سوال : (۱)آج کل ہمارے علاقے کے مسلم معاشرے میں ایک رسم عام ہوتی جارہی ہے ،جو غیروں میں’ہلدی‘ کے نام سے موسوم ہے۔کچھ مسلمان لوگ بھی شادی کے روز مہندی کی رسم سے پہلے دُلہن کے چہرے پر ہلدی مَلتے ہیںاور ہلدی رنگ کے کپڑے پہناتے ہیں اوراس کے لئےباقاعدہ پروگرام کیا جاتا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بصورت عدم جواز ایمان پر اثر پڑتا ہے یا نہیں؟ اور کیا اِس رسم کے بعد بغیر توبہ کے نکاح درست ہوگا؟
سوال:(۲)آج کل جگہ جگہ پر مسجدیں تعمیر ہوتی ہیں۔مہنگائی کا دور بھی ہے ،سامان (سیمنٹ، سریا وغیرہ ) مہنگا ہے ۔اب مسجد کمیٹی والے دو نمبر کا مال (سیمنٹ،سریا) وغیرہ خریدتے ہیں جو انہیں سستے داموںمیں ملتا ہے،جس سے مسجد کا کافی پیسہ بچ جاتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح مسجد کے کمیٹی والے دو نمبر کا مال خرید کر مسجد کی تعمیر میں استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟
سوال: (۳) ہمارے دیہاتی علاقوں میں بعض اوقات دو فریقین کے درمیان جھگڑا ہوجاتا ہے ،جس کے لئے اس علاقے کے بڑے معزز افراد دونوں کا جھگڑا ختم کرانے کی کوشش کرتے ہیںاور ان دو فریقین میں سے کسی ایک فریق پر ڈنڈ(جُرمانہ)ڈالتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کسی ایک فریق پر ڈنڈ(مالی جرمانہ)ڈال سکتے ہیں یا نہیں؟ اور اس ڈنڈ والی رقم کا حق دار کون ہوگا؟
مولانا جاوید احمد رحیمی ۔ذمہ دار مکاتب،ڈوڈہ ۔جموں(رابطہ۔9906130549)
شادی کے موقع پر ہلدی کی رسم غیر شرعی عمل
جواب: (۱) ہلدی کی یہ رسم سراسر غیر شرعی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دراصل یہ دوسری قوموں کی رسم ہے اور اس رسم کے پیچھے ایک غیر اسلامی عقیدہ کارفرما ہے اور وہ یہ کہ علاقہ میںبسنے والے غیر مسلم زرد رنگ کا استعمال ایک خاص تصّورکے ساتھ کرتے ہیں۔اُن کے یہاں زرد رنگ اُن کے دھرم کے مطابق ایک مذہبی کام ہے ۔اس لئےاُن کے خاص خاص لوگ گیروا ،یا زعفرانی یا خالص پیلے رنگ کا لباس پہنتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اُن میں بہت سارے گیندے کا پھول ،جو زرد رنگ کا ہوتا ہے ،کو ایک خاص عقیدت سے استعمال کرتے ہیں۔اب جس رنگ کے پیچھے کسی دوسرے مذہب کا خاص تصّور ہو ،وہ رنگ اپنایا جائےتو یہ رنگ اپنانا غیر اسلامی عمل ہے۔دوسرے یہ کہ یہ ایسا کام ہے، جس سے اپنے جسم کے فطری رنگ کو بدلنے کی کوشش ہےاور قرآن کریم میں تغیر ِ خلق اللہ ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس شخص کو چاہا،مرد ہو یا عورت ہو،جو رنگ عطا کیا ہو،وہ اللہ کی تخلیق ہے ،اس کو تبدیل کرنا درست نہیں ہے۔اللہ کی تخلیق میں تغیر کا عمل غیر اسلامی ہے۔ دُلہن کو ہلدی سے رنگنا اور اس کو مسلسل اپنانا اور علاقہ میں ہونے والی شادیوں میں فیشن کے طور پر رواج دینا ہرگز درست نہیں ہے۔علاقہ کے علماء،ایمہ کو چاہئے کہ عوام کو یہ بات نرمی ،حکمت اور سنجیدگی کے ساتھ ،دلائل سے سمجھائیں کہ یہ غیر شرعی عمل ہے۔ اس سے پرہیز کریں۔
مسجد کی تعمیر میں مشکوک مواد استعمال کرنا جائز نہیں
