معلومات
غلام قادر جیلانی
پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد، صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے ’’وکست بھارت ،گارنٹی فار روزگار اینڈ اجیویکا مشن (گرامین)‘‘ یعنی وی بی جی رام جی بل پر دستخط کر دیئے ،اس کے ساتھ ہی دو دہائیوں سے رائج ‘منریگا قانون منسوخ ہو کر تاریخ کا حصہ بن گیا ہے اور اس کی جگہ اس نئے جامع قانون نے لے لی ہے۔جس کے ذریعے دیہی روزگار کو وکست بھارت کے ہدف سے ہم آہنگ کیا گیا ہے ۔اس قانون کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں کے بے روزگار نوجوانوں اور مزدوروں کو روزگار کے بہتر مواقع اور جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس ایکٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اب دیہی خاندانوں کو سالانہ 100 دن کے بجائے 125 دن کا ضمانتی روزگار فراہم کیا جائے گا۔ کام کے دنوں میں یہ 25 فیصد اضافہ ان دیہی باشندوں کے لیے ایک بڑا معاشی سہارا ثابت ہوسکتا ہے جو اپنی گزر بسر کے لیےصرف روزانہ کی اجرت پر منحصر ہیں۔اس قانون کی ایک نمایاں خوبی اجرتوں کی فوری ادائیگی کا پابند بنانا ہے۔ نئے ضابطے کے تحت مزدور کو اس کے کام کا معاوضہ ہفتہ وار یا زیادہ سے زیادہ 15 دن کے اندر فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اگر ادائیگی میں مقررہ وقت سے تاخیر ہو جائے تو حکومت مزدور کو اضافی معاوضہ (Compensation) ادا کرنے کی پابند ہوگی۔علاوہ ازیں، زرعی موسم اور کسانوں کی ضرورتوں کا خاص خیال رکھتے ہوئے، اس قانون میں سالانہ 60 دن کا وقفہ رکھا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے اہم ایام میں مزدور زرعی سرگرمیوں کے لیے دستیاب رہ سکیں اور دیہی معیشت کا توازن برقرار رہے۔قانون کے تحت کی جانے والے ترقیاتی کاموں کو چار اہم شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔(۱)آبی تحفظ (Water Conservation): دریاؤں کی صفائی، نہروں کی مرمت اور پانی کے ذخائر کی تعمیر۔(۲) دیہی بنیادی ڈھانچہ (Rural Infrastructure) گاؤں کی سڑکیں، پل اور عوامی عمارات۔(۳) معاشی استحکام (Livelihood Assets) ایسی تعمیرات جو مستقل روزگار کا ذریعہ بن سکیں۔(۴)ماحولیاتی تحفظ (Climate Resilience) موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات ۔
اس قانون کے تحت اخراجات کی تقسیم کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان ایک واضح شراکت داری طے کی گئی ہے۔ عام ریاستوں کے لیے رقومات کی فراہمی کا تناسب 60:40 رکھا گیا ہے، یعنی 60 فیصد اخراجات مرکزی حکومت اور 40 فیصد متعلقہ ریاست برداشت کرے گی۔ تاہم، شمالی اور ہمالیائی ریاستوں (بشمول جموں و کشمیر) کی خصوصی جغرافیائی اور معاشی صورتحال کے پیشِ نظر یہ تناسب 90:10 مقرر کیا گیا ہے تاکہ ان علاقوں کی ترقی پر مالی بوجھ کم پڑے۔ان مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں جہاں قانون ساز اسمبلی موجود نہیں مرکزی سرکار 100 فیصد رقومات فراہم کرےگی ۔اس کے ساتھ ہی اسکیم کے موثر نفاذ اور نگرانی کے لیے انتظامی اخراجات (Administrative Expenses) کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس کی حد کو 6 فیصد سے بڑھا کر 9 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کا مقصد نچلی سطح پر عمل درآمد کرنے والے عملے کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنا ہے۔اس نئے قانون کا ایک اہم ستون مقامی سطح پر منصوبہ بندی کو مضبوط بنانا ہے، جس کے لیے گرام پنچایتوں کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ اب ترقیاتی کاموں کو صرف انفرادی منصوبوں کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا بلکہ انہیں قومی دیہی بنیادی ڈھانچے کے نیٹ ورک (National Rural Infrastructure Stack) کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے اس نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا ہے، جس میں درج ذیل اہم نکات شامل ہیں ۔
(۱)ڈیجیٹل نگرانی (Digital Monitoring) منصوبوں کی پیش رفت کی سخت نگرانی کے لیے ڈیجیٹل نظام کا قیام۔(۲)ریئل ٹائم ٹریکنگ (Real-time Tracking) کام کی جگہوں اور رقومات کی فراہمی کی براہِ راست نگرانی تاکہ بدعنوانی کا خاتمہ ہو سکے۔(۳)بایومیٹرک تصدیق (Biometric Authentication): مزدوروں کی حاضری اور ادائیگیوں کے لیے بایومیٹرک نظام، تاکہ فرضی اندراج کو روکا جا سکے۔(۴)سوشل آڈٹ (Social Audit): عوامی سطح پر کاموں کی جانچ پڑتال کے نظام کو مزید فعال بنانا، تاکہ عوام خود احتسابی کے عمل میں شریک رہیں۔
حکومت نے جی رام جی قانون 2025 کے تحت دیہی عوام کے لیے کام کی درخواست دینے کے عمل کو نہایت سادہ اور شفاف بنا دیا ہے۔ اگرچہ حکومت اس حوالے سے مزید تفصیلی قواعد وضع کر رہی ہے، لیکن رجسٹریشن کے بنیادی مراحل پرانی اسکیموں کی طرح ہی مانوس ہیں تاکہ عام مزدور کو کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔روزگار کی حصول یابی کے لئے مزدوروں کو درج ذیل مراحل پر عمل کرنا ہوگا۔
رورل ایمپلائمنٹ کارڈ کا حصول: سب سے پہلے ہر مستحق فرد کو ‘رورل ایمپلائمنٹ کارڈ حاصل کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ کارڈ منریگا کے پرانے جاب کارڈ کی جگہ لے گا اور اس بات کی سرکاری سند ہوگا کہ آپ جی رام جی مشن کے تحت رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ کارڈ کے حصول کے لیے گرام پنچایت کے دفتر یا قریبی ایمپلائمنٹ سنٹر سے رجوع کرنا ہوگا۔ وہاں موجود عملہ رجسٹریشن فارم بھرنے میں مزدوروں کی مدد کرے گا۔ رجسٹریشن کے لیے کسی پیچیدہ کاغذی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔ مزدور کو صرف اپنی شناخت کا ثبوت (آدھار کارڈ وغیرہ) اور پتے کی تفصیلات پر مبنی سادہ دستاویزات پیش کرنے ہوں گے۔ فراہم کردہ تفصیلات کی مختصر جانچ پڑتال کے بعد، پنچایت کی جانب سے نیا ایمپلائمنٹ کارڈ جاری کر دیا جائے گا۔ کارڈ حاصل کرتے ہی مزدور اسکیم کے تحت باضابطہ طور پر کام کرنے کے اہل ہو جائیں گے اور اپنی ضرورت کے مطابق روزگار کا مطالبہ کر سکیں گے۔
اگرچہ حکومت نے دیہی روزگار کے اس نئے قانون کو ایک تاریخی اصلاح قرار دیا ہے تاہم اس قانون نے ملک میں ایک نئی سیاسی بحث اور احتجاج کو بھی جنم دیا ہے۔ مخالف سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ یہ تبدیلی محض نام تک محدود نہیں بلکہ اس قانون سے مزدوروں کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس اور دیگر مخالف جماعتوں نے اس قانون کو ‘مزدور دشمن قرار دیتے ہوئے اسے دیہی غریبوں کے قانونی حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔ حزبِ اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے نئ اس قانون پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے دیہی بھارت کے لیے ایک بڑا جھٹکا قرار دیا۔ کانگریس نے مرکزی حکومت کی جانب سے دیہی روزگار کی تاریخی سکیم منریگا (MGNREGA) کو کا لعدم کرنے اور اس کی جگہ وی بی جی رام جی (VB-G-RAM-G) قانون نافذ کرنے کے خلاف ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے تمام تر اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون روزگار کے حق کو مزید قانونی استحکام فراہم کرتا ہے اور اس کا اصل مقصد محض مزدوری دینا نہیں بلکہ پائیدار اثاثہ جاتی تعمیر کے ذریعے دیہی معیشت میں نئی روح پھونکنا ہےاور اس قانون کے ذریعے دیہی بھارت کو محض امداد پر منحصر رکھنے کے بجائے خود انحصاری اور ‘وکست بھارت کی منزل کی طرف گامزن کرنا مقصود ہے۔
وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈ اجیویکا مشن (گرامین) ایکٹ 2025 بھارت کی دیہی روزگار پالیسی میں ایک سنگِ میل اور اہم تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ ضمانتی روزگار کے دنوں میں اضافہ، ترقیاتی کاموں کو قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا اور نظام میں جدید ڈیجیٹل گورننس کا نفاذ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قانون دیہی معیشت اور روزگار کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک ٹھوس قدم ہے۔یہ تمام اصلاحات محض سرکاری اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ یہ ‘وکست بھارت 2047’ کے اس عظیم وژن کا حصہ ہیں جو بھارت کو ایک خوشحال، ترقی یافتہ اور خود کفیل ملک بنانے کا خواہشمند ہے۔
[email protected]