سوال :مسجد میں امام صاحب دعا کررہے تھے کہ ایک مقتدی نے امام صاحب کو کشمیری زبان میں کہا ’’او امام صاحب ! یہ دعائیں کرنا رہنے دیں ۔خدا صاحب سُنتا کہاں ہے،وہ تو ہم سے بھی بہرا بن گیا ہے،اُس کو کوئی رحم و ترس بھی نہیں آتا ہے ۔‘‘ اب سوال یہ ہے کہ کیا اُس شخص کا ایمان باقی رہا یا ختم ہوگیا ۔یہ واقعہ ہماری مسجد میں پیش آیا۔
الطاف احمد ۔رعناواری سرینگر
اللہ کی صفات کی نفی کرنے والے کیلئے تجدیدِ ایمان لازمی
جواب :اللہ جل شانہ کی ذات ِ اعلیٰ کی طرف ایسی بات کی نسبت کرنا جو اُس کی شان ِ اعلیٰ کے خلاف ہو ،یہ اُس ذات کی توہین ہے ۔قرآن کریم میں اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہے :(ترجمہ)انہوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی ،جیسے اُس کی قدر پہچاننے کا حق ہے۔فقہ اسلامی کا ضابطہ ہے کہ جب کوئی بندہ اللہ کی طرف وہ بات منسوب کرے جو اُس کی شان کے مناسب نہ ہو تو وہ شخص کافر ہوجائے گا ۔اللہ جل شانہٗ رحیم بھی ہیں اور سمیع البصیر بھی۔اب جب کوئی شخص نعوذ باللہ یہ کہے کہ اللہ سُنتا کہاں ہے یا یہ کہے کہ اُس کو رحم کہاں آتا ہے تو گویا اُس نے ان صفات کی نفی کی ۔اس لئے ایسے شخص کو تجدید ایمان بھی ضروری ہے اور تجدید توبہ بھی۔ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اُن باتوں کو ہمیشہ ذہن میں رکھے ،جن کی بنا پر ایمان والا ایمان سے محروم ہوجاتا ہے اور اُن باتوں سے ایسے ہی پرہیز کرے جیسے انسان آگ یا زہر سے پرہیز کرتا ہے تاکہ ایمان محفوظ رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال :-کیا اولاد کو نافرمانی اور رو گردانی کی بناء پر جائیداد سے بے دخل کیا جاسکتاہے ؟
عبدالرحمان …… بتہ مالو ،سرینگر
وراثت کا حق ساقط نہیں ہوتا
جواب:-والدین کے ساتھ بے اعتنائی برتنا اُن کے شرعی حقوق ادا نہ کرنا گنا کبیر ہ ہے ۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب گناہوں کی تفصیل بیان فرمائی تو سب سے بڑا شرک اور دوسرا بڑا گناہ والدین کے حقوق یعنی نافرمانی قرار دی ہے ۔ایسی اولاد جو والدین کو ذہنی یا جسمانی اذیت پہنچائے وہ مجرم اور فاسق ہیں اور اس کا وبال دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی یقینی ہے ۔ حضرت نبی کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی رضا والدین کی رضا میں ہے او راللہ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے ۔ والدین کو کسمپرسی کی حالت میں چھوڑنا دراصل اپنی اولاد کو یہ پیغام دیناہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں ۔ اس سب کے باوجود وراثت کی مستحق وہ اولاد ہوگی جس نے والدین کے حقوق ادا نہ کئے ہوں ۔دراصل وراثت کا تعلق قرابت سے ہے نہ کہ خدمت سے ۔ اس لئے خدمت گذاراولاد کو بھی وراثت کا حق اتنا ہی ملے گا جتنا نافرمان اولاد کو ۔والدین کی خدمت ، اطاعت ،راحت رسانی الگ معاملہ ہے اور وراثت کا استحقاق بالکل دوسرا معاملہ ۔ اسی لئے اسلام نے بیٹی کو بھی مستحق وراثت قرار دیاہے حالانکہ وہ اپنے والدین کی خدمت نہیں بلکہ اپنے شوہر کے حقوق ادا کرنے اور اپنے بچوں کی پرورش میں مشغول ہوتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال۔جس امام کی داڑھی چھوٹی ہو کیا اُس کے پیچھے نماز درست ہے۔ نیز داڑھی کتنی لمبی ہونی چاہئے ۔‘‘
منظورالحسن…سرینگر
داڑھی کی مطلوب مقدار حکمِ رسولؐ کے مطابق
جواب:-امام کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ اس کے عقائد درست ہوں ، تلاوت صحیح طور پر کرنے پرقادر ہو ، ضروری مسائلِ نماز سے واقف ہو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ تمام گناہِ کبیرہ سے اجتناب کرتا ہو اور وضع قطع مکمل طور پر شریعت کے مطابق ہو۔
داڑھی رکھنا اسلام کالازمی حکم ہے ۔ اس لئے کہ یہ واجب ہے اور واجب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ واجب ہر اُس عمل کو کہاجاتاہے جوحضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو،کبھی اسے ترک نہ کیا ہو ۔اور اُس پر عمل کرنے کا حکم بھی دیا ہو ۔اگرچہ اُس عمل کا حکم قرآن کریم میں نہ ہو تو بھی وہ لازم ہوجاتاہے جیسے وتر کی نمازیا عیدین کی نماز واجب ہیں حالانکہ ان دونوں نمازوں کا حکم قرآن کریم میں نہیں ہے مگر چونکہ حضرت رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیشہ یہ نمازیں ادافرمائی ہیں اس لئے اس کو لازم یعنی واجب کادرجہ دیا گیا ۔ بس اسی طرح داڑھی کا مسئلہ ہے کہ حضرت رحمۃ للعالمین علیہ السلام نے خود ہمیشہ داڑھی رکھنے کا اہتمام فرمایا۔ نیز داڑھی بڑھانے کا حکم دیا اور زندگی میں کبھی داڑھی کو نہ مونڈھانہ خشخشی بنائی ۔