جواب: (۲) مسجد شریف کی تعمیر میں غیرحلال ،عیب دار اور مشکوک مال استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے ۔لہٰذا اس اصول کے مطابق مسجد کی تعمیر میں ایسا لوہا یا سیمنٹ استعمال کرنا جو مکمل طور پر پاک اورحلال نہ ہو ہرگز جائزنہیں ہے۔مسجد تعمیر کرنے میں مالی وسعت کو ملحوظ رکھ کر تعمیر کرنا ہی ایمان کا تقاضا ہے۔سیمنٹ صحیح طریقے سے خریدا جائے۔سیمنٹ فیکٹری والے اگر مسلمان ہوں تو اُن کو قیمت میں کمی کرنے کی ترغیب دی جائے۔ اگر سیمنٹ خریدنے کی گنجائش نہ ہو تو مٹی استعمال کی جائے۔کوئی ضروری نہیں کہ سیمنٹ ہی استعمال ہواور اگر وہ شرعی طور پر مشکوک ہو توپھر ایسا میٹرئیل استعمال کرنا جائز ہی نہیں ہے۔
تصفیہ کرتے وقت کسی فریق پر جرمانہ عائد کرنا غیر شرعی
جواب:(۳) مالی جرمانہ جس کو کچھ علاقوں میں پینلٹی ،کچھ میںڈنڈ اورکچھ میں معاوضہ وغیرہ کہتے ہیں۔یہ مالی جرمانہ دو فریقوں کے درمیان فیصلے کرتےہوئے بہت سارے فیصلے کرنے والے کرتے ہیں۔مثلاً میاں بیوی کے کسی جھگڑے کا تصفیہ کرتے ہوئے کسی ایک فریق پر جرمانہ لاگو کیا جائے،یا دو بھائیوں یا دو فریقین کے درمیان کسی نزاع میں کسی ایک پر جرمانہ لازم کیا جائے ،یہ جرمانہ جس کو ایک خطہ میں ڈنڈ کہا جاتا ہے ،یہ غیر شرعی ہے۔رقم کسی توہین کا عوض نہیں ،اس کو عزتانہ کہنا بھی درست نہیں۔اسلام میں مالی جرمانہ لازم کرنے کا اختیار کسی تصفیہ کرنے والے یا فیصلہ کرنے والے فورم کو نہیں ہے۔لہٰذا یہ غیر شرعی ہے۔حدیث میں ایک واقعہ یوں ہے ۔ایک صحابی نے اپنا بیٹا ایک دوسرے صحابی کے گھر بطورِ خادم (گھریلو ملازم) رکھا۔اُس گھر کی خاتون کے ساتھ اُس بیٹے کے غلط تعلقات قائم ہوگئے اور اُس میںاِس خاتون کی ہی پہل تھی۔یہ جرم کھل گیا تو قبیلہ کے لوگوں نے اس جرم کا فیصلہ کیا کہ اُس بیٹے کے والد کو سو بکریاںعورت کو دینا پڑے گی اور اُس بیٹے کو ایک سال کے لئے ملک بدر (جلائے وطن) کیا جائے۔اُس بیٹے کے والد نے کہا کہ میں حضرت رسول اکرمؐ سے اس معاملے کا فیصلہ کرائوں گا۔چنانچہ وہ حاضر ہوئے ۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،کہ میں وہ فیصلہ کروں گا جو اللہ کی کتاب کے مطابق ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا: بکریاں دینا درست نہیں ہیں۔اگر لی ہوں تو واپس کردیں،اور پھر فرمایا کہ اگر وہ عورت بھی اقرار کرے تو اُس کو اسلامی سزا دی جائے۔یہ حدیث بخاری و مسلم میں ہے،اس حدیث سے واضح ہوا کہ مالی جرمانہ نہیں لیا جائے گا ۔مزید یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ رقم کسی بے عزتی کا بدل نہیں ہوتا ہے۔یہ کسی اخلاقی جرم کا عوض نہیں ہے اور اوپر درج شدہ حدیث ِ مبارک کے مطابق بھی درست نہیں ہے ۔خلاصہ یہ کہ معاوضہ کی رقم چاہے اُسے ڈنڈ کہا جائے یا عزتانہ ،یا پینلٹی، شرعاً لینا ،یایہ رقم دلوانا ہرگز درست نہیں ۔اس میں فیصلہ کرنے والے اور فیصلہ کی بنیاد پر رقم لینے والا ،یہ دونوں غیر شرعی عمل میں مبتلا ہوگئے اور یہ رقم حلال نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال۔ا ) خواب اگرچہ شرعی حجت نہیں ہے لیکن کیا خواب کا تعلق باہری دنیا سے نہیں ہوسکتا؟ مثلاً کبھی خواب میں بشارتیں اور خوش خبریاں دی جاتی ہیں تو کیا اس طرح کے اچھے خوابوں کو نیک فال تصور نہیں کیا جاسکتا ہے؟ اسی طرح کبھی خواب میں تنبیہ کی جاتی ہےیا بُرے حالات دکھائے جاتے ہیں، تو کیا ان کو تنبیہ مان سکتے ہیں؟
