عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/کپواڑہ کی عدالت نے ایک ساتھی پولیس کانسٹیبل پر حراستی تشدد کے معاملے میں ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) سمیت سات پولیس اہلکاروں کو ضمانت دے دی ہے۔ضمانت کے حکم نامے کے مطابق ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک اور دیگر پولیس اہلکاروں جن میں ریاض احمد میر، جہانگیر احمد بیگ، محمد یونس خان، شاکر حسین خواجہ ، تنویر احمد ملا، الطاف حسین بھٹ اور شہنواز احمد شامل ہیں، کو کپواڑہ کی عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ تمام ملزمان اس وقت سری نگر جیل میں بند تھے۔عدالت نے ملزمان کو ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی اور مچلکہ بانڈ جمع کرانے کی ہدایت دی ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر اس کے علاقائی دائرہ اختیار سے باہر نہیں جا سکتے۔
عدالت نے ملزمان کو اپنے پاسپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ استغاثہ کے شواہد کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے، نہ ہی کسی گواہ کو دھمکائیں گے یا مقدمے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں گے۔ملزمان کو ہر سماعت پر ٹرائل کورٹ میں حاضر رہنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ عدالت نے خبردار کیا ہے کہ ضمانت کی شرائط کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے اور ضمانتی بانڈ ضبط کیے جا سکتے ہیں۔
عدالت نے جیل حکام کو ہدایت دی ہے کہ اگر ملزمان کسی اور کیس میں مطلوب نہ ہوںتو ضمانتی بانڈز جمع ہونے کے بعد انہیں رہا کیا جائے۔واضح رہے کہ ان پولیس اہلکاروں کو فروری 2023 میں اپنے ہی ساتھی کانسٹیبل خورشید احمد چوہان پر حراستی تشدد کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے 26 جولائی کو مقدمہ درج کیا تھا، جس میں قتل کی کوشش سمیت مختلف دفعات شامل ہیں۔اس سے قبل 21 جولائی کو سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی تھی اور متاثرہ کانسٹیبل کو 50 لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا تھا۔
پولیس کانسٹیبل حراستی تشدد معاملہ: عدالت نے ڈی ایس پی سمیت7پولیس اہلکاروں کو ضمانت دے دی