شیخ امین
انسانیت پر اسلام کے بے شمار احسانات میں سب سے درخشاں احسان ایک ایسے صالح اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہے جو پندرہ سو برس گزر جانے کے باوجود آج بھی اپنی بنیادی اقدار پر پورے اعتماد، وقار اور فخر کے ساتھ قائم ہے۔ الحاد و تشکیک کے اس پُرفتن دور میں بھی اسلام کا پیش کردہ باحیا سماج، صالح نوجوان، پاکدامن خواتین اور محفوظ خاندانی نظام اپنی مثال آپ ہے۔ انسانی تہذیب کے طویل سفر میں یہ کوئی معمولی اصلاح نہیں تھی بلکہ ایک ہمہ گیر اور انقلابی تبدیلی تھی ۔ایسی تبدیلی جس نے اخلاقی زوال کے اندھیروں میں ڈوبی انسانیت کو روشنی، امن اور سکون کی راہ دکھائی۔ یہ انقلاب اس ماحول میں برپا ہوا جہاں فحاشی و عریانی معاشرتی زندگی پر مسلط تھی، جہاں بُرائی اس قدر عام ہوچکی تھی کہ اسے بُرائی سمجھنے کا شعور بھی مفقود ہوچکا تھا۔ ایسے زہریلے اور مسموم فضا میں قرآنِ کریم کی آفاقی تعلیمات اور رسولِ امینؐ کی پاکیزہ و انقلابی سیرت نے دلوں کو بدلا، اقدار کو زندہ کیا اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جو محبت، مودّت اور رحمت کا گہوارہ بن گیا۔ یہ تبدیلی کسی طویل ارتقائی سفر کی مرہونِ منت نہ تھی بلکہ دعوت کے آغاز سے محض دو دہائیوں کے اندر اپنے نقطہ کمال کو پہنچ گئی۔ مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ بعد کے ادوار میں اپنوں کی غفلت، نااہلی اور داخلی و خارجی دراندازیوں نے اس متوازن نظام کو متزلزل کر دیا۔ اخلاقی بے راہ روی نے آہستہ آہستہ اپنی جڑیں مضبوط کیں اور مسلم معاشرے کا حسنِ توازن بگڑنے لگا۔ پھر گزشتہ دو صدیوں میں مغرب کی سیاسی، فکری اور معاشی غلامی نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ لادین اور مادہ پرست تہذیب کی یلغار کے زیرِ اثر مسلمان اہلِ ثروت نے کوتاہ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے انہی خرابیوں کو اپنانا شروع کر دیا جو مغربی استعماری معاشروں میں رچ بس چکی تھیں۔ان خرابیوں میں سب سے سنگین اور ہلاکت خیز خرابی خاندانی تقدس کی پامالی تھی۔ خود مغربی معاشرہ گزشتہ ایک صدی میں جس برق رفتاری سے اباحیت اور حیوانی خواہشات کی انتہاؤں کو چھوتی جنسی بے راہ روی میں مبتلا ہوا، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ طلاق کی وبا، ناجائز تعلقات، فیشن اور خودنمائی کے نام پر فحاشی و عریانی یہ سب مغرب میں اپنے عروج کو پہنچے اور پھر معاشی و سیاسی عالمگیریت کے ساتھ یہ متعدی وبا مسلم معاشروں میں بھی سرایت کر گئی۔
ہمارے معاشرے میں طلاق اور خُلع کے بڑھتے ہوئے واقعات اب محض انفرادی سانحات نہیں رہے، بلکہ ایک اجتماعی بحران کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ ریسرچ فاؤنڈیشن کے عوامی رائے کے جائزے پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو اس تشویشناک رجحان کے پس منظر میں کئی تہہ دار اسباب نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔ اس جائزے کے مطابق48 فیصد افراد کے نزدیک ازدواجی رشتوں کے ٹوٹنے کی سب سے بڑی وجہ صبر و برداشت کا فقدان ہے33 فیصد اسے دین سے دوری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں،27 فیصد مغربی تہذیب کے بڑھتے ہوئے اثر کو ذمہ دار ٹھہراتےہیں،12 فیصد کے نزدیک خواتین کی معاشی خود انحصاری پر مبنی آزادی کا تصور اس بگاڑ کی جڑ ہے، جب کہ 9 فیصد کا خیال ہے کہ خود مردوں میں شادی اور خاندانی ذمہ داریوں سے دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر ان تمام اسباب کو الگ الگ نہیں بلکہ مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو ایک گہرا داخلی ربط صاف دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر عوامل کی جڑ ایک ہی ہے، اور وہ ہے دینی تعلیمات سے ناواقفیت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عجلت پسندی اور بے صبری۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کم از کم81 فیصد رویّوں کا سرچشمہ براہِ راست دین سے دوری ہے، جس نے انسان کو ضبطِ نفس، تحمل اور ایثار جیسی بنیادی اخلاقی قدروں سے محروم کر دیا ہے۔اسی فکری خلا میں مغرب سے درآمد شدہ تحریکِ آزادی نسواں نے قدم جمائے۔ یورپی معاشرہ تاریخی طور پر ایک پدرانہ نظام کا حامل رہا، جہاں معاشی بالادستی نے مردوں میں حاکمانہ نفسیات کو جنم دیا اور عورت کو ذہانت، مشقت، تجارتی بصیرت اور سیاسی فراست میں ثانوی حیثیت دی گئی۔ اس امتیازی رویّے کے ردِعمل میں انیسویں صدی میں یورپ اور امریکا میں تحریکِ آزادی نسواں ابھری، جس کا مقصد مساوات کا حصول تھا۔ لیکن جب یہی تحریک سامراجی طاقتوں کے ذریعے مسلم دنیا میں منتقل ہوئی تو اس نے اصلاح کے بجائے تصادم کو جنم دیا۔ یورپی استعمار کے زیرِ اثر مسلم ممالک میں اس تحریک کی پذیرائی نے معاشرتی توازن بگاڑ دیا اور صنفی ہم آہنگی کے بجائے صنفی دوڑ کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ رفتہ رفتہ مساوات کے مطالبے نے خود مختاری کی شکل اختیار کر لی اور عورت کو خاندان کے مرکز کے بجائے محض ایک معاشی اکائی بنا کر پیش کیا جانے لگا۔ خواتین کے معاشی دوڑ میں شامل ہونے کا فطری اور ناگزیر نتیجہ یہ نکلا کہ خاندانی نظام کمزور پڑتا چلا گیا اور بالآخر اس کی بنیادیں ہلنے لگیں۔
مغربی فکر سے متاثر ہو کر ترقی کا ایک نیا پیمانہ وضع کیا گیا، جس کے مطابق کسی ملک کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جانے لگا کہ وہاں کتنے فیصد خواتین سرکاری دفاتر، عدالتوں، کاروباری اداروں اور انتظامی عہدوں پر فائز ہیں۔ وہ شعبے جو فطری، جسمانی اور پیشہ ورانہ تقاضوں کے اعتبار سے مردوں کے لیے مخصوص سمجھے جاتے تھے—جیسے فوج یا تعمیرات وہاں بھی مساوات کے نعرے کو اس شدت سے دہرایا گیا کہ بعض مسلم حکمرانوں نے اسے ترقی کی علامت سمجھ لیا۔ معمر قذافی کا اپنے محافظ عسکری دستے میں بڑی تعداد میں خواتین کو شامل کرنا اسی ذہنی غلامی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس اندھی تقلید، خودسپردگی اور فکری غلامی کے باوجود نہ ان افراد کو اور نہ ان ممالک کو کبھی حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ دنیا کی برادری میں شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ یوں یہ ساری مشق نہ شناخت دلا سکی، نہ وقار بلکہ اس حال کو پہنچا دیا کہ’’کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا‘‘۔ یہی فکری و تہذیبی انتشار بالآخر ازدواجی رشتوں کی کمزوری، طلاق اور خُلع کے بڑھتے ہوئے رجحان کی صورت میں ہمارے سامنے کھڑا ہے، جو اصلاحِ احوال کا تقاضا نہیں بلکہ چیخ چیخ کر اس کی فریاد کر رہا ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید اور ’’مساواتِ مرد و زن‘‘ کے نعرے کو عقیدے کی حد تک قبول کر لینے کا ایک سنگین نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ معاشرے میں انفرادیت پسندی اور انا پرستی کو فروغ ملا اور صنفِ نازک کے بعض حلقوں میں یہ دعویٰ زور پکڑ گیا کہ وہ مرد سے زیادہ قوی، خودمختار اور ہر لحاظ سے برتر ہے۔ حالانکہ انسانی نفسیات کا ایک مسلمہ اصول یہ ہے کہ جب تعلقات کی بنیاد انا کی جنگ پر رکھ دی جائے تو وہاں نہ کسی کی مکمل فتح ہوتی ہے اور نہ کسی کی واضح شکست بلکہ بربادی دونوں کا مقدر بن جاتی ہے۔ خاندان کی بنیادی اینٹ خلوص، ایثار اور قربانی سے رکھی جاتی ہے، نہ کہ مقابلہ آرائی اور نفسا نفسی سے۔ زندگی کا سفر اگر ایک گاڑی کی مانند ہے تو اس کے لیے کم از کم دو پہیوں کا ایک ہی سمت میں، ایک ہی رفتار سے چلنا ضروری ہے۔ اگر دونوں پہیے الگ الگ رخ اختیار کر لیں تو گاڑی کا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک فطری انجام ہوتا ہے۔ یہی کیفیت آج کے خاندانی نظام کی ہے، جہاں ہم آہنگی کی جگہ تصادم نے لے لی ہے۔(جاری)