر کی حد عبور کر چکے ہیں اور چونکہ اسامیاں 2005 میں مشتہر ہوئی تھیں، اس لیے ان کے پاس کسی اور ملازمت کا کوئی موقع نہیں بچا۔سپریم کورٹ کی جانب سے مداخلت سے انکار کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی ہدایات کو حتمی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر جیل محکمہ میں طویل عرصے سے رکی ہوئی بھرتی کے عمل کی تکمیل کی راہ صاف ہو گئی ہے۔
دو دہائیوں بعد انصاف: جیل وارڈرز بھرتی کیس میں سپریم کورٹ کی مداخلت سے انکار