ماضