شوکت ثاقب پوشپوری
جموں و کشمیر کی سرزمین ہمیشہ سے علم، ادب اور تہذیب کا گہوارہ رہی ہے۔ اسی زرخیز دھرتی نے اردو زبان و ادب کو ایسے ایسے گوہر عطا کئے ہیں جن پر اہلِ قلم بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔علم،ادب اور آب کے لئے مشہور ضلع بانڈی پورہ بھی انہی علمی و ادبی مراکز میں شامل ہے جہاں سے کئی معتبر نام ابھرے ہیں اور انہی درخشاں ناموں میں ایک اہم اور قابلِ احترام نام جناب طارق شبنم صاحب کا ہے، جو اردو زبان و ادب کا واقعی ایک بیش بہا سرمایہ ہیں۔
طارق شبنم محض ایک شاعر یا افسانہ نگار نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت ہیں۔ ان کی شاعری میں فکر کی گہرائی، جذبے کی سچائی اور زبان کی شستگی صاف جھلکتی ہے۔ وہ لفظوں کو محض جوڑتے نہیں بلکہ ان میں روح پھونکتے ہیں۔ ان کے اشعار قاری کے دل میں اتر کر دیر تک اثر قائم رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں زندگی کے نشیب و فراز، سماجی تلخ حقائق، انسانی رشتوں کی نزاکت اور خلوص کی خوشبو نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
افسانہ نگاری کے میدان میں بھی طارق شبنم کا مقام مسلم ہے۔ ان کے افسانے محض قصے نہیں بلکہ ہمارے عہد کی جیتی جاگتی تصویریں ہیں۔ وہ عام انسان کے دکھ، محرومی، امید اور جدوجہد کو اس فنی مہارت سے پیش کرتے ہیں کہ قاری خود کو کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ کردار نگاری ہو یا مکالمہ، منظر نگاری ہو یا پلاٹ کی بُنت ،ہر پہلو میں ان کی فنی پختگی نمایاں ہے۔اگرچہ طارق شبنم کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور ادبی حلقوں میں پذیرائی بھی حاصل کر چکی ہیں، مگر میرے پاس ان کا ایک ایسا قیمتی سرمایہ موجود ہے جسے میں بجا طور پر ’’گمشدہ دولت‘‘ کہتا ہوں ۔’’گمشدہ دولت‘‘ ان کا بہترین سرمایہ ہے۔ یہ ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے، جو کسی خزانے سے کم نہیں۔زیر نظر افسانوی مجموعے میں ایک سے بڑھ کر ایک کل ستائیس (27) !افسانے شامل اشاعت ہیں جو فکری اعتبار سے بھی مضبوط ہیں اور فنی سطح پر بھی اعلیٰ معیار کے حامل۔ ہر افسانہ اپنے اندر ایک الگ جہان سمیٹے ہوئے ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ تحریریں قاری کے دل کو چھو لیتی ہیں ۔
طارق شبنم صاحب کی سب سے بڑی خوبی ان کا خلوص ہے۔ وہ علم و ادب کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار کے بھی پاسبان ہیں۔ استاد، دوست اور بھائی کی حیثیت سے ان کا رویہ نہایت شفیق اور مخلصانہ ہے۔ وہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، رہنمائی دیتے ہیں اور ادب کو محض شہرت کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمت سمجھتے ہیں۔
بلاشبہ طارق شبنم صاحب اردو زبان و ادب کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے کام کو زیادہ سے زیادہ سامنے لایا جائے، خصوصاً ان کا وہ انمول سرمایہ جو ابھی تک گمشدگی کے پردے میں ہے۔ آنے والی نسلیں اگر اردو ادب سے حقیقی معنوں میں فیض یاب ہوں گی تو ایسے ہی خاموش، خلوص مند اور باصلاحیت قلمکاروں کی بدولت ہوں گی۔
رابطہ۔8825012596
[email protected]