گلفام بارجی
آل انڈیا ریڈیو سرینگر سے نشر ہونے والے مقبول عام پروگرام شہر بین کی ایک منفرد نشریاتی آواز سے لاکھوں مداحوں کے دلوں پر راج کرنے والی شخصیت محمد حسین ظفر نے اردو افسانوں کے قارئین کے دلوں پر بھی نہ مٹنے والے نقوش چھوڑدئے ہیں۔ حال ہی میں اُن کا پہلا اردو افسانوی مجموعہ ’’شریفوں کا محلہ ‘‘منظر عام پر آیاہے۔جس کی
رسم رونمائی کی تقریب سرینگر کے ٹائیگورہال میں ہوئی۔ تقریب میں لوگوں کی بھاری شرکت نے ادبی حلقوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیامحمد حسین ظفر کو آل انڈیا ریڈیو سرینگر کے مقبول عام پروگرام شہر بین سے اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ ان کے چاہنے والے ظفر کو رُوبرو دیکھنے کے لئے اُن کی تصنیف کی رسم رونمائی کی تقریب میں شامل ہونے کے لئے ٹائیگورہال پہنچ گئے؟ یاپھر ان کے افسانوی مجموعے ’’شریفوں کا محلہ‘‘ میں ایسی کوئی خاص بات ہے کہ ان لوگوں نے اس تصنیف کو حاصل کرنے کی غرض سے ٹائیگورہال کا رُخ کیا؟ ان سوالوں کے جواب شاید حسین ظفر کے پاس بھی نہیں ہونگے۔ خیر! جو بھی ہے اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب کوئی ادیب مالی دشواریوں کے باوجود اور بڑی محنت سے اپنی کوئی تصنیف منظر عام پر لاتا ہے تو وہ تصنیف اُن ہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو لوگ اس تصنیف کی رسم رونمائی کی تقریب میں شامل ہوتے ہیں اور بعد میں وہ لوگ اس کتاب کا مطالعہ کرتے بھی ہے یا نہیں، یہ کسی کو معلوم نہیں۔اب بات کرتے ہیں محمد حسین ظفر کی تصنیف ’’شریفوں کا محلہ ‘‘ کی، جس روز اس کتاب کی سرینگر کے ٹائیگوریال رسم رونمائی انجام دی گئی ،میں اس وقت جموں میں تھا۔ میں بھی اس کشمکش میں تھا کہ آخر میں بھی دیکھوں کہ اس کتاب میں ایسی کیا بات ہے ،جس کا نام ہے’’شریفوں کا محلہ ‘‘۔بالآخر میری کشمکش اس وقت دور ہوگئی ،جب حال ہی میں جموں سے سرینگر آیا اور حسین ظفر سے رابطہ کرکے یہ کتاب کسی طرح سے خرید کر حاصل کی اور کتاب کا مطالعہ کرنے لگا۔ سب سے پہلے کتاب کا عنوان ’’شریفوں کا محلہ ‘‘بالکل مختلف ہے ،جو دل کو چھو لیتا ہے اور کتاب کو پڑھنے کے لئے مجبور کرتا ہے۔ کتاب کا سرورق اگرچہ بالکل سادہ ہے لیکن دلکش ہے اور کتاب کا ڈیزائن خود بتا دیتا ہے کتاب کے اندر کتنا انمول خزانہ ہے۔کتاب میں درج ‘ دشمن کی بیٹی، مردہ عورت کی زندہ کہانی، معصوم سنگباز،ووٹ، پٹواری، دوجانور،ڈسکاونٹ، می ٹو، آئندہ خیال رکھنا اور خاص کر شریفوں کا محلہ افسانوں کا مطالعہ کرنے کے دوران یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں افسانہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کو پڑھ رہا ہوں۔جہاں ان افسانوں میں قلم کار نے طنزومزاح سے بھرپور اپنے خیالات کو قلم بند کرنا چاہا لیکن وہیں ان افسانوں کو پڑھ کر انسان کو ایک سبق حاصل ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انسان زندگی کی تلخ حقیقت سے روشناس ہوتا ہے۔اس کی مثال محمد حسین ظفر نے افسانہ ’’ڈسکاونٹ ‘‘ میں تحریر کی ہے بے شک کئی لوگوں کے لئے یہ افسانہ ہوگا لیکن جس انداز سے قلم کار نے اسے قلم بند کیا ہے، اسے پتہ چلتا ہے کہ یہ افسانہ نہیں بلکہ ایک انسان کی حقیقت ہے اور کئی لوگوں نے اس طرح کے واقعے کا سامنا کیا ہوگا۔ اسی طرح افسانہ’’ پٹواری ‘‘ کے آغاز میں ایسا لگتا ہےکہ قلم کار واقعی شاید کسی کا ماجرا اس افسانے میں قلم بند کرنے جارہا ہے لیکن جب افسانہ کے آخر میں ظفر نے موسم سرما،برسات اور موسم بہار کا ذکر طنزومزاح کے انداز میں کرکے افسانے کو سمیٹا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ افسانہ نگار کسی بھی موضوع پر طنزومزاح میں افسانے کو قلم بند کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ اسی طرح افسانہ ’’شریفوں کا محلہ ‘‘جوکہ کتاب کا نام بھی ہے اس افسانے میں بھی ایک ایسا واقعہ افسانے کی شکل میں درج ہے جو کسی نہ کسی محلے میں پیش آیا ہوگا یا پیش آسکتا ہے۔ افسانے کے آغاز میں ایسا لگتا ہے کہ واقعی اس محلہ میں کوئی ایسی بدچلن عورت آئی ہے جس کی وجہ سے شریفوں کا محلہ بدنام تول ہوگا ہی اور ساتھ ساتھ میں اس محلے کا ماحول بھی گندا ہونے کا احتمال ہے لیکن افسانے کو ظفر نے کتنے اچھے اور بڑے پیغام کے ساتھ سمیٹا ہے آپ افسانہ پڑھ کر خود محسوس کر سکتے ہیں کہ ظفر نے اس مختصر افسانے کے زریعے کتنا بڑا پیغام دیا ہے اور یہ پیغام ہر ایک انسان کے لئے کسی سبق سے کم نہیں ہے۔اسی طرح افسانہ ’معصوم سنگباز‘ میں محمد حسین ظفر نے جس مختصر کہانی کا انتخاب کیا ہے وہ صرف کہانی نہیں بلکہ ان درد ناک حالات کی زندہ کہانی ہے ،جن درد ناک حالات سے ہم گزرے ہیں اور اس کہانی میں افسانہ کم اور حقیقت زیادہ نظر آتی ہے۔ اسی طرح کتاب میں درج دیگر افسانوں کے زریعے جہاں محمد حسین ظفر نے طنزومزاح کا استعمال کرکے ایک چھوٹے سے چھوٹے چٹکلے کو افسانوی شکل دی ہے ۔یہ ہنر واقعی ایک تجربہ کار قلم کار میں ہی ہوسکتا ہے اور جس کا ثبوت محمد حسین ظفر کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے، اتنا ہی نہیں بلکہ محمد حسین ظفر نے اس کتاب میں کئی ایسے افسانے بھی تحریر کئے ہیں جو بغیر کسی کردار کے افسانہ شائقین اور ابھرتے افسانہ نگاروں کے لئے ایک بہترین تجربہ ہے۔محمد حسین ظفر نے اپنا پہلا افسانوی مجموعہ ’’شریفوں کا محلہ ‘‘ منظر عام پر لاکر ان مایہ ناز افسانہ نگاروں کی فہرست میں اپنا نام درج کرلیا جن افسانہ نگاروں نےصدیوں سے افسانوی دنیا میں اپنا الگ ایک اونچا مقام حاصل کیا ہوا ہے جس کے لئے میں زاتی طور محمد حسین ظفر صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آخر پر مجھے افسانوی مجموعہ ’’ شریفوں کا محلہ‘‘ کا مطالعہ کرنے کے بعد ان سوالات کے جوابات بھی مل گئے، جن کا ذکر میں نے مضمون کے آغاز میں کیا تھا کہ جہاں بے شمار لوگ محمد حسین ظفر کے ساتھ اظہار محبت کرنے کی غرض سے رسم رونمائی کی تقریب میں سرینگر کے ٹائیگورہال پہنچ گئے تھے، وہیں طنزومزاح سے بھرپور ’’شریفوں کا محلہ‘‘ نامی افسانوی مجموعہ نے لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے پر مجبور کردیا۔ میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اگر لوگوں کو محمد حسین ظفر سے خالص محبت ہی ہوتی تو شاید اتنی تعداد میں اس کتاب کی بازار میں خرید وفروخت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کتاب کی اتنی مانگ بڑھ جاتی۔ حالانکہ میری زندگی میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایک خاص تعداد میں اس کتاب کی خرید و فروخت ہوئی اور کئی بار یہ کتاب چھاپ خانہ سے چھپوانی پڑی۔اس طرح محمد حسین ظفر کی افسانوی دنیا میں یہ ایک نئی پرواز ہے میری دعا ہے کہ الله تعالیٰ محمد حسین ظفر کو اور زور قلم عطا کرے۔آمینـــــــ