مختار احمد قریشی
حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا ترک کرنے کی فضیلت ایک ایسا اخلاقی اور دینی اصول ہے جو فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرے کے امن کی ضمانت بنتا ہے۔ اسلام انسان کو صرف حق پر قائم رہنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ حق کے ساتھ حسنِ اخلاق، حلم، بردباری اور تحمل کو بھی لازم قرار دیتا ہے۔ رسول اللہؐ کی تعلیمات میں یہ بات واضح طور پر ملتی ہے کہ بعض مواقع پر اپنے حق پر اصرار ترک کر دینا اخلاقی بلندی اور روحانی کامیابی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا، میں اس شخص کے لیے جنت کے کنارے میں ایک گھر کا ضامن ہوں جو جھگڑا ترک کر دے ،اگرچہ وہ حق پر ہو اور جنت کے درمیان میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ چھوڑ دے، اگرچہ مزاح میں ہو اور جنت کی بلند ترین جگہ پر ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو اپنے اخلاق کو اچھا بنا لے۔ پیغام یہ ہے کہ اسلام محض قانونی حق منوانے کا نام نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے، نفرتوں کو ختم کرنے اور امن کو فروغ دینے کا دین ہے۔ حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا ترک کرنا کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔ یہ عمل اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ انسان اپنی اَنّا، ضد اور غصے پر قابو رکھتا ہے۔رسول اللہؐ کا یہ فرمان بھی اسی حقیقت کو مضبوط کرتا ہے کہ اگر عاجزی اختیار کرنے سے کسی کی عزت کم ہوتی نظر آئے تو قیامت کے دن وہ عزت آپؐ سے لے لے۔ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں عزت کا معیار اور ہے اور آخرت میں عزت کا معیار اور۔ دنیا میں لوگ بلند آواز، سخت لہجے اور ضد کو طاقت سمجھتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک اصل عزت حلم، صبر اور درگزر میں ہے۔ جھگڑا اکثر وہاں جنم لیتا ہے جہاں اَنّا حاوی ہو جاتی ہے۔ انسان حق پر ہو کر بھی اس انداز سے گفتگو کرتا ہے کہ دوسرا خود کو ذلیل محسوس کرے، یہی انداز فساد کی بنیاد بنتا ہے، اسلام اس رویے کو پسند نہیں کرتا۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا کہ صلح بہتر ہے۔ یعنی جہاں معاملہ بگاڑ کی طرف جا رہا ہو وہاں صلح اور نرمی کو اختیار کرنا افضل ہے۔دینی معاملات ہوں یا دنیوی، اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ مگر اختلاف کو جھگڑے میں بدل دینا فطرت نہیں بلکہ اخلاقی کمزوری ہے۔ مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود وقار اور شائستگی قائم رکھتا ہے۔
معاشرتی زندگی میں اکثر جھگڑے معمولی باتوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لین دین، جائیداد، گفت و شنید، گھریلو معاملات اور پیشہ ورانہ تعلقات، ہر جگہ ضد اور اَنا آگے آ کر رشتوں کو توڑ دیتی ہے۔ اگر انسان ان احادیث کو سامنے رکھے اور صرف اللہ کی رضا کے لیے اپنا جائز حق چھوڑ دے تو بسا اوقات بڑے فساد سے بچاؤ ہو جاتا ہے۔ یہی وہ قربانی ہے جس کا وعدہ رسول اللہؐ نے جنت کے وسط میں محل کی صورت میں فرمایا۔ خوش اخلاق انسان نہ سخت لہجہ اختیار کرتا ہے نہ دل دُکھانے والی بات کرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اس کی نرمی دوسروں کے دل جیت لیتی ہے۔ اسی لئے رسول اللہؐ نے خوش اخلاقی کو جنت کے اعلیٰ ترین درجے کا ذریعہ قرار دیا۔ یہ درجہ اس لیے بلند ہے کیونکہ خوش اخلاقی میں صبر، برداشت، درگزر اور عاجزی سب شامل ہیں۔
