مومن فہیم احمد عبدالباری
بھارت میں کھیل کے ہر شعبے میں پروفیشنلزم نے اسپورٹس جرنلزم کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ پرانے وقتوں میں اسپورٹس میگزین اور موقر انگزیزی روزناموں میں اسپورٹس بالخصوص کرکٹ سے متعلق آرٹیکل لکھنے والوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ، موجودہ دور میں کرکٹ کے علاوہ بھی دیگر کھیلوں میں اینکرس، کمینٹیٹرس، اخبارات میں اسپورٹس کالم اور تحقیقی مضامین لکھنے والے جرنلسٹوں کے علاوہ سوشل میڈیا پراس شعبے نے کرئیر بنانے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ معروف ریٹائرڈ کرکٹر عرفان پٹھان کو دیکھ سکتے ہیں جنھوں نے آئی پی ایل 2025 کے دوران کمینٹری پینل میں منتخب نہ کئے جانے پر اپنا یوٹیوب چینل ’’سیدھی بات وتھ عرفان پٹھان‘‘ شروع کیا جو بہت ہی کم وقت میں مقبولیت حاصل کرگیا۔ آئیے اس شعبے میں کرئیر سے متعلق کچھ اہم باتوں پر گفتگو کریں۔
اسپورٹس جرنلزم ایک ایسا راستہ ہے جس کے لیے نہ صرف کھیلوں کے لیے گہرے جذبے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ گہری نظر اور سادہ الفاظ میں اپنی بات کو پیش کرنے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔ ’’آف سائیڈ‘‘کے ذریعے خوبصورت ’’کور ڈرائیو ‘‘سے لے کر عین اس لمحے تک جب ایک تیراک دیوار کو چھوتا ہے، اسپورٹس جرنلسٹ لمحہ بہ لمحہ واقعات کو منجمد کرتے ہیں، ایسی کہانیاں تخلیق کرتے ہیں جو طاقتور جذبات کو جنم دیتی ہیں۔اسپورٹس جرنلسٹ کے طور پرملٹی ٹاسکنگ ہونا آپ کا خفیہ ہتھیار ہے۔ چاہے آپ دلفریب داستانیں سنا رہے ہوں، براہ راست کھیل کے مناظر کی عکاسی کررہے ہوں ، میچ کے بعد انٹرویوز لے رہے ہوں یا میدان سے باہر کی کہانیوں سے پردہ اٹھا رہے ہوں ، آپ مسلسل متحرک رہتے ہیں۔ کھیل کے طریقوں، اعداد و شمار، اہم واقعات، تاریخ اور ماضی سے حال تک کھیل کے سفر سے واقفیت یہ تمام خوبیاں ایک اسپورٹس جرنلسٹ میں ہونا لازمی ہیں۔
اسپورٹس جرنلزم صرف اسکور بورڈ کی رپورٹنگ کرنے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس میں لائیو کمنٹری اور ایتھلیٹس کے انٹرویو سے لے کر کھیلوں کے انتظام پر تحقیقاتی رپورٹنگ تک بہت سی سرگرمیاں شامل ہیں۔ اپنے آپ کو مختلف کرداروں سے آشنا کریں اور اپنا مقام تلاش کریں۔ اگرچہ اسپورٹس جرنلزم میں ایک مخصوص ڈگری ہمیشہ ضروری نہیں ہوتی ہے، لیکن صحافت، مواصلات یا زبانوں میں بیچلر کی ڈگری انتہائی فائدہ مند ہے۔ کھیلوں کی تاریخ، میڈیا اخلاقیات اور صحافت کے قانون کے کورسز ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ایک کامیاب اسپورٹس جرنلسٹ جیک آف آل ٹریڈ (کئی باتوں میں ماہر) ہوتا ہے۔ اپنی تحریر، ترمیم اور انٹرویو کی مہارت پر کام کریں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں، ملٹی میڈیا ٹولز، سوشل میڈیا اور یہاں تک کہ بنیادی فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی میں مہارت آپ کو دوسروں سے ممتاز بنا سکتی ہے۔
مقامی سطح سے کام کی شروعات کریں : ایک بلاگ شروع کریں، اسکول/کالج کے جرائد میں حصہ ڈالیں، یا مقامی اسپورٹس نیٹ ورکس میں انٹرن ہوں۔ آپ کا مقصد کام کا ایک پورٹ فولیو بنانا ہے جو کھیلوں کی کہانیوں کو مؤثر طریقے سے کور کرنے کی آپ کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
