ڈاکٹر رافیعہ محی الدین
شاعری میں موسموں کا استعمال ایک عام اور خوبصورت روایت ہے۔ہر موسم میں انوکھے جذبات اور تاثرات پنہاں ہوتے ہیں جن کو شاعر اپنی شاعری میں خوبصورتی سے استعمال میں لاکر اپنے احساسات کو پروان چڑھاتا ہے۔ یوں تو انسانی سوچ و فکر کو چار فطری موسموں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور اِنہی موسموں کے گرد اُن کے تمام جذبات ،خیالات اور احساسات گردش کرتے رہتے ہیں ۔ جس قدر موسموں میں حسن و لطافت موجود ہوگی ویسی ہی کیفیات انسان کی اندرونی دنیا میں سیر کرنے لگیں گی۔ ’’پانچواں موسم‘‘اننت ناگ کے نجدون علاقے سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر اور ادیب علی شیدا ؔکی نظموں پر مشتمل کتاب ہے۔یہ کتاب ۱۴۴صفحات پر ہے جس میں ۶۰ نظمیں شامل ہیں۔
علی شیدا کا ’پانچواں موسم‘ پانچویں موسم کو جنم دیتا ہے، جو انسانی سوچ کو فطرتی افکار کی گہرائیوں میں سیر کرواتا ہے،اُس کو فطری موسموں سے پرے ایک منفرد موسم سے ہم کنار کرتا ہے۔ نجد ون کی سرزمین سے اُبھرا پانچواں موسم انسان کے تحت الشعور کے پرد ے کھول دیتا ہے۔ ’’پانچواں موسم‘‘ نہ صرف بہار، خزاں،گرمی اور سردی کے موسموں کو بیان کرتا ہے بلکہ یہ ایک الگ اور انوکھے موسم کے حال کو بیان کرتاہے جس میں بہار کی خوشبو، گرما کی حرارت، پت جھڑ کی خوبصورتی اور سرما کی سرد لہروں کے ساتھ ساتھ تازگی،محبت ، غم، جدائی،مایوسی،سنجیدگی،سکون،خوشی اور نہ جانے کتنی مافوق الفطرت کیفیات شامل ہیں۔ یہ ایک خاص جذبے کا موسم ہے جو روایتی موسموں کے سینے کو چیر کر سوچ و فکر کے ایک نئے فصل کی خاطر زمین کو ذرخیز کرتا ہے ۔ علی شیدا نے پانچویں موسم کی تخلیق سے مختلف تفاسیر کو جنم دیا ہے، ان کی سوچ فلسفیانہ تصور کی حامل ہے جو زندگی کے مختلف پہلؤں کا ذکر کرتاہے۔ کتاب کا آغاز ہی نظم’’ لے کر آیا ہوں پانچواں موسم‘‘ سے ہوتا ہے۔ جو علی شیدا کے پانچویں موسم کی مکمل تفسیر ہے۔یہ ایک خوبصورت اور گہری نظم ہے جس میں شاعر نے ایک نئے موسم کی آمد کا ذکر کیا ہے جو محبت، عشق اور کئی خاص جذبات کے آنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس نظم میں شاعر نے پوری دنیا کے جذبات، احساسات اور خیالات کو سمیٹ کر زمین و آسمان کے مابین ہر شئے کی عکاسی کی ہے، یہ نظم صرف الفاظ کا ایک مجسمہ ہی نہیں بلکہ انسانی کیفیات کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔
کتاب کا انتساب ایک جداگانہ اور فلسفیانہ سوچ کا حامل ہے جو قاری کی رگ رگ کو اپنے قابو میں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے شعور میں انقلاب برپا کرتا ہے اور اس کی دھڑکن روک لیتا ہے۔ انتساب کے الفاظ کا ورد کرتے کرتے قاری خیالوں کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔انتساب علامتوں اور استعاروں کے ذریعے ایک گہرے اور وسیع معنی کو ظاہر کرتا ہے۔ ’پانچواں موسم ‘میں شامل ایک ایک نظم زندگی کے مختلف پہلوئوں کی عکاسی کرتی ہے۔ کبھی زمین پر بچھے پتوں کی خاموشی تو کبھی تنہائی کی کیفیت کا ذکر ہے۔ کہیںپَت جھڑ کے بے جان پتّوں کی سرسراہٹ کے مناظر تو کہیں سرسراہٹ میں ایک عجیب سی موسیقی کا زیرو بم سنائی دیتا ہے جو زندگی کے حسین لمحات کی یاد دلاتا ہے۔ وہ استعارات کا سہارا لیتے ہوئے اپنے خیال کو قارئین تک پہچانے کی کوشش کررہے ہیں ،اُن کا ماننا ہے کہ رنج و آلام انسان کی زندگی کو بے رنگ کرتے ہیں۔ علی شیدا کے تخلیق شدہ پانچویں موسم میں بیتی یادوں کی برسات ہوتی ہے، جس سے انسان کے سوکھے چشموں میں پانی اُبھر آتا ہے اور اس کے من کو سیراب کرکے ایک لطیف ٹھنڈک کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ پانچواں موسم خوابوں کی تعمیر اور ان کے بکھرنے کا سما بیان کرتا ہے،جس کا ایک حسین نمونہ نظم ’’خوابوں کا موسم‘‘ میں سامنے آتا ہے، اس میں شاعر اپنے بچپن کی یادوں میں کھوجاتا ہے۔ وہ پرانے گھر کے آنگن اور کھڑکی سے آسمان کو چھونے کی کوشش کرتا ہے اور بارش کی بوندوں کی آواز کو محسوس کرکے خوابوں کی دنیا کی حسین تصویر کشی کرتا ہے۔ پانچواں موسم انسانی تہذیب اورثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔اس میں انسانی خواہشات اور ترجیحات کے پھیر بدل کا ذکر ہے۔ خوابوں کی دنیا کی خوبصورتی، بچپن کی یادیں اور فطری حُسن کے مناظر موجود ہیں۔ جس کا اندازہ نظم ’’خوابوں کا موسم‘‘سے ہوتا ہے، نظم کا مرکزی خیال خوابوں اور یادوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے اور ساتھ ہی اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ بیتے لمحات کے لوٹنے کی گنجائش نفی کے برابر ہے۔ علی شیدا ؔکا پانچواں موسم دشت امکان کا موسم ہے، جو اُمید اور نا امیدی کے درمیان ایک نئی کیفیت کو جنم دیتا ہے اور یہی کیفیت شیدا کے پانچویں موسم کو انفرادیت سے نوازتا ہے۔یہ ایک ایسا موسم ہے جہاں زندگی کی تلخیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آسانیوں کی آس کا سہارا انسان میں زندہ رہنے کے جذبات اُبھار دیتا ہے۔ علی شیدا پانچویں موسم کے ذریعے زندگی کی حقیقتوں اور انسانی جذبات کی گہرائی کو خوبصورت انداز میں عکاسی کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس موسم میں ایک فلسفیانہ پہلو بھی پنہاں ہے جس میں زندگی کے انمول راز چھپے ہیںجو قارئین کے وہم و گمان سے پرے ہے۔ دشت امکان کے موسم میں انسان خود کو اکیلا اور بے یارو مددگار محسوس کرتا ہے،جہاں کوئی سہارا نہیں۔ جو ایک بے منزل ، بے سمت مسافر کی طرح ایک بے رنگ، ویراں اور انجان صحرا میں پھنس جاتا ہے، جہاں تمام تر رونقیں اور خوبصورتیاں ختم ہوگئی ہیں اور صرف ایک خاموش اور ویران منظر رہ جاتا ہے، جو انسان کی روح کو ہر لمحہ تڑپاتی رہتی ہے۔علی شیداؔ نے پانچویں موسم کو اپنے الفاظ سے ایسے سنوارا ہے جس کا سنگار قارئین کو مدہوشی کے سمندرمیں آہستہ آہستہ اُتار دیتا ہے، جہاں سے وہ چاہ کر بھی باہر آنے سے کتراتے ہیں۔ پانچواں موسم دھند اور خوشبو کے درمیان ایک حسین تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ دُھند کی سرد اور بے رنگ فضا میں خوشبو کی موت کا سوگ ایک الگ ہی کیفیت کو بیان کرتا ہے اور اس سوگ کے عالم میں انسان تنہائیوں میں کھو جاتا ہے اور خواہشوں کی دنیا سے بہت دور چلا جاتا ہے۔ پانچویں موسم کی ہوائوں میں گہرا درد اور مایوسی چھپی ہے۔ جس سے قاری کا ریشہ ریشہ بے قرار ہوتا ہے، وہ زندگی کے اسرارو رموز سے آشنا ہو جاتا ہے،وہ موجود سے لاموجود کی جانب سفر کرنے لگتا ہے،اس کو جینے کا سلیقہ میسر ہوتا ہے،وہ ماضی اور حال کی فضائوں میں اُڑنے لگتا ہے۔ علی شیدا ؔکے نجدون کا پانچواں موسم ، موسمی زنجیروں سے ماوریٰ ہے۔ یہ زنداں سے آزاد ایک ایساخیال ہے جو فکر و سوچ کی وادیوں پہ راج کرتا ہے۔یہ ایک ایسی حسینہ کی مانند ہے جس کے انگ انگ سے حسن کی کرنوں کا ظہور ہوتا ہے ،جس کے لفظ لفظ سے زندگی کی چاشنی اور لطافت ظاہر ہوتی ہے،جس کی آنکھوں میں بیتے کل کا اتہاس ملتا ہے۔ پانچویں موسم میں شعور اور لاشعور میں اُبھر آنے والے سبھی سوالات کے جواب ملتے ہیں۔اس میں زندگی کے مسائل کا حل عریاں ملتا ہے۔پانچویں موسم کا حرف حرف علی شیداؔ نے اپنے خونِ جگر کی حرارت سے سیک کر جذبات کا ایک پُر جوش محل خانہ تیار کیا ہے۔جس میں قارئین کی فکر کی پرورش ہوتی ہے، اُن کا تخیل پروان چڑھتا ہے اور وہ بے پردہ جذبات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ علی شیداؔ فلسفیانہ اور مفکرانہ سوچ کے مالک ہیں جو زندگی کے اسرارو رموز کا پردہ فاش کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور حیات و بساط کے گہرے موضوعات پر غور و فکر کرتے ہیں۔ ان کا تخیل مکاں کے تجربات اور لامکاں کے احساسات سے لبریز ہے۔ ادب کی دنیا میں علی شیدا ؔکی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان کے قلم سے تحریر کردہ ہر ایک لفظ ایک حسین شاہکار ہے جو روح میں اتر کر انسانی فکر کو زندگی بخشتا ہے۔ پانچویں موسم کی رنگینیوں کو کاغذ پر چھڑکتے چھڑکتے کتابوں کا ایک انبار جمع ہوجائے گا۔اس میں شامل کیفیات کے بارے میں جتنا لکھا جائے کم ہے۔ میں اپنے قلم کو ان الفاظ کے ساتھ روک رہی ہوں اورامید قوی رکھتی ہوں کہ علی شیداؔ کا پانچواں موسم تخلیقی کائنات کی فضائوں کو ایک دائمی خوشبو فراہم کرے گا، جس کا اثر قارئین کے دل و دماغ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہے گا۔