اگر معاشرے میں ایسے افراد کی تعداد بڑھ جائے جو حق پر ہو کر بھی جھگڑا چھوڑ دیتے ہیں تو عدالتی نظام پر بوجھ کم ہو جائے، گھریلو جھگڑے ختم ہوں اور سماجی ہم آہنگی پیدا ہو۔ یہ تعلیم صرف فرد کی اصلاح نہیں بلکہ اجتماعی امن کا راستہ ہے۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حق چھوڑنا ہمیشہ مطلوب نہیں، لیکن جھگڑا چھوڑنا مطلوب ہے۔ حق کو حکمت، نرمی اور حسنِ اخلاق کے ساتھ پیش کرنا ہی سنتِ نبویؐ ہے۔ جو شخص اس سنت کو اپناتا ہے وہ دنیا میں سکون پاتا ہے اور آخرت میں جنت کے اعلیٰ درجات کا مستحق بنتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں یہ بات بار بار سامنے آتی ہے کہ اصل کامیابی دلیل جیتنے میں نہیں بلکہ دل جیتنے میں ہے۔ جو شخص ہر معاملے میں اپنی بات منوانے کو کامیابی سمجھتا ہے ،وہ بسا اوقات وقتی طور پر مطمئن ہو جاتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو شخص حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا ترک کر دیتا ہے، وہ اپنے دل کو بھی بچاتا ہے اور دوسروں کے دلوں کو بھی ٹوٹنے سے محفوظ رکھتا ہے۔نبی کریمؐ کی سیرت اس اصول کی عملی تصویر ہے۔ آپؐ کو مکہ میں حق پر ہونے کے باوجود اذیتیں دی گئیں، طعن و تشنیع کی گئی، مگر آپؐ نے ذاتی معاملات میں انتقام کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہی لوگ جو کل آپؐ کے مخالف تھے، بعد میں آپؐ کے اخلاق کے قائل ہو گئے۔ یہ بات اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جھگڑا چھوڑ دینا وقتی نقصان نہیں بلکہ طویل المدت فائدہ ہے۔آج کا انسان دلیل کے زور پر بات جیتنا چاہتا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر روزمرہ کی محفلوں تک ہر جگہ بحث اور تکرار عام ہے۔ ہر شخص خود کو درست اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ حدیث ایک مضبوط اخلاقی ضابطہ فراہم کرتی ہے کہ اگر بحث بڑھ رہی ہو تو رُک جانا عبادت بن جاتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب انسان حق پر ہو۔حق پر ہو کر خاموش ہو جانا نفس کے خلاف ہوتا ہے۔ نفس چاہتا ہے کہ انسان اپنی برتری ثابت کرے، مگر ایمان انسان کو سکھاتا ہے کہ اصل برتری اللہ کے ہاں ہے، لوگوں کے سامنے نہیں۔ اسی لئے رسول اللہؐ نے اس عمل پر جنت کے وسط میں گھر کی بشارت دی، کیونکہ یہ عمل نفس شکنی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔حضرت انس ؓ کی روایت میں جھگڑے کے ساتھ ساتھ جھوٹ چھوڑنے اور خوش اخلاقی کو بھی جوڑا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام اخلاقی خوبیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ جو شخص جھگڑے سے بچتا ہے وہ جھوٹ سے بھی بچتا ہے اور جو جھوٹ سے بچتا ہے وہ رفتہ رفتہ خوش اخلاق بن جاتا ہے۔
معاشرتی زندگی میں اگر میاں بیوی، والدین اور اولاد، استاد اور شاگرد، افسر اور ماتحت اس اصول کو اپنا لیں تو آدھے سے زیادہ تنازعات خود بخود ختم ہو جائیں۔ حق پر ہونے کا احساس اکثر ضد میں بدل جاتا ہے۔ اسلام اس ضد کو ختم کر کے حکمت کو فروغ دیتا ہے۔عاجزی اختیار کرنے کے بارے میں نبی کریمؐ کا فرمان اس سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔ دنیا میں لوگ عاجزی کو کمزوری سمجھتے ہیں، مگر رسول اللہؐ نے یقین دلایا کہ جو عزت یہاں کم ہوتی نظر آتی ہے وہ قیامت کے دن کئی گنا بڑھا دی جائے گی۔ یہ یقین ہی مومن کو جھگڑا چھوڑنے کا حوصلہ دیتا ہے،یہ تعلیم ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر حق کا مطالبہ فوراً اور ہر حال میں ضروری نہیں۔ بعض اوقات حق چھوڑ دینا بڑے حق کی حفاظت بن جاتا ہے۔ امن، اتحاد اور اخوت ایسے ہی بڑے حقوق ہیں جن کی خاطر انفرادی حق قربان کرنا عظیم عبادت ہے۔آج کے پُر تناؤ معاشرے میں اس تعلیم کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ زبان کی سختی، لہجے کی تلخی اور بات بات پر تکرار نے سکون چھین لیا ہے۔ اگر انسان یہ طے کر لے کہ جہاں بات بگڑنے لگے گی وہاں وہ رُک جائے گا، تو اس کی زندگی میں بھی آسانی آئے گی اور معاشرے میں بھی۔
اسلام ہمیں نہ بزدلی سکھاتا ہے اور نہ حق سے دستبرداری کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حق کے ساتھ اخلاق کو لازم پکڑو۔ یہی وہ توازن ہے جو نبی کریمؐ کی سنت سے ملتا ہے۔ حق پر ہو کر جھگڑا چھوڑ دینا ،اُسی توازن کی عملی شکل ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول اللہؐ نے اس عمل کی جزا معمولی نہیں رکھی بلکہ جنت کے وسط میں گھر کی ضمانت دی۔ یہ ضمانت اس بات کا اعلان ہے کہ اللہ کے نزدیک اصل کامیابی سکون، بردباری اور اعلیٰ اخلاق میں ہے نہ کہ ہر قیمت پر اپنی بات منوانے میں۔
رابطہ۔8082403001