بشارت بشیرؔ
ہم جس کائنات ہست وبودمیںجی رہے ہیں ہر آن اس میں تغیر وتبدیلیوں کا عمل جاری وساری ہے اور ان ہی تبدیلیوں میںدن رات کی گردش اور موسموں کاآنا جانا بھی شامل ہے۔ ارشاد ربانی ہے(ییُقَلِّبُ اللَّہُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ إِنَّ فِی ذَٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّأُولِی الْأَبْصَارِ)یعنی اللہ رات اور دن تبدیل فرماتا ہے، بے شک اس میں دیدئہ بینا رکھنے والوں کے لئے سمجھے کا پیام ہے۔ قرآن نے سال کو دوحصوںیعنی گرمی اور سردی میں تقسیم کیا ہے اور ہر موسم کے اپنے جدگانہ رنگ اور انداز مختلف اوقات میں ہوتے ہیں اور ان موسموں کا ہر لمحہ اہمیت کا حامل ہے اور عقل و فہم سے آراستہ لوگ ہی اس کا دُرست ادراک کرسکتے ہیں ۔ہاں !موسموں کی اس تبدیلی کے نتیجہ میں جو کچھ ایسے حالات بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں، جن کا سامنا کچھ لوگ آسانی سے کرلیتے ہیں اورکچھ لوگ مشکلات کے شکار ہوجاتے ہیں۔ کچھ لوگ ان موسموں سے محفوظ ہوتے ہیں اور بہت سارے لوگ شدید ترین مسائل کے شکار بھی ہوجاتے ہیں لیکن پھر بھی قطعی اس بات کی اجازت دین مبین نہیں دیتا کہ کسی موسم کو بُرا بھلا کہا جائے ارشاد نبویؐ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا زمانے کو برا بھلا کہتا ہے حالانکہ میںزمانہ کا پیدا کرنے والاہوں ۔میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں جس طرح چاہتا ہوں رات اور دن کو پھیلاتا رہتا ہوں۔‘‘
ہمارے یہاںکی سردیاں بھی شدید نوعیت کی ہوا کرتی ہیں جواعصاب اور ہڈیوں تک کو متاثر کرکے رکھ دیتی ہیں۔ بہت سارے لوگ مختلف عوارض کے شکار بن جاتے ہیں ۔ بزرگوں کی بڑی تعداد مختلف النوع بیماریوں کی زدمیں آتی ہے اور پہلے سے علیل لوگوں کے درد میںشدت وحدت پیدا ہوجاتی ہے۔ بچوں کی صحت پر بھی منفی اثرات دکھنے کو ملتے ہیں۔ شباب کی دہلیز پر کھڑے ہمارے عزیز وں کے دانت بھی سردیوں کے وار کو نہ سہتے ہوئے کپکپاتے نظر آتے ہیں۔ گو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مالی ومادی لحاظ سے پہلے کے مقابلہ میں بہت ساری تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اورعوام کا ایک بڑا طبقہ کڑاکے کی اس سردی میں جہاں اپنے گھروں کو گرم رکھنے کی قوت رکھتا ہے ،وہاں اچھے اور گرم لباس کی خریداری بھی وہ کسی اڑچن کے بغیر کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔اللہ تعالیٰ سبھوں کو ترقی سے نوازے ۔لیکن اس انسانی معاشرہ کا ایک بڑا حصہ ہے جو نہ صرف غربت وپسماندگی کی چکی میںعرصہ سے پساجارہا ہے بلکہ سرما کی آمد اُس کی اقتصادی نیا کو ڈوبے کے ہی رکھ دیتی ہے۔ وہ پیٹ کے لئے پوری غذا کا بندو بست کرنے کے بھی متحمل نہیں ہوتے ،اس پر مستزاد یہ کہ سرما حوائج وضروریات کی ایک طویل فہرسست بھی لے کر آتا ہے جنہیں پورا کرنا قطعاً ان کے بس کا روگ نہیں ہے اور ان میںبہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جوعرصہ دراز سے بیمار چلے آرہے ہیں۔ دمہ ،بلڈ پریشر اور دیگر عوارض نے اُنہیں آگھیرا ہے۔ دوسری جانب تنگ وتاریک کمروں میں جہاں سے ہوا کا گذر نا بھی مشکل ہوجاتا ہے ،اُن کا قیام اُن کے لئے ضرررساں ثابت ہوتا ہے۔ دوائیوں کے بڑھتے داموں نے تو سرمایہ دار طبہ تک کی نیندیں اُڑائی ہیں تو ان حالات میںمصائب کے ان ماروں کا کیا حال ہوگا چنداں بیان کرنے اور سمجھانے کی ضرورت نہیں ۔ان گھروں میںہیٹروں ، بوائیلروں اور گیزروں کا بھی رواج نہیں کیونکہ بجلی کے ہوش ربا دام اُنہیں ان چیزوں کے استعمال میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔
یہ صورت حال ان لوگوں کے لئے پریشان کن ضرور ہے لیکن صاحبان ثروت اور متوسط طبقہ سے منسلک لوگوں کے لئے ایک بڑی آزمائش ہے، جنہیں اللہ عزوجل نے اپنی نعمتوں اور دولت سے نوازا ہے کہ وہ اپنے گردوپیش میں ماہیٔ بے آب کی طرح تڑپنے والے ان لوگوں کی امداد واعانت کرنے میںکس قدر حساس اور فکر مند ہیں۔ ان فاقہ کشوں، نیم برہنہ لوگوں، پریشان حالوں ، مفلسوں اور مسکینوں کی بے قراری کیا اُنہیں آرام کی نیند سونے دیتی ہے؟ بہر حال سرما اپنے جلو میں یہ پیام لے کر بھی آتا ہے کہ تمہارے پہلو میں بسنے والا ہمسایہ اور تمہارے رشتے کی ڈور میں بندھا ہوا غریب قربت دار کیا ان شدید سرمائی لمحات میںتمہاری اعانت وامداد سے مستفید ہورہا ہے؟
جناب سرور سروراں ؐ کا یہ ارشاد مقدس کیا ،ہم نے سُنا پڑھا ہے کہ بندہ جب تک اپنے بھائی کی امداد میں مصروف رہتا ہے،اللہ تعالیٰ خود اُس کی امداد میںلگ جاتا ہےاور یہ ارشاد بھی سامنے رہے کہ خود اپنے عوارض کا علاج صدقات وخیرات کے ذریعے کیا کریں ۔ آج سرمائی تھپیڑے ہمیں یہی پیغام دے رہے ہیں کہ اس سے پہلے کہ ہمارا مال دوسرے کے نام منتقل ہو، اس میں سے سائل ومحروم ومسکین ومفلس لوگوں کا حق نکال کے خاموشی سے احسان جتائے بغیر اُن تک پہنچائیں ۔یاد رہے کہ سردیوں کے اس موسم کا یہ بھی سندیسا ہے کہ ہر عروج زوال پذیر ہوتا ہے (الااللہ جسے اللہ بچائے)دھوپ جہاں پڑتی ہے چھائوں گھات میںرہتی ہے۔
انسانی زندگی بھی ایک رنگ ڈھنگ ٗ ہیئت اور شکل وصورت میںنہیں رہتی، مسلسل تبدیلیوں کے ادوار سے گذرتے ہوئے وہاں پہنچ جاتی ہے ۔جہاں اُسے اپنے مولیٰ سے ملنے کے لئے تیار رہنے کے اشارے مل جاتے ہیں ۔خوبصورت چہرے پر جھریاں پڑتی ہیں، شباب ڈھلتا ہے، جوانی کے آفتاب میںگہن لگ جاتا ہے، توانائی وطاقت تبدریج کم ہوتی جاتی ہے، دست وبازو کمزور اور اعضاء پتلے ہوتے جاتے ہیں، زبان میں آہستہ آہستہ لکنت پیدا ہوجاتی ہے، سماعت جواب دینے کو آجاتی ہے، بصارت کے تعلق سے تجربہ کار ڈاکٹرروںکے علاج کے باجود شکایت کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، گٹھنوں کا درد اُٹھنے میںمانع ، چلنے میں حائل اور بیٹھنے میںرکاوٹ بن جاتا ہے۔
غرض انسانی زندگی تبدیلیوں کے مراحل سے گذرتی رہتی ہے یہاں تک کہ جان جان آفرین کے سپرد ہو۔ لازم ہے کہ ہم اپنی صحت ، دولت ، فراغت اور زندگی کو غنیمت جان کر پسماندہ اور پریشان حال انسانیت کے لئے شجرئہ سایہ دار ثابت ہوں ۔ اپاہجوں کی مدد کریں، معذوروں کے دست وبازو بنیں، دست نگر لوگوں کی راحت رسانی کے سامان کریں، اس سے پہلے کہ ہماری زبان بند ہو ہمارے اختیارات کسی اور کے ہاتھ میںچلے جائیں، صندوق اور خزانے کی کنجی کوئی اور سنبھالے ،دفتر ، کارخانے اوردکان پر کوئی اور ہمارا بچہ بیٹھ جائے اور ہم بڑھاپے کے عوارض کے شکار ہوکر اپنے ہی مال سے بے دخلی اور اپنے اختیارات سے دستبرداری پر نواحہ کناں ہوں لابدی ہے کہ ہم بہتر زندگی اور عافیت کے لئے جہاں بارگاہِ ربانی میںدست بدعا رہیں وہاں اپنی اس کمائی میں سے آہ وفغاں کرتے ،ان بیماروں ، ضعیفوں اور مفلوک الحال بندگان الٰہی کی دل جوئی اور بھر پور امداد کے سامان کریں۔ اپنی زندگی میںہی اپنی اولاد کو سخاوت ایثار وانفاق کا سبق پڑھائیں تاکہ ہمارے بعد ان کے دست ہائے سخاوت کچھ ہماری راحت کے سامان کرنے میں بھی حصہ دار بنیں۔
سید نا عبداللہ ابن عمرؓ فرماتے ہیں جب شام ہوجائے تو صبح کاانتظار نہ کرواور جب صبح ہو تو شام کے منتظر نہ بنو۔ تندرستی کی حالت میں اتنا عمل کرلو جو بیماری کی حالت میںبھی کافی ہو اور اپنی زندگی میں اس قدر نیکیاں کرلو جو موت کے بعد بھی تمہارے لئے فائدہ بخش ثابت ہوں ۔(بخاری)
ہاں ان زمستانی ہوائوں جن میںشمشیر کی سی تیزی ہے، اس بات کا بطور خاص خیال رکھیں کہ جلائی ہوئی آگ کو بس یوںہی چھوڑ کے نہ سو جائیں کہ اس موسم میں ہماری لاپرواہیوں سے کتنے ہی مسکن آگ کے نذر ہوجاتے ہیں اور آن کی آن میں کتنے ہی آسودہ حال لوگ بے خانما ں ہوکے رہ جاتے ہیں ۔ بجلی کا بھی درست استعمال کریں ،تاریں بھی معیاری ہوں، ایسا نہ ہو اللہ بچائے اس حوالہ سے ہماری کوئی کوتاہی یا کوئی شارٹ سرکیٹ کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ بن جائے ۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ اس موسم میں کتنی ہی ایسی آتش زدگیاں ہوئی ہیں، جن کے بھیانک اثرات اب تک دیکھے جارہے ہیں۔
اس لئے رسول رحمتؐ نے ارشاد فرمایا :کہ سونے سے پہلے برتنوں کے ڈھکن بند کرواور آگ بجھائو ۔ یہ وہ رہنما اصول ہیں جن پر عمل پیرائی ہمیں بھاری نقصانات سے بچاسکتی ہیں ۔یہ تلخ سچ ہے کہ آتش زدگی کی آفات نے ایسے گھائو اور نتائج دیئے ہیںکہ پھر اجتماعی طور امداد کا کافی کام کرنے کے باوجود بھی متاثرین کی بھر پور امداد ہو نہیں پاتی ۔اس لئے لازم ہے کہ ہم مستعد اور چوکنارہیں اورحزم واحتیاط کا ہر عمل عملائیں ،انسانیت کی صلاح وفلاح اور پریشان حالوں کی امداد ہماری ترجیحات میںشامل رہے کیوں کہ انسانی ہمدردی میں ہی ہماری فلاح کا راز مضمر ہے ۔اختتام صحیح مسلم میں آئی ایک طویل روایت سے :’’ جب روز حشر اللہ تعالیٰ بندے سے گویا ہوگا ،اے آدم کے بیٹے میں بیمار ہوا ،تو نے میرے بیمار پرسی نہیں کی، وہ کہے گا اے میرے رب میںکیسے آپ کی بیمار پرسی کرتا، آپ تو ربّ العالمین ہیں،اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تو نے اُس کی بیمار پُرسی نہیں کی ۔کیا تو نہیں جانتا اگر تو اُس کی بیمارپُرسی کرتا تو مجھے اُس کے پاس پاتا ۔اے آدم کے بیٹے میں نے تجھ سے کھانا مانگا تونے مجھے کھلایا نہیں ، وہ کہے گا اے میرے رب آپ کو کیسے کھلاتا ،آپ تو ربّ العالمین ہیں ،اللہ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے اُسے نہیں کھلایا ۔اگر تو اُسے کھلاتا تو اُس اجر مجھ سے پاتا ۔اللہ فرمائے گا میں نے تجھ سے پینے کو مانگا تونے نہیں پلایا ۔ وہ کہے گا اے میرے رب میں تجھے کیسے پلاتا ،آپ تو رب العالمین ہیں۔اللہ فرمائے گا میرے فلاں بندہ نے تجھ سے کچھ پینے کو مانگا تھا ۔تو نے اُسے نہیں پلایا۔اگر تو نے اُسے پلایا ہوتا تو اُس کا اجر مجھ سے پتا ۔(صحیح مسلم)
آئیے اس ارشاد کی روشنی میں دیکھ لیں کہ ہم ان زمہریری شب وروز میں بھوکوں پیاسوں اور بیماروں و ضعیفوں کی خدمت کیسے کرتے ہیں ۔ ہم انسان ہیں اور انسانوں سے محبت ہماری انسانیت کی پہچان ہے۔ یاد رکھئے ؎
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
اللہ کرے ہمارے قلوب انسانی ہمدردی کے جذبات سے سرشار ہوکہ بقائے انسانیت کے لئے کام کرتے رہیں۔
رابطہ۔7006055300