عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں کے لوک بھون کے باہر ہفتہ کو اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب درجنوں مظاہرین نے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس ریاسی میں جاری ایم بی بی ایس داخلہ تنازع کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی—جو متعدد دائیں بازو کی تنظیموں کا نیا اتحاد ہے—کی قیادت میں مظاہرین نے ایل جی گو بیک اور دیگر نعرے لگاتے ہوئے متنازعہ داخلہ فہرست کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں بی جے پی خواتین ونگ کی کارکنان کے ساتھ ساتھ جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ارون گپتا سمیت کئی تجارتی رہنما بھی شامل ہوئے۔ مظاہرین کی بڑی تعداد کے باعث مرکزی سڑک بند رہی جس سے ایک گھنٹے سے زیادہ ٹریفک جام رہا اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، تاہم احتجاجی گروپوں کو پیچھے دھکیلنے میں اہلکاروں کو خاصی دقت پیش آئی کیونکہ کئی مظاہرین لوک بھون کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔
سنگھرش سمیتی کے کنوینر کرنل سکھویرد سنگھ منکوٹیا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’ہم اپنے مذہبی جذبات سے متعلق ’جائز مطالبات‘ کے حل تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہم کسی مذہب کے طلبہ کے خلاف نہیں، مگر چاہتے ہیں کہ میڈیکل کالج کی نشستیں صرف ہندو طلبہ کے لیے مخصوص ہوں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ایل جی شرائن بورڈ کے چیئرمین ہیں اس لیے ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کسی بھی کمیونٹی کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں۔ منکوٹیا نے مطالبہ کیا کہ اگر نشستوں کی مخصوص مختص کرنا ممکن نہیں تو حکومت کالج کو بند کرنے پر غور کرے۔واضح رہے کہ تنازع اس وقت بھڑکا جب گزشتہ ماہ 50 نشستوں والے پہلے ایم بی بی ایس بیچ کے داخلے نیٹ میرٹ لسٹ کے ذریعے مکمل ہوئے، جن میں 42 مسلم امیدوار—زیادہ تر کشمیر سے—سات ہندو طلبہ جموں سے اور ایک سکھ امیدوار شامل ہے۔
جموں میں ایم بی بی ایس داخلہ تنازع شدت اختیار کرگیا، لوک بھون کے باہر زبردست احتجاج