نعمت ِخدا
محمد ابوالبرکات مصباحی
جب سے یہ دنیا معرض وجود میں آئی ہے تب سے لے کر آج تک اور جب تک باقی رہے گی، اللہ تعالیٰ اس میں بسنے والوں کے لیے انواع و اقسام کی چیزیں مہیا فرماتا رہے گا،تاکہ انسان اس کی بدولت عروج و ارتقا کی منزلیں طے کرتا رہے، ہر چڑھتے دن اور ڈھلتے سورج کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کے لئے نئی نئی آسائشوں کے سامان ایجاد فرما رہا ہے، تاکہ انسان کو کسی بھی طرح کی دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، وہ بے فکر ہو کر یکسوئی کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کرتے رہیں، حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو انسان کا مقصود تخلیق بھی یہی ہے۔
موجودہ دور سائنس کا دور کہلاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عصر حاضر میں سائنس نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جنھیں کوئی بھی فراموش نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں سائنس کو جتنی ترقی ہوئی ہے پہلے کبھی ایسی ترقی نہیں ہوئی تھی،صحیح معنوں میں اگر دیکھا جائے تو یہ بات سب پر بالکل عیاں ہو جائے گی کہ آج سائنس نے پوری دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے، سائنس کی قسمت میں ہر دن صبح بہاراں بن کر آتا گیا،اور زندگی کے ہر ریس میں میدان فتح کرتا رہا، اب کسی کے لیے بھی ان کا ساتھ پکڑنا تو درکنار کوئی ان کا پیچھا بھی نہیں کر سکتا۔
یہ بات اظہر من الشمس ہو چکی ہے، اندھے اکھیارے سارے اس بات کے قائل ہیں کہ سائنسی ایجادات نے نظام زندگی کو آسان سے آسان تر بنا دیا ہے، سائنس ہی کی مرہون منت ہے کہ آج بین الاقوامی رابطے میں مضبوطی آئی ہے اور اس میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے، اگر ہم اپنی صباح و مسا پر غور کریں تو یہ بات ہر ایک پر ظاہر ہوجائے گی کہ چند ہی سالوں میں سائنس نے زندگی کے ہر شعبوں میں انقلاب بپا کر دیا ہے، چاہے وہ نقل و حرکت کے معاملات ہوں یا دوسری اہم ایجادات، سب سائنس ہی کی دین ہیں۔موجودہ دور میں سائنس نے حیات انسانی کے ہر شعبوں میں ایسی تیزی لائی ہے جوکہ تصور سے بھی پرے تھا۔ پہلے زمانے میں لوگ عام طور پر پیدل یا گھوڑے پر سوار ہو کر سفر کیا کرتے تھے جو بڑا دشوار گزار ہوتا تھا ،سفر ہی میں مہینے بیت جاتے تھے۔ لیکن آج سائنس نے ہمیں ایسا انمول تحفہ دیا ہے، جو بے مثل و بے مثال ہے اسی کی وجہ سے آج ہم مہینوں کا سفر دنوں میں، دنوں کا سفر گھنٹوں میں اور گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے کر لیتے ہیں۔سائنس دانوں کی روز و شب کی محنتوں کی وجہ سےبہت کچھ ممکن ہو پایا ہے، سائنسی ایجادات نے ہمیں ایسی ایسی چیزیں فراہم کی ہیں جسے دیکھ کر عقل انسانی ماؤف ہوجاتا ہے۔ صاحب عقل و فہم بھی ان کی گونا گو ایجادات دیکھ کر محو حیرت ہیں۔
سائنس کی حیران کن ایجادات میں سے ایک ایجاد بجلی کی بھی ہے بجلی سائنس کا دیا ہوا ایک انوکھا تحفہ ہے۔جوہر موڑ پر انسان کی مسرتوں کا سامان فرہم کرتی ہے۔ سائنس نے جتنی بھی ایجادات کیے ہیں ان میں سب سے اولین درجہ بجلی ہی کا ہے، یہ بشری زندگی میں روز مرہ استعمال میں لائی جاتی ہے ۔حقیقت حال کا اگر مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات بالکل روز روشن کی طرح کھل کر سامنے آچکی ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے ہم اس کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ یہ انسانی زندگی کا ایک حصہ بن چکی ہے ،بلفظ دگر بجلی انسانی زندگی کے لیے جزوی لا ینفک بن چکی ہے، جس سے اب کسی بھی انسان کو چھٹکارا نہیں ہے، صبح سے لے کر شام تک جتنی بھی چیزیں عام طور پر استعمال میں آتی ہیں ساری بجلیوں ہی سے چلتی ہیں۔ آپ لوگ اپنے آس پاس رہنے والوں کو بارہا دیکھتے ہوں گے کہ جب دو چار منٹ کے لیے بجلی چلی جاتی ہے تو لوگ کتنا پریشان ہوتے ہیںاور اگر کچھ گھنٹوں کے لیے چلی جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قیامت صغریٰ قائم ہو گئی ہے، اس کے بغیر نظام زندگی تھم سی جاتی ہے، سانسیں رکنے لگتی ہیں اور دم گھٹنے لگتا ہے۔
اب آئیے بجلی کی پیداوار کے بارے میں کچھ جان لیتے ہیں: سب سے پہلے بجلی کب، کیسے، اور کس نے بنائی ۔ الیسانڈرو جوزیف انٹونیو وولٹا(Alessandro Giuseppe Antonio Volta) یہ پہلا سائنس داں ہے جس نے دنیا کو جدید طریقے سے بجلی بنانے کا فن دیا، یہ اٹلی میں 18 فروری 1745ء میں پیدا ہوئے اور وہیں پلا بڑھا ،یہ ایک معروف و مشہور کیمیا داں اور ماہر طبیعیات شخص تھے ۔انھوں نے 1799ء میں’’وولئیک پائل‘‘ نامی ایک برقی بیٹری بنائی تھی۔
وولٹا نے اس ایجاد کے ذریعے یہ ثابت کر دیا تھا کہ بجلی کیمیائی طریقوں سے پیدا کی جا سکتی ہے۔لہٰذا اس کی اس اہم ایجاد نے سائنسی میدان میں نئے ابواب کھول دیے، یہی وجہ ہے کہ کثیر تعداد میں سائنس سے شغف رکھنے والے طلبہ اس کے بارے میں تجربات کرنا شروع کر دیے، جس کے نتیجے میں’’ الیکٹرو کیمسٹری ‘‘کا موضوع وجود میں آیا، سائنس کا طالب علم اس سبجیکٹ کو بخوبی جانتا ہے کہ ’’الیکٹرو کیمسٹری ‘‘کس کا نام ہے، وولٹا سائنسی دنیا کا شہ سوار تھا، دنیا میں اس نے خوب نام کمایا، بالآخر 1823ء میں انھیں کئی بیماریوں نے یکے دیگرے جکڑ لیا، جس کے باعث وہ 1827ء میں اس دنیا سے چل بسا۔اس کی وفات کے بعد سائنس کے طالب علموں نے اس کی بنائی ہوئی بیٹری کو نمونہ کے طور پر استعمال کر کے ریسرچ کرنا شروع کئے اور نئے نئے انداز میں بجلی کو اُبھارنے کی کوشش کی ۔ان ہی لوگوں کی کوششوں سے آج بجلی ہم تک اس نئےرنگ ڈھنگ سے پہنچی ہے، جس کو ہم روز و شب استعمال کر کے دنیاوی زندگی کے مزے لے رہے ہیں۔(جاری)