سوال۔۲) کیا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کرنا برحق ہے؟ اس کے متعلق کوئی حدیث ہو تو با حوالہ مع تشریح تحریر فرما دیجئے۔
سوال۔۳) کیا کسی شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے والے کسی نیک شخص کے خواب کو جھٹلائےاور اسے جھوٹا قرار دے؟ کیا اس طرح زیارت ِ رسول اکرم ؐ کے خواب کو جھٹلانا بڑی جسارت نہیں ہوگی؟ مفصل جواب عنایت فرمادیجئے۔
محمد عامر احمد خان۔ بارہمولہ کشمیر
نبی پاک ؐ کو خواب میں دیکھنے کا بیان ۔چند سوالات
خواب کی تین اقسام اور ان کی شرعی وضاحت
جوابات: (۱) خواب اگر کسی نبی ؑ کا ہو تو وہ وحی ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قربانی کا حکم خواب میں ہی ہوا تھا اور یہ قرآن کریم میں ہےاور احادیث سے بھی ثابت ہے کہ حضرت نبی کریم علیہ السلام کے مبارک خواب وحی ہوتے تھے اور خواب اگر کسی اُمتی کا ہو اورنبی علیہ السلام نے اُس کی تصدیق فرمائی تو وہ خواب بھی حُجت ِ شرعی ہے۔چنانچہ حضرت عبداللہ ابن زید ؓجو صحابی تھے کو پوری اذان کے کلمات خواب میں سُنائے گئے اور جب انہوں نے اس کا تذکرہ حضرت رسول اکرم علیہ اسلام سے کیا تو آپ ؐنے فرمایا ،یہ سچا خواب ہے۔پھر حضرت بلالؓ کو بُلایا اور اُن کو اذان کے کلمات سکھانے اوراذان پڑھنے کا حکم دیا ،تو صحابی کا یہ خواب تائید نبویؐ سے حُجت ِ شرعی بن گیا۔اذان بذریعہ خواب کا یہ واقعہ احادیث کی کتابوں میں موجود ہے۔(ترمذی باب الاذان)
عام انسان کے خواب تین طرح کے ہوتے ہیں۔مبشرات،تخلیات اور شیطانی اثرات۔ان میں سے مبشرات تو اللہ جل شانہٗ کی طرف سے ہوتے ہیں۔تخّلیات سونے کی حالت میں دل و دماغ کے وہ خیالات ہیں جو کسی بھی شکل میں متشکل ہوکر نظر آئیں،اور تیسرے شیطانی اثرات ،وہ دراصل انسان کے ساتھ شیطان کے کھیل تماشے کرنے کا نام ہے اور اس میں شیطان انسان کو پریشان کرتا ہے۔مبشرات میں یقیناً کبھی خوشخبریاں بھی ہوتی ہیں ،کبھی انتباہ، تکوینی رہنمائی بھی ہوتی ہے۔بخاری شریف میں متعدد حدیثیں ہیں بلکہ پوری تفصیل سے ایک کتاب ہےجو خوابوں سے متعلق ہے۔
حضرت نبی علیہ السلام نے فرمایا ،نبوت میں کچھ نہیں باقی ہے ،مگرہاں ! مبشرات یعنی خوشخبریاں ہیں۔عرض کیا گیا کہ خوشخبریاں کیا ہیں؟ جواب میں ارشاد فرمایا: اچھے خواب۔(بخاری حدیث ۔۶۹۹۰ )
دوسری حدیث میں ہے: رویائے صالحہ یعنی سچے خواب بنوت کا چھیایسواں حصہ ہے۔تیسری حدیث میں ہے: جب تم میں سے کوئی اچھا خواب دیکھے تو وہ خواب اللہ کی طرف سے ہے۔اس پر وہ اللہ کی حمد و ثنا کرے یعنی شُکر کرے۔اور جب ایسا خواب دیکھے جو اُس کو بُرا لگے تو وہ شیٰطن کی طرف سے ہے۔پس اُس کو اللہ سے حفاظت مانگنی چاہئےاوراس خواب کا کسی سے تذکرہ نہ کرے۔(بخاری حدیث ۔۶۹۸۴)۔ ایک حدیث میں ہے ۔اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے اور بُرا خواب شیطان کی طرف سے ہے (حدیث،بخاری۔۶۹۸۴)
ترمذی میں ہے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ترجمہ): خواب تین طرح کا ہوتا ہے ۔پہلی قسم رویائے صالحہ یعنی عمدہ اور صالح خواب ۔یہ اللہ کی طرف سے بشارت ہوتی ہے۔دوسری قسم وہ خواب جو شیطان کی طرف سے ہے اور صرف پریشان کرنے کے لئے ہوتا ہے۔تیسری قسم وہ خواب، جو انسان اپنے نفس سے باتیں کرتا ہے یعنی وہ صرف دماغی تصّورات و خیالات ہوتے ہیں۔(ترمذی،خوابوں کا بیان)۔حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے اپنی معرکتہ الاراء کتاب حجتہ اللہ اِلبالغہ میں فرمایا : خواب کبھی بشارتی ہوتا ہے ،کبھی ملکوتی ،کبھی شیطانی۔بشارتی خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔اُن میں خوشخبریاںہوتی ہیں ،کبھی کسی چیز کی اطلاع ہوتی ہےاور کبھی کسی خطرے ،پریشانی یا حادثہ کے متعلق انتباہ ہوتا ہے۔اس کی مثال قرآن کریم میں بیان شدہ دوخواب ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام جیل میں تھے ،ایک جوان قیدی نے خواب دیکھا کہ اُس کے سَر پر روٹیوں کا ٹوکرا ہے اور پرندے اُس ٹوکرے کی روٹی کھا رہے ہیں۔دوسرے نے خواب دیکھا کہ وہ شراب نچوڑ رہا ہے ۔حضرت یوسف ؑنے ایک کو تعبیر دی کہ اُس کو سولی دی جائے گی اور پھر پرندے اُس کے سَر کو کھائیں گے،اور دوسرے کو تعبیر دی کہ وہ بادشاہ کو شراب پلائے گا۔اس طرح بادشاہ عزیز مصر نے خواب میںسات لاغر گائیں دیکھیں جو سات موٹی گائیوں کو کھا رہی تھیں،اور سات بالیاں یعنی خوشے سَر سبز اور سات خوشے خشک دیکھے۔حضرت یوسف علیہ السلام نے تعبیر دی کہ سات سال خوش حالی اور سات سال قحط سالی کےہوں گے۔غرض کہ خواب کے ذریعے پورے ملک ِ مصر کے متعلق یہ انتباہ دیا گیا کہ آگے کیا ہوگا،اور قحط سے بچنے کے لئے کیا قدم اُٹھانا چاہئے۔ان دونوں خوابوں کا وہی نتیجہ نکلا جو حضرت یوسفؑ نے تعبیر میں فرمایا تھا۔
خواب میں نبی کریم ؐکی زیارت ہونا بر حق
(۲)خواب میں حضرت نبی کریم علیہ السلام کی زیارت ہونا برحق ہے ۔چنانچہ بخاری باب ۔۲۱میں ہے ۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،جس نے مجھے خواب میں دیکھا ،اُس نے مجھے ہی دیکھا ،اس لئےکہ شیطان میری شکل و شباہت اختیار نہیں کرسکتا ۔وجہ یہ ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت خالص اور سراسر نورانی ہیںاور شیطان ذلالتِ محض اور خالص ظلمت ہے۔اس لئے ضلالتِ خالص ہدایت ِخالص کی شبیہ اختیار نہیں کرسکتا۔خواب میں حضرت رسول اکرم علیہ السلام کی زیارت ہونا ایک کامل حقیقت ہے اور ہر دور میں لاکھوں کو یہ عظیم نعمت نصیب ہوتی رہی ہے۔آج کے عہد میں بھی بے شمار خوش نصیب اس سے بہرہ ور ہیں۔حتیٰ کہ بعض ایمان سے محروم لوگوں کو زیارت ہوئی ہے اور پھر اُن کو دولت ِ ایمان نصیب ہوئی ہے۔
(۳)کسی نیک شخص نے اگر اس کا اظہار کیا کہ مجھے خواب میں زیارت ہوئی ہے تو اس کی دو سورتیں ہیں۔ایک یہ کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے ۔اگر ایسا ہے تو اس کے لئے حدیث میں سخت تنبیہ ہے اوراُس نے واقعتاً خواب میں زیارت کی ہے تو ہم کو یا کسی کو بھی حق نہیں ہے کہ وہ اس کو جھٹلائے،اور اگر کوئی جھٹلاتا ہے تو یہ یا تو جہالت کی وجہ سے ہوگا یا عناد کی وجہ سے،یا تعصب اور کج فکری کی وجہ سے۔اور یہ سارے وہ نقائص ہیں جن کی وجہ سے وہ شخص خود قابل ِ اصلاح ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال :انسان کا رزق تو پہلے سے لکھا ہوتا ہے ،اب کس کام سے انسان کمائے گا؟ رزق میں کمی یا زیادتی کن وجوہات سے ہوتی ہیں؟
شیخ عامر ۔ سرینگر
رَزاق کی طرف سے لکھے ہوئے رِزق کے
حصول کے لئے محنت و مشقت لازمی
جواب : یہ بات بالکل برحق ہے کہ رزا ق اللہ جل شانہٗ ہےاور ہر مخلوق کا رزق لکھا ہوا ہے ،مگر لکھا ہوا ہونے کے یہ معنیٰ ہرگز نہیں کہ انسان چپ چاپ بیٹھ جائے اور لکھا ہوا رزق اُسے خود بخود ملتا رہے گا ،بلکہ اُس لکھے ہوئے رزق کو پانے کے لئے جو محنت مطلوب ہے وہ انجام دینی ضروری ہے ۔اُس کے بعد ہی لکھا ہوا رزق ملے گا ۔اس کے لئے چند مثالیں پیش ہیں۔بیماری میں شفا بھی ملتی ہے اور موت بھی آسکتی ہے۔اگر شفا لکھی ہوئی ہے تو وہ شفا بغیر علاج و معالجہ کے اللہ عطا کرسکتے ہیں مگر اللہ کی مشیت اور سُنت یہ ہے کہ علاج و معالجہ بھی ہو اور ضروری پرہیز بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اُس کے بعد لکھی ہوئی شفا عطا فرمادیتے ہیں۔لہٰذا علاج بھی ضروری ہے اور پرہیز بھی ۔دودھ پیتے بچے کے لئے ماں کی چھاتی اور پستان میں دودھ اللہ پیدا کرتے ہیں مگر دودھ پلانے کا عمل ماں کی ذمہ داری ہے اور پینے کا عمل بچہ خود فطری اور وجدانی طور پر سر انجام دیتا ہے ۔زمین سے ہر قسم کا اناج ،سبزیاں اور قسم قسم کے نباتات اللہ سبحانی تعالیٰ اُگاتے ہیں مگر کاشت کارکو محنت کرنا بھی لازم ہے۔انسان کو زندگی میں طرح طرح کی کامیابیاں ملتی ہیں ،وہ سب کامیابیاں انسان کے لئے لکھی ہوتی ہیں مگر وہ لکھی ہوئی کامیابی انسان کو مطلوبہ محنت کے بعد ہی ملتی ہے ،اور یہ بھی لکھی ہوئی بات ہے ۔لہٰذا ہر کام کے لئے مطلوب محنت کرنا لازم ہے۔رزق کے لکھے ہوئے ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ انسان نہ تو یہ سمجھے کہ مجھے کچھ بھی نہیں کرنا ہے ،جو لکھا ہوا ہے وہ خود ملے گا ،اور نہ ہی انسان یہ سمجھے کہ میں جو کچھ بھی کروں گا ،اُس کے نتیجے میں وہ چیز مجھ کو لازماً ملے گی ،جس کے لئے میں نے محنت کی ہے ،چاہے اللہ نے لکھا ہو یا نہ لکھا ہو ۔انسان کو ہر کام کے لئے ضروری اور مطلوبہ محنت ،جدوجہد اور کوشش کرنی ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھنا ہے کہ اللہ کی مشیت اور مرضی ہوگی تو یہ کام حسنِ انجام کو پہنچے گااور اللہ کی منشا و رضا نہ ہو تو پھر نتیجہ ہماری چاہت و کوشش کے خلاف نکلے گا ،اور یہ بھی لکھا ہوا ہوگا ۔رزق کے لئے بھی یہی ضابطہ ہے۔اس کی مزید تفصیلات بڑی کتابوں میں مل سکتی ہیں۔