ماسٹر طارق ابراہیم سوہل
ز بیروں در گذشتم ز درون خانہ گفتم
سخنے کہ نگفتہ را چہ قلندرانہ گفتم (علامہ اقبال ؒ)
یہ ’’انا و لا غیری ‘‘کا روگ ہے یا نفس امارہ کی پرستش یا پھر آبا واجداد کی رسومات بد کی محبت یا پھر جہالت کا جادو کہ جہاں دیکھئے، مظاہر پرستی کے شور و غل میں حقائق سے بحث کرنے کا ،نہ کسی میں حوصلہ ہے، نہ جسارت اور نا ہی شوق۔
ہمارے اعمال اور ہمارے کرتب رشد و ہدایت کے اصولوں کے عین متضاد، منافی اور برعکس بھی ہیں اور حوصلہ شکن بھی۔اس روش کو اگر کہیں سے دوام ملتا ہے تو وہ بعض زعماء اور عمائدین کی دانستہ یا نا دانستہ کوتاہیوں کا براہ راست اثر ہے۔زمانہ اس نہج پہ پہنچ چکا ہے اور علم و عمل کا دامن اتنا سمٹ کر رہ گیا ہے کہ عمامے اور قبائیں کسی بھی انسان کی پہچان کے لئے کافی ہیں۔پائجامہ اگر ٹخنوں سے نیچے ہو تو مورد طعن و تشنیع اورکُرتے کا دامن ، پیروں تک جا پہنچے تو مجال نہیں کہ اسے غلط قرار دیا جائے، حالانکہ یہاں مال کا زیاں بھی ہے اور دونوں صورتیں نا قابل قبول اور شریعت کی حدود سے انحراف کے مترادف بھی ہیں۔ مجھے اصل موضوع تک آنے سے پہلے یہ چند سطور ضبط تحریر میں لانے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی تاکہ قارئین کی توجہ کو اصل موضوع کی جانب مبذول کرنے میں آ سانی ہوسکے اور میرا اصل موضوع جنازے کے تعلق سے ہے۔
چونکہ انسانی نجات کا دار و مدار اعمال صالح پہ ہے اور لوگ جنازوں میں اس لئے شامل ہوتے ہیں تاکہ نماز جنازہ میں شریک ہوکر بقدر ایک قیراط ثواب حاصل کریں اور جنہیں فرصت نصیب ہوتی ہے ،وہ قبر پے مٹی ڈالنے تک شامل رہتے ہیں تاکہ پورے دو قیراط کا ثواب حاصل کر کےاپنے نامۂ اعمال میں ذخیرہ کریں۔آج کے دور میں آمد و رفت کے وسائل بہم ہیں اور آجکل جنازوں میں لوگوں کا ایک جم غفیر بھی شامل ہوتا ہے جن میں بزرگ اور بیمار لوگوں کے علاوہ دُور دُور سے آئے ہوئے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔اکثر لوگ باوضو ہوکے قبرستان پہنچ جاتے ہیں۔اِدھر میت تیار ہوتی ہے اُدھر کوئی نہ کوئی تقریر کرنے کے لئے بیقرار ہوتا ہے۔نماز جنازہ مؤخر کی جاتی ہے اور واعظ و تبلیغ کو طول دیا جاتا ہے۔لوگ اُکتا جاتے ہیں ۔اس عمل کی دلیل کہاں پہ ہے؟اگر دلیل نہیں ہےتو یہ سبیل کس لئے کی جا رہی ہے۔صحاح ستہ کی کتابوں میں میت کو۔ جسقدر ممکن ہو،فی الفور اپنے ٹھکانے تک پہچانے کی احادیث ملتیں ہیں لیکن عملی طور قبر ستانوں میں اسکے برعکس مشاہدہ ہوتا ہے۔اس پہ قیامت یہ کہ تقریر تو بہت لمبی ہوتی ہے مگر نماز جنازہ ۔۔۔۔۔۔ یہاں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے خوب دعائیں کرنے کا حکم دیا تھا مگر یہاں امام کی زبان کتنی تیزی کی کرامت دکھاتی ہے حالانکہ نبی اکرمؐ کو بھی حکم ہوا،’’لا تحرک لسانک۔‘‘الخ ۔یعنی اے نبی اپنی زبان کو تیزی سے حرکت مت دیجئے۔لہٰذا یہ ایک رسم نا محمود رفتہ رفتہ جڑ پکڑ رہی ہے ،اس کو روکنے کی ضرورت ہے۔میت تیار ہے تو اسکا جنازہ پڑھئے اور نماز جنازہ کے بعد جنہیں علم دین کا شوق اور فرصت ہے، وہ قرینے سے بیٹھیں اور تقریر سنیں۔ ویسے بھی رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے موقعہ بے موقعہ واعظ کرنے سے روکا ہے۔
شومئی قسمت کہ یا ہماری غفلت کا کرشمہ! ہم نے چند رسوم کی ادائیگی کو مکمل دین سمجھ رکھا ہے اور یہ خود فریبی کے مترادف ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن مقدس اور احادیث رسول کا وسیع تر مطالعہ کرے تاکہ ہمارے سامنے عملی زندگی کا تصور اور تصویر بیک وقت ہماری رہبری اور نجات کا ذریعہ بنے ،ورنہ پھر ہمارے روحانی جمود کی وہ تصویر قائم رہے گی جس کے متعلق علامہ اقبال نے کچھ یوں خاکہ کھینچا ہے۔
مست رکھو ذکر وفکر و صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے
میں نے اس مضمون کے آغاز میں زبور عجم سے ایک شعر بزبان فارسی نقل کیا ہے۔اس شعر میں تبلغ دین کا مکمل لائحہ عمل مخفی ہے اور علامہ مرحوم دراصل ہمیں یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ مظاہر پرستی کو بالائے طاق رکھ کر علم دین کے حقائق بیان کیجئے، چاہے کوئی راضی ہو یا ناراض ۔
اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ اس بظاہر خوبصورت روش کو ترک کیا جائے جو حقیقت کے منافی ہے اور دل آزاری کا سبب بنتی ہے۔
یا رب درون سینہ دل باخبر بدہ
در بادہ نشہ نگرم، آں نظر بدہ (علامہ اقبال)
اس شعر کے مختصر سے ترجمے کے ساتھ ہی، پورا مضمون قارئین کی نذر !
علامہ اقبال رب العالمین سے دست بدعا ہیں کہ اے پالنہار، میرے سینے میں جو دل ہے، اس میں اپنی محبت ڈال دے اور مجھے ایسی معرفت نصیب کر، کہ مجھے شراب میں نشہ نظر آئے۔یعنی اشیائے کائنات کا مشاہدہ میرے یقین کو اور بھی راسخ کر جائے۔
رابطہ نمبر۔9858018662.
[email protected]