اور تمام صحابہ ،تابعین ،تبع تابعین ، فقہاء محدیثن اور اولیاء کرام نے داڑھی رکھنے کا اہتمام کیا تو یہ اجماع امت بھی ہے ۔ اس لئے داڑھی رکھنا واجب ہے جو داڑھی نہ رکھے وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے ۔
اس لئے وہ شخص ہرگز امامت کا اہل نہیں ہے جو داڑھی نہ رکھے ۔ اس پر پوری امت کا اتفاق ہے اور فتویٰ کی تمام مستند کتابوں ،چاہے وہ کسی بھی فقہی مسلک کی ہوں یا کسی بھی مکتب فکر کی ہوں ،میں یہی لکھاہے ۔
داڑھی کی وہی مقدار شریعت کا مطلوب ہے جوداڑھی کا حکم دینے والی ذات اقدس یعنی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود رکھی اور حضرات صحابہؓ سے لے کر آج تک مستند ومعتبر طبقات مسلمین نے رکھی ۔یعنی عمل رسول ؐ اور عمل صحابہؓ حکم رسولؐ کی تشریح ہے ۔ جس امام کی داڑھی نہ ہو اُس کے پیچھے پڑھی جانے والی نماز ادا ہوجاتی ہے ۔یعنی وہ نماز واجب الاعادہ نہیں ہے ۔ مگر ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے ۔ فتویٰ کی ہر مستند کتاب میں یہی لکھاہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱-کئی جگہوں پر جب دُلہن سسرال پہنچتی ہے تو اس کے قدموں میں بھیڑ ذبح کی جاتی ہے ۔ اس کا کھانا اور ایسا عمل کرنا کیسا ہے ؟
سوال:۲-نقلی دانت لگوانے ،دانتوں میں فیلنگ کرنا،اس طرح کے دوسرے طبی ضابطوں کا شریعت کی رو سے کیا حکم ہے ؟
سوال:۳-بالوں اور داڑھی میں کون سا خضاب استعمال کرسکتے ہیں ۔ ہربل ، کالی مہندی ،حنا ہیر کلر وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں کیا ؟
سوال:۴-نقلی بال (وِگ) پہنے اشخاص مسح کس طرح کرسکتے ہیں ۔ عورتوں کو نقلی زلفیں لگانا کس حد تک صحیح ہے؟
حبیب اللہ
بانڈی پورہ ،کشمیر
دلہن کے قدموں میں بھیڑ ذبح کرنا
نقلی دانت لگوانا۔۔۔شرعی احکام
جواب:۱-دُلہن کے سامنے بھیڑ بکری ذبح کرنا سخت حرام ہے اور جو جانور ذبح کیا گیا وہ مُردار ہوگیا اُس کا کھانا کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے ۔ یہ سراسر غیر شرعی عمل ہے ۔ اس کو سختی سے روکنا لازم ہے اور جو اس سے پرہیز نہ کرے اُن کی شادی میں شریک ہونا بھی دُرست نہیں ہے ۔
جواب:۲- دانتوں میں ہرقسم کی فیلنگ کرنا دُرست ہے ۔مصنوعی دانت لگانابھی درست ہے ۔ ایک صحابی نے پہلے چاندی کی ناک پھر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے سونے کی ناک لگوائی تھی ۔اس کا واقعہ ترمذی میں موجودہے اُس صحابی کا نام حضرت عُرفطہ تھا ۔
جواب:۳- داڑھی او ربالوں میں مہندی یا زعفران کاخطاب درست ہے ۔کالی مہندی لگانا جائز نہیں ہے ۔اس سے عمر چھپانے کا کام کیا جاتاہے اس لئے حدیث میں اس کی ممانعت ہے ۔
جواب:۴- نقلی بال (وگ) لگانا ہرگز دُرست نہیں۔ایسے لوگوں پر لعنت کی گئی ہے ۔اسی طرح عورتوں کا نقلی بال لگانا حرام ہے ۔بخاری ومسلم میںحدیث ہے کہ ایسی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہے جو بال نوچ ڈالیں یا نقلی بال لگائیں یا جسم پر خوبصورتی کے لئے نشان لگوائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال نمبر:۔مسجد شریف کی پرانی تعمیراتی لکڑی کیا مکانوں کی مرمت میں استعمال کی جاسکتی ہے؟
حبیب اللہ خان ۔ کھاگ
مسجد شریف کی متروک چیزوں کا استعمال
جواب نمبر:۔مسجد شریف کی پرانی لکڑی ،ٹین وغیرہ اگر مسجد شریف میں استعمال نہ ہوسکے اور آئندہ بھی مسجد شریف میں اس کے استعمال ہونے کے امکانات نہ ہوں تو یہ لکڑی ،ٹین ،فرش وغیرہ جو کچھ بھی ہو ،اُسے فروخت کرکے اُس کی قیمت مسجد شریف میں خرچ کی جائے۔خریدنے والا یہ احتیاط کرے کہ ناپاک یا بے ادبی کی جگہ یہ لکڑی ،ٹین وغیرہ استعمال نہ کرے۔مثلاً بیت الخلا میں یہ لکڑی نہ لگائے ۔اگر یہ لکڑی ،ٹین،فرش اسی طرح رکھا رہ جائے تو آہستہ آہستہ یہ خراب ہوکر ناقابل استعمال ہوجائے ،اس لئے فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ مسجد کی املاک ضائع ہونے سے بچ جائے۔