معراج وانی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:’’عقلمند وہ ہے جو مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرے۔‘‘یہ فرمان ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں پیش بندی، دور اندیشی اور حکمت عملی اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح کشمیر جیسے سرد خطے میں بسنے والوں کے لیے موسمِ سرما کی آمد سے پہلے اس کے تقاضوں کو سمجھنا اور اس کے مطابق تیاری کرنا عقل مندی کی علامت ہے۔کشمیر اور موسمِ سرما ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جیسے ہی خزاں کا موسم رخصت ہوتا ہے، برف کی سفید چادر پوری وادی کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ یہ منظر اگرچہ سخت سردی کا پیامبر ہوتا ہے، مگر اسی موسم میں کشمیر کی فطری خوبصورتی نکھر کر سامنے آتی ہے۔ برف سے ڈھکے پہاڑ، خاموش جھیلیں اور سفید چھتیں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں سیاحت کو فروغ ملتا ہے اور مقامی معیشت کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔تاہم یہ حسن اپنے ساتھ کئی آزمائشیں بھی لاتا ہے۔ شدید سردی، مسلسل برفباری، راستوں کی بندش اور بنیادی سہولیات میں رکاوٹیں عام مشاہدہ ہیں۔ ان حالات میں سب سے بنیادی ضرورت محفوظ اور موزوں رہائش گاہ کی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنی تعمیراتی سوچ پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ موسمِ سرما کو مدنظر رکھتے ہوئے گھروں کی تعمیر نہایت اہم ہے۔ افسوس کہ جدید تعمیرات میں اکثر مقامی موسمی حالات کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں گھروں کے اندر سردی کا اثر بڑھ جاتا ہے اور ایندھن کا زیادہ استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔
ماضی میں کشمیری مکانات جس حکمت اور انجینئرنگ کے ساتھ تعمیر کئے جاتے تھے، وہ سرد موسم کے عین مطابق ہوتے تھے۔ موٹی دیواریں، لکڑی کا وافر استعمال، کم کھڑکیاں، چھتوں کی مخصوص بناوٹ اور اندرونی حصوں میں حرارت کو محفوظ رکھنے کے انتظامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے اسلاف موسم اور ماحول کی باریکیوں سے بخوبی واقف تھے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تعمیرِ نو اور جدید تعمیرات میں اسی روایتی کشمیری انجینئرنگ کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کریں، تاکہ مکانات نہ صرف مضبوط اور خوبصورت ہوں بلکہ سردی کے اثرات سے محفوظ بھی رہیں۔
موسمِ سرما میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بچے اور بزرگ ہوتے ہیں۔ سردی کے باعث نزلہ، زکام، کھانسی اور دیگر بیماریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے میں گھروں کا گرم اور محفوظ ہونا بے حد ضروری ہے۔ گھریلو ٹوٹکوں جیسے قہوہ، شہد، ادرک اور گرم غذاؤں کے استعمال کو ترجیح دینی چاہیے، جبکہ شدید بیماری کی صورت میں طبی مشورہ لینا ناگزیر ہے۔اسی طرح گرمی کے خصوصی انتظامات بھی احتیاط کے متقاضی ہیں۔ کانگڑی، بخاری اور دیگر ذرائعِ حرارت کا درست اور محفوظ استعمال ضروری ہے تاکہ کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ بند کمروں میں ہوا کی مناسب آمد و رفت کو یقینی بنانا بھی زندگی کے تحفظ کے لیے لازمی ہے۔خوراک میں تبدیلی موسمِ سرما کا ایک اور اہم تقاضا ہے۔ متوازن اور مقوی غذا جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے اور سردی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ خشک میوہ جات، دودھ، انڈے، گوشت اور گرم غذائیں اس موسم میں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم موسمِ سرما کو محض ایک مشکل مرحلہ سمجھنے کے بجائے حکمت، منصوبہ بندی اور اپنے روایتی علم سے استفادہ کرتے ہوئے اس کا سامنا کریں تو یہی موسم ہمارے لیے رحمت اور خوبصورتی کا پیغام بن سکتا ہے۔ کشمیر کی فطرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بقا ءکا راز فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ اس سے بے اعتنائی میں۔
<[email protected]