ڈاکٹر شگفتہ خالدی، سرینگر
وادی کشمیر میں آج بھی ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان، مرد و خواتین، روزگار کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ان میں یتیم، بیوہ اور بے سہارا افراد کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے، جو کسی نہ کسی نجی ادارے جیسے پرائیویٹ اسکولوں، اسپتالوں یا دیگر نجی دفاتر میں کام کر رہے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان اداروں میں ان افراد کے ساتھ غیر انسانی اور استحصالی رویہ اپنایا جاتا ہے۔یہ نجی ادارے ان افراد کی مجبوریوں اور بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے کم تنخواہ پر طویل گھنٹوں کام لیتے ہیں۔ کئی سالوں تک خدمات انجام دینے کے باوجود انہیں اچانک ملازمت سے نکال دیا جاتا ہے تاکہ ادارے اپنے رشتہ داروں یا قریبی افراد کو وہاں تعینات کر سکیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ان ملازمین کو ان کی محنت کے مقابلے میں نہایت کم تنخواہیں دی جاتی ہیں، حالانکہ ان اداروں کی آمدنی لاکھوں بلکہ کروڑوں میں ہوتی ہے۔
جب یہ مظلوم ملازمین اپنی تنخواہوں میں اضافے یا بہتر سہولیات کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ احتجاج کی صورت میں ملازمت سے نکالنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ اس طرح کا رویہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔دوسری طرف حکومتِ جموں و کشمیر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یتیموں، بیواؤں اور بے سہارا افراد کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کرے، لیکن بدقسمتی سے محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے ان افراد کے لیے محض ایک ہزار روپے ماہانہ مختص کیے جاتے ہیں، جو آج کی مہنگائی کے دور میں کسی مذاق سے کم نہیں۔بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث نوجوان ذہنی دباؤ، مایوسی اور پریشانی کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب یہ تعلیم یافتہ نوجوان نجی اداروں میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تو وہاں بھی انہیں سکون اور انصاف نہیں ملتا۔
اس صورتحال کے پیش نظر ضروری ہے کہ شکایات سیل، ویمن کمیشن اور دیگر متعلقہ ادارے فوری طور پر نجی اسپتالوں، اسکولوں اور اداروں کے خلاف کارروائی کریں اور یقینی بنائیں کہ وہاں کام کرنے والے اسٹاف کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ انہیں مناسب تنخواہیں، بہتر کام کا ماحول اور ملازمت کا تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سول سوسائٹی، میڈیا، وکلا، اساتذہ اور باشعور طبقہ اس مسئلے پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے آواز بلند کرے۔ نجی اداروں کی من مانی کو روکنے کے لیے شفاف قوانین، باقاعدہ مانیٹرنگ اور سخت سزاؤں کا نفاذ ناگزیر ہے۔ جب تک کمزور طبقے کو قانونی تحفظ اور باعزت روزگار فراہم نہیں کیا جائے گا، تب تک سماجی انصاف کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو یونین سازی اور اجتماعی نمائندگی کا حق دیا جائے تاکہ وہ خوف کے بغیر اپنے مسائل اجاگر کر سکیں۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ کو چاہیے کہ وہ صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ زمینی سطح پر معائنہ کر کے قانون شکنی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اگر آج اس استحصالی نظام کو نہ روکا گیا تو آنے والی نسلیں بھی اسی ناانصافی کا شکار رہیں گی، جو معاشرے کے لیے ایک خطرناک صورتحال ہوگی۔تعلیم یافتہ نوجوان ہی کسی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر انہی کو ناانصافی، استحصال اور مایوسی کا سامنا ہو تو ترقی کا خواب صرف خواب ہی رہ جائے گا۔ حکومت، عدلیہ اور سماجی اداروں کو مل کر اس طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ ایک منصفانہ، باوقار اور مساوی معاشرہ تشکیل پا سکے۔