کھیلوں کی صنعت رابطوں سے پروان چڑھتی ہے۔ کھیلوں کی تقریبات میں شرکت کریں، پیشہ ورانہ انجمنوں میں شامل ہوںسینیئر صحافیوں سے جڑیں۔ نیٹ ورکنگ رہنمائی کے مواقع اور ملازمت کے مواقع کا باعث بن سکتی ہے۔ کھیلوں کی دنیا کے تاحیات سیکھنے والے بنیں۔ کسی خاص کھیل یا اسپورٹس جرنلزم کے اس پہلو میں مہارت حاصل کریں جس کے بارے میں آپ پرجوش ہوں۔ یہ آپ کو فیلڈ میں ماہر بنا سکتا ہے۔ چھوٹے، مقامی اخبارات، بلاگز، ریڈیو اسٹیشن ، سوشل میڈیا چینل سے شروع کریں۔ آپ کا ہر تجربہ آپ کو بڑے کے مواقع سے قریب کرتا جائے گا۔اعلیٰ اخلاقی معیارات کو برقرار رکھیں۔ بحیثیت صحافی آپ کی ساکھ آپ کی غیر جانبداری اور تعصب کے بغیر حقائق کو رپورٹ کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔ صحافت کا شعبہ مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ موافق بنیں ، نئی ٹیکنالوجیز اور کہانی سنانے کے طریقوں کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھیں ، سیکھنے کا جذبہ ہمیشہ قائم رکھیں۔ اسپورٹس جرنلزم سخت ڈیڈ لائن اور سفر کے ساتھ مطالبہ کر سکتی ہے۔ کھیلوں اور کہانی سنانے کے اپنے شوق کو زندہ رکھیں، کیونکہ یہ آپ کے کام میں جھلکتا ہے اور آپ کے سامعین کے ساتھ گونجتا ہے۔
اگر آپ ایک اعلیٰ درجے کے کھیلوں کے صحافی بننے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ماس کمیونیکیشن کا مطالعہ آپ کو ایک ایسے کیریئر تک رسائی حاصل ہو جائے گی جہاں آپ صرف گیمز کا احاطہ نہیں کر رہے ہوں گے، آپ ایسی کہانیاں سنا رہے ہوں گے جو گونجتی اور متاثر کرتی ہوں گی جو بعض اوقات ہمارے دنیا کو دیکھنے کے انداز کو بھی بدل دیتی ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک (این آئی آر ایف) کی درجہ بندی 2024 کی بنیاد پر ہندوستان اعلیٰ ترین بیس (20) ماس کمیونیکیشن انسٹی ٹیوٹ میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن (IIMC)(نئی دہلی)، ایشین کالج آف جرنلزم (ACJ)(چنئی)، سمبائسیس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن (SIMC) (پونے) زیویئر انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشنز (XIC)(ممبئی) اے جے کے ماس کمیونیکیشن ریسرچ سینٹر(نئی دہلی) منی پال اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (MAHE)(منی پال) کرائسٹ یونیورسٹی (بنگلورو) ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی (SPPU)(پونے) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف جرنلزم اینڈ نیو میڈیا (IIJNM)(بنگلورو) لیڈی شری رام کالج برائے خواتین (LSR)(نئی دہلی) ایمیٹی سکول آف کمیونیکیشن (ASCO)(نوئیڈا) صوفیہ کالج برائے خواتین (ممبئی) کشن چند چیلارام کالج (کے سی کالج)(ممبئی) منورما سکول آف کمیونیکیشن (MASCOM) (کوٹائم)اے پی جے انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن (AIMC)(نئی دہلی) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU)(علی گڑھ)، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسٹڈیز (IMS)(نوئیڈا) NSHM نالج کیمپس (کولکتہ) آئی ایم ایس یونیسن یونیورسٹی (دہرادون) ایمیٹی یونیورسٹی (لکھنؤ) وغیرہ۔ ان اداروں کے علاوہ بھی ماس کمیونکیشن اور میڈیا اسٹڈیز کے کئی اہم کالج ملک بھر میں ہیں جہاں سے جرنلزم کی ڈگری حاصل کی جاسکتی ہے۔
درکار تعلیمی قابلیت: کسی بھی شعبہ (آرٹس، سائنس، کامرس ) سے بارھویں یا اس کےمساوی جماعت کامیاب طالب علم تین اور چار سال پر مشتمل ڈگری میں داخلہ حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے طلبہ جنھوں نے گریجویشن مکمل کرلیا ہے اور وہ اس شعبہ میں کرئیر بنانے کے متمنی ہیں وہ ایک سال کا پوسٹ گریجویشن ڈپلوما کورس بھی کرسکتے ہیں۔ کچھ اداروں میں بارھویں کے بعد براہ راست داخلے لیے جاسکتے ہیں جبکہ اہم اور معتبر ادارے اپنے کورسیس میں داخلے کے لیے اہلیتی امتحان کا انعقاد کرتے ہیں۔ داخلے لینے سے قبل اہلیت، فیس، مدت، درکار دستاویز کے لیے آپ یونیورسٹی یا اداروں کی ویب سائٹس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
