عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/کرائم برانچ کشمیر کے اکنامک آفینسز ونگ (ای او ڈبلیو) نے نوکری اور ٹیوشن فراہم کرنے کے بہانے کشمیر کے 1,300 سے زائد نوجوانوں کو دھوکہ دینے کے الزام میں ٹرو ڈریمز پروجیکٹ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ (TDPI) کے ڈائریکٹر کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
ای او ڈبلیو کے مطابق، ملزم بہار کا رہائشی ہے جس نے زیر تربیت نوجوانوں سے رجسٹریشن فیس وصول کی، تاہم وعدہ کی گئی تنخواہیں ادا نہیں کیں، جس پر اس کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات 420 اور 120-بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ای او ڈبلیو کشمیر نے ایف آئی آر نمبر 04/2022 کے تحت دفعات 420 اور 120-بی آئی پی سی میں سب جج سمبل کی عدالت میں رنجیت پرساد ولد سام دیو پرساد، ساکن مقصود پور، پولیس اسٹیشن اونچک گاؤں، ساسموسا، گوپال گنج، بہار کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے۔
بیان کے مطابق، یہ معاملہ ایک تحریری شکایت کے بعد سامنے آیا جس میں الزام لگایا گیا کہ ٹرو ڈریمز پروجیکٹ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ نے اپنے ڈائریکٹر رنجیت پرساد کے ذریعے کشمیر میں ایک بھرتی مہم چلائی، جس کے دوران کمپنی کے نمائندوں کے ذریعے تقریباً 1,300 نوجوانوں کو شامل کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ان نوجوانوں کو ماہانہ 5,000 سے 12,000 روپے تنخواہ دینے کا وعدہ کیا گیا، تاہم ان سے فی کس 2,400 روپے بطور رجسٹریشن فیس جمع کرائی گئی۔ رقم وصول کرنے کے باوجود نوجوانوں کو کوئی تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔
تحقیقات کے دوران ابتدائی طور پر یہ بات ثابت ہوئی کہ کئی معصوم طلبہ کو ٹیوشن اور روزگار فراہم کرنے کے بہانے مبینہ طور پر دھوکہ دیا گیا اور مالی طور پر نقصان پہنچایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ملزم کے افعال اور کوتاہیاں تعزیراتِ ہند کی دفعات 420 اور 120-بی کے تحت قابلِ سزا جرم بنتی ہیں۔ زبانی اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر تحقیقات مکمل کی گئیں اور الزامات کو درست پایا گیا۔
ای او ڈبلیو کے مطابق، چونکہ ملزم نے تفتیشی ایجنسی کے ساتھ تعاون نہیں کیا اور دیے گئے پتے پر دستیاب نہیں پایا گیا، اس لیے فوجداری ضابطۂ کارروائی (سی آر پی سی) کی دفعہ 512 کے تحت غیر حاضری میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔
نوکری کا جھانسہ دے کر 1,300 نوجوانوں سے دھوکہ، ای او ڈبلیو کشمیر نے بہار کے شخص کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی