میر شوکت
اجمیر کی فضا میں جب ذولقعدہ کی ہوا اترتی ہے تو ریت کے ذروں میں بھی ایک نرمی سی در آتی ہے۔ سورج کی تمازت جیسے کچھ جھک جاتی ہے اور آسمان پر پھیلا ہوا نیلا پن کسی بزرگ کی شفقت بھری نگاہ میں بدل جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ کے عرس کا اعلان محض کیلنڈر کی تاریخ نہیں رہتا، بلکہ برِصغیر کی روح میں ایک گہری جنبش پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ عرس وقت کا جشن نہیں وقت پر فتح کا اعلان ہےکہ صدیوں کے بعد بھی محبت زندہ ہے۔خواجۂ خواجگاںؒ کا سفر سیستان کی علمی فضاؤں سے شروع ہو کر خراسان، بغداد، حجاز اور پھر اجمیر کی خشک مٹی تک پہنچتا ہے۔ یہ محض ایک جغرافیائی سفر نہیں تھا بلکہ علم سے عرفان، اور عرفان سے انسان دوستی تک کا ارتقائی سفر تھا۔ بغداد کے مدرسوں میں انہوں نے علم سمیٹا، مگر اجمیر آ کر اسے بانٹا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں علم کتاب سے نکل کر کردار بن جاتا ہے۔تاریخی و تحقیقی اعتبار سے خواجہ معین الدین چشتیؒ اس عہد میں برِصغیر پہنچے جب یہ خطہ سیاسی ہیجان، سماجی اونچ نیچ اور مذہبی بداعتمادی کا شکار تھا۔ ایسے میں انہوں نے نہ مناظرے کو ہتھیار بنایا، نہ طاقت کو سہارا، بلکہ اخلاق کو دعوت بنا لیا۔ ان کی خانقاہ کسی فقہی عدالت کا نام نہیں تھی، وہ دلوں کی پناہ گاہ تھی۔ یہاں نہ سوال عقیدے کا ہوتا تھا، نہ ذات کا،بس انسان ہونا کافی تھا۔ادبی زاویے سے دیکھا جائے تو خواجہ صاحبؒ کی ذات خود ایک مکمل نثر ہے۔سیدھی، شفاف اور گہری۔ ان کے ملفوظات میں نہ لفاظی ہے، نہ تصنع بلکہ وہ سادہ جملے ہیں جو دل میں اتر کر دعا بن جاتے ہیں۔ اجمیر کی گلیوں میں جب زائرین کے قدموں کی آہٹ گونجتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے تاریخ اپنے اوراق پلٹ رہی ہو۔ ہر قدم ایک سطر، ہر آہ ایک مصرع۔عرس کے دنوں میں اجمیر کا منظر کسی عظیم رزمیہ نظم سے کم نہیں ہوتا۔ ریلوے پلیٹ فارم پر اترتے ہوئے قافلے، ہاتھوں میں چادریں، آنکھوں میں امید، ہونٹوں پر خاموش دعائیں۔ کوئی سندھ کے ریگزار سے آیا ہے، کوئی بنگال کے دریاؤں کو پار کر کے، کوئی دکن کی پہاڑیوں سے، کوئی راجستھان کی تپتی دھرتی سے۔ تو کوئی جموں کشمیر کا بارڈر پار کر کے۔سب کا رخ ایک ہی سمت، سب کے قدم ایک ہی در کی طرف۔ یہ وہ اجتماع ہے جس میں کثرت وحدت میں ڈھل جاتی ہے۔خانقاہی روایت کے تناظر میں چشتی سلسلہ ہمیشہ اقتدار سے فاصلہ رکھنے کی علامت رہا ہے۔ خواجہ معین الدین چشتیؒ نے سلطانوں کے قریب ہونے کے بجائے عوام کے قریب ہونا پسند کیا۔ ان کے نزدیک اصل سیاست انسان کو جوڑنے کی سیاست تھی اور اصل معیشت لنگر کی دیگ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دربار پر آج بھی فقیری کی بادشاہی قائم ہے۔بے تاج، بے تخت، مگر بے مثال۔تاریخ گواہ ہے کہ اجمیر کا یہ آستانہ شاعروں، فقیروں، مسافروں اور مفکروں کے لیے ہمیشہ ایک استعارہ رہا ہے۔ فارسی کے قصیدے ہوں یا اردو کی نعتیہ شاعری، ہندی کے بھجن ہوں یا عوامی قوالیاں۔سب نے خواجہ صاحبؒ کو اپنی زبان میں پکارا اور ہر زبان نے جواب پایا۔ قوالی کی لے میں جب’’من تو شدم، تو من شدی‘‘ گونجتا ہے تو سامع کو محسوس ہوتا ہے کہ فاصلوں کا فلسفہ ٹوٹ رہا ہے۔عرس کا سب سے گہرا پہلو اس کا جذباتی و انسانی رُخ ہے۔ لنگر کی دیگ کے گرد بیٹھا ہوا مجمع۔جہاں ایک طرف شہر کا رئیس ہے، دوسری طرف گاؤں کا مزدور۔ایک ہی صف میں روٹی توڑتا ہے۔ یہ وہ سماجی مساوات ہے جس کا اعلان کسی منشور میں نہیں بلکہ عمل میں ہوتا ہے۔ ایک ماں اپنے بیمار بچے کے لیے دعا مانگتی ہے، ایک نوجوان اپنی گم شدہ سمت کے لیے، ایک بوڑھا اپنے گزرے وقت کا حساب چکتا کرتا ہے۔ یہ سب دعائیں کسی شور میں نہیں، خاموش آنسوؤں میں لکھی جاتی ہیں۔علمی سطح پر خواجہ معین الدین چشتیؒ کی فکر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دین کا اصل مقصد تزکیۂ نفس اور خدمتِ خلق ہے۔ ان کے نزدیک عبادت وہ ہے جو انسان کو انسان کے قریب لے آئے اور علم وہ ہے جو غرور کے بجائے عاجزی پیدا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا پیغام آج کے عہد میں پہلے سے کہیں زیادہ بامعنی ہو چکا ہے۔ایک ایسے زمانے میں جب مذہب کو شناخت کی دیواروں میں قید کیا جا رہا ہے۔آج جب دنیا نفرت، تعصب اور تیز آوازوں سے بھری ہوئی ہے، خواجہ صاحبؒ کی خاموشی ایک بلیغ احتجاج بن جاتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل طاقت نرمی میں ہے اور اصل فتح دلوں کی ہے۔ ان کا اسلام کسی کو رد نہیں کرتا، کسی کو باہر نہیں دھکیلتابلکہ سب کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔رات کے پچھلے پہر جب درگاہ کی روشنیاں مدھم ہونے لگتی ہیں قوالیاں تھم جاتی ہیں اور صرف ہوا میں پھیلی ہوئی دعا باقی رہ جاتی ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اجمیر خود سجدے میں ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب تاریخ، عقیدت، ادب اور انسانیت ایک نقطے پر آ کر مل جاتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ کا عرس محض ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی بیانیہ ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر دل وسیع ہوں تو سرحدیں بے معنی ہو جاتی ہیں اور جب تک انسان محبت کا ہنر نہیں بھولتا، اجمیر کی یہ صدا باقی رہے گی۔’’محبت سب کے لیے، عداوت کسی سے نہیں۔‘‘