تصور کریں کہ آپ نے کھیلوں کی صحافت میں برسوں گزارے ، آپ کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں، مواد کی تخلیق میں زبردست بیانیہ تیار کرنے سے لے کر کھیلوں کی مارکیٹنگ میں حکمت عملی تک، ایک اسپورٹس صحافی کے طور پر آپ کی مہارتیں کیریئر کے مختلف راستوں کے دروازے کھولتی ہیں۔ لہٰذا آئیے دریافت کریں کہ کھیلوں کی صحافت سے آپ کا سفر کس طرح بغیر کسی رکاوٹ کے لامتناہی امکانات اور نئی مہم جوئی کے دائرے میں منتقل ہو سکتا ہے۔ دل چسپ مضامین، پوڈکاسٹس اور ویڈیوز بنانا یہ کھیلوں کے مواد کے تخلیق کارکا ایک اہم کام ہے۔ ایک تجربہ کار اسپورٹس صحافی کے طور پر، آپ کھیلوں کے ڈرامے اور جادو کو گرفت میں لینے کے فن میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ اب زبردست مواد تیار کرنے کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کریں جو مداحوں کو ان کی اسکرینوں سے چپکا کر رکھے۔ وائرل سوشل میڈیا پوسٹس سے لے کر گہرائی سے متعلق دستاویزی فلموں تک ڈیجیٹل میدان آپ کا کھیل کا میدان ہے۔ اس تعلق سے عرفان پٹھان ایک اہم مثال ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسپورٹس پبلک ریلیشنز (PR) کے طور پر آپ پریس ریلیز کو ترتیب دینے، میڈیا کے تعلقات کو منظم کرنے اور ٹیم یا ایتھلیٹ کی شبیہ کو بہتر بنانے والی زبردست کہانیاں تیار کرنے کے ماسٹر مائنڈ ہوں گے۔ کھیلوں کی دنیا میں آپ کا بیک اسٹیج پاس اسٹریٹجک کمیونیکیشنز بحران کے انتظام اور دیرپا برانڈ کی ساکھ بنانے کے دروازے کھولتا ہے۔
کھیلوں کی مارکیٹنگ: کاروبار کے میدان میں کام کرنے کے لیے کھیلوں کی جانکاری رکھنا ، کھیلوں کے بڑے ایونٹس کو فروغ دینا، کھلاڑیوں کی اسپانسر شپ ، کھیلوں کے شائقین کی نبض کو سمجھنے کی صلاحیت آپ کا خفیہ ہتھیار ہو گی۔ نمبر، شماریات اور تجزیات۔ اگر آپ کے پاس نمبروں کو کم کرنے اور رجحانات کو سمجھنے میں مہارت ہے تو کھیلوں کے ڈیٹا تجزیہ کار کے طور پر ایک شاندار کیریئر آپ کے لئے ہوسکتا ہے۔ ٹیم کی حکمت عملیوں، کھلاڑیوں کی کارکردگی کے جائزوں کو اعدو شمار کے ذریعے پیش کرنا آپ کا اہم کام ہوگا۔ کھیلوں کے شوق کے ساتھ آپ کی تجزیاتی مہارتیں آپ کو اعدادوشمار کے کھیل کا MVP (سب سے قیمتی کھلاڑی) بنا دے گی۔
کھیلوں کی نشریات: لائٹس، کیمرہ، ایکشن! ایک اسپورٹس براڈکاسٹر کے طور پر اسپاٹ لائٹ میں قدم رکھیں اور لائیو ایونٹس کے جوش و خروش کو براہ راست مداحوں کے رہنے والے کمروں تک پہنچائیں۔ چاہے آپ پلے بہ پلے کمنٹری دے رہے ہوں، کھیلوں کے ٹاک شوز کی میزبانی کر رہے ہوں یا گیم کی جھلکیوں کا تجزیہ کر رہے ہوں، آپ کا ماہرانہ تجزیہ آپ کو مداحوں کا پسندیدہ بنا دے گا۔ کھیل کے میدان سے لے کر اسٹوڈیو تک، آپ کی کہانی سنانے کی مہارت ناظرین کو ان کی نشستوں پر برقرار رکھے گی۔ ایک اسپورٹس ایونٹ مینجمنٹ کے طور پر آپ پردے کے پیچھے تنظیمی مہارت سے کھیلوں کے لیے آپ کا جذبہ ہر ایونٹ کو ناقابل فراموش تجربے میں بدل دے گا۔اسپورٹس جرنلزم کی متحرک دنیا میں، ہر لمحہ ڈرامے، جذبے اور انسانی کہانیوں کو بیان کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے ، کھیلوں کے واقعات کی وضاحت کرتی ہیں۔ لہٰذا چیلنج کو قبول کریں، اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں اور اپنے الفاظ کے ذریعے کھیلوں کے جوش و خروش کو زندہ کریں۔ لکھی گئی ہر کہانی کے ساتھ آپ صرف رپورٹنگ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایسے بیانیے کو تشکیل دے رہے ہیں جو عالمی سطح پر گونجتی ہیں۔ تو تیار ہوجائیں اور بنائیں ایک شاندار کرئیر اسپورٹس جرنلزم میں ۔
رابطہ۔9970809093
[email protected]
�������������������