عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/ہِل اسٹیٹس ہارٹیکلچر فورم (HSHF) نے جاری اور مجوزہ آزاد تجارتی معاہدوں (FTAs) کو ملک کے سیب شعبے، بالخصوص جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے کاشتکاروں کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے حکومتِ ہند سے فوری مداخلت اور پالیسی پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ہریش چوہان کی زیر صدارت فورم کے ایک اعلیٰ سطحی وفدنے مرکزی وزیرِ زراعت شیو راج سنگھ چوہان سے ملاقات کر کے سیب کے کاشتکاروں کے خدشات سے آگاہ کیا۔
وفد میں ماجد اے وفائی، بشیر احمد نائیک، ازہان جاوید، ارشاد اے بھٹ اور سنیل اگروال شامل تھے۔ وفد نے بتایا کہ باغبانی، خصوصاً سیب کی کاشت، پہاڑی ریاستوں کی معیشت کی بنیاد ہے جو لاکھوں کسان خاندانوں کے ساتھ ساتھ مزدوروں، ٹرانسپورٹروں، کولڈ اسٹوریج، پیکجنگ اور مقامی تجارت سے وابستہ ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ فورم نے نیوزی لینڈ، یورپی یونین، امریکہ اور چِلی کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے تناظر میں سیب کی درآمدی ڈیوٹی میں ممکنہ کمی پر شدید تشویش ظاہر کی۔کاشتکار نمائندوں نے خبردار کیا کہ موجودہ 50 فیصد کسٹمز ڈیوٹی میں کسی بھی قسم کی نرمی، خاص طور پر ٹیرف ریٹ کوٹا کے تحت، ملکی پیداوار کو سستی درآمدات کے مقابلے میں شدید نقصان پہنچائے گی، کیونکہ بیرونِ ملک سیب کو سبسڈی، جدید مشینری اور برآمدی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔
وفد نے اس تجویز پر بھی اعتراض کیا کہ مارچ کے مہینے سے سیب کی درآمدات کی اجازت دی جائے، کیونکہ اس سے پہاڑی ریاستوں میں دہائیوں کی محنت اور بھاری سرمایہ کاری سے قائم کولڈ اسٹوریج اور بعد از برداشت نظام تباہ ہو سکتا ہے اور مقامی منڈیوں میں قیمتیں بری طرح گر جائیں گی۔فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیب کی درآمدی ڈیوٹی میں کسی بھی کمی پر فوری نظرِ ثانی کی جائے، ایف ٹی ایز کے ملکی باغبانی پر سماجی و اقتصادی اثرات کا جامع جائزہ لیا جائے، حفاظتی اقدامات کو مضبوط کیا جائے، تجارتی مذاکرات میں کسان تنظیموں کو شامل کیا جائے اور درآمدی سیب کی اسیسنگ ویلیو کو50 سے بڑھا کر90 کیا جائے تاکہ انڈر اِن وائسنگ روکی جا سکے۔وفد نے بتایا کہ مرکزی وزیرِ زراعت نے تمام نکات توجہ سے سنے اور یقین دہانی کرائی کہ کسانوں کے مفادات پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جس سے کاشتکاروں میں اعتماد پیدا ہوا ہے کہ یہ معاملہ اعلیٰ سطح پر سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جائے گا۔
ایف ٹی ایز ملک کے سیب کے کاشتکاروں کے لیے بڑا خطرہ قرار،ہِل اسٹیٹس ہارٹیکلچر فورم کا حکومت سے فوری نظرِ ثانی کا مطالبہ