عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ضلع مجسٹریٹ سرینگر نے بھارتیہ ناگرک سرکشاسنہیتا کی دفعہ 163 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ضلع سرینگر کی حدود میں تمام ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN) سروسز کو فوری طور پر دو ماہ کے لیے معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سرینگر نے اس بات پر تشویش ظاہر کی تھی کہ وی پی این سروسز کا بعض مفاد پرست عناصر کی جانب سے غلط استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے ضلع میں امن و امان اور سائبر سکیورٹی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حکم کے مطابق، وی پی این سروسز خفیہ شدہ ڈیٹا کی ترسیل اور پوائنٹ ٹو پوائنٹ ٹنلز کے ذریعے صارفین کو آئی پی ایڈریس چھپانے اور ویب سائٹس کی پابندیوں اور فائر والز کو بائی پاس کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔انتظامیہ نے مشاہدہ کیا کہ ان خصوصیات کا استعمال غیر قانونی اور ملک مخالف سرگرمیوں کے لیے کیا جا سکتا ہے، جن میں بدامنی کو ہوا دینا، اشتعال انگیز مواد کی تشہیر اور امن و امان کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی شامل ہے۔
ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ وی پی این کا بلا روک ٹوک استعمال عوامی سلامتی، سائبر سکیورٹی اور حساس ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے، جس کے پیش نظر وسیع تر عوامی مفاد میں فوری احتیاطی اقدامات ناگزیر ہیں۔تاہم، حکم نامے میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ پابندی نیشنل انفارمیٹکس سینٹر کے ذریعے کام کرنے والے سرکاری محکموں کی مجاز وی پی این سروسز پر لاگو نہیں ہوگی۔
چونکہ تمام متعلقہ افراد کو انفرادی نوٹس دینا عملی طور پر ممکن نہیں تھا، اس لیے یہ حکم یک طرفہ طور پر جاری کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے ہدایت دی ہے کہ اس حکم کو ضلع کی ویب سائٹ، معروف اخبارات اور ضلع مجسٹریٹ، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سرینگر، سب ڈویژنل مجسٹریٹس سرینگر ایسٹ و ویسٹ اور تمام تحصیلداروں کے دفاتر کے نوٹس بورڈز پر آویزاں کر کے عام کیا جائے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سرینگر کو حکم کی سختی سے عمل آوری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