عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/کرائم برانچ کشمیر کی اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) نے جعلی نوکریوں اور فرضی زمین الاٹمنٹ کے ذریعے غریب اور بے روزگار افراد سے دھوکہ دہی کے معاملے میں معطل سرکاری ملازمہ کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی ہے۔
کرائم برانچ کشمیر کی ای او ڈبلیو نے ایف آئی آر نمبر 54/2023 کے تحت تعزیراتِ ہند کی دفعات 419، 420، 467، 468 اور 471 کے تحت ایڈیشنل منصف جج،درجہ چہارم سرینگر کی عدالت میں ملزمہ فوزیہ افضل دختر محمد افضل ماگرے، ساکن رحمت اللہ کالونی، سیکٹر-بی، فروٹ منڈی، پارمپورہ، سرینگر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کیس ایک شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ ملزمہ، جو ڈپٹی کمشنر سرینگر کے دفتر میں درجہ چہارم کی ملازمہ تھی، نے جعلی دکانوں اور پلاٹوں کے الاٹمنٹ آرڈرز جاری کر کے سنگین مجرمانہ بدعنوانی کی۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ان جعلی آرڈرز پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سرینگر کے جعلی دستخط موجود تھے اور ان پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سرینگر کی جعلی مہر بھی لگی ہوئی تھی۔
بیان کے مطابق، شکایت موصول ہونے کے بعد ای او ڈبلیو کشمیر نے تفصیلی تحقیقات شروع کیں۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزمہ نے جہانگیر چوک میں دکانیں، بمنہ میں پانچ مرلہ کے پلاٹ اور مختلف سرکاری محکموں میں جونیئر اسسٹنٹ کی نوکریاں دلانے کے جھوٹے وعدوں پر متعدد غریب اور بے روزگار نوجوانوں سے لاکھوں روپے بٹورے۔ دھوکہ دہی کو حقیقی ظاہر کرنے کے لیے متاثرین کو جعلی الاٹمنٹ آرڈرز اور دستاویزات فراہم کی گئیں، جن پر جعلی دستخط ثبت تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تفتیش سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ملزمہ نے دفتری اوقات کے بعد ذاتی حیثیت میں کام کرتے ہوئے مختلف محکموں کے اعلیٰ سرکاری افسران، بشمول ڈپٹی کمشنر آفس، سرینگر میونسپل کارپوریشن اور ڈویژنل کمشنر آفس کشمیر کی نقالی کی۔
بیان کے مطابق، تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ فوزیہ افضل ایک عادی مجرمہ ہے، جس کے خلاف سرینگر ضلع کے مختلف پولیس تھانوں میں متعدد ایف آئی آرز درج ہیں، جبکہ کئی دیگر شکایات ای او ڈبلیو کرائم برانچ کشمیر میں زیرِ تفتیش ہیں۔ ملزمہ کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے اور ایک محکمانہ انکوائری میں جموں و کشمیر سروس کنڈکٹ رولز کے آرٹیکل 226(2) کے تحت اس کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی سفارش کی گئی ہے، جس کی رپورٹ مورخہ 14.10.2023 ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کیس میں تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور الزامات کو “ثابت شدہ” قرار دیا گیا ہے، جبکہ معاملہ عدالتی فیصلے کے لیے عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔
جعلی نوکریوں اور زمین الاٹمنٹ اسکینڈل میں سرکاری ملازمہ کے خلاف چارج شیٹ دائر : سی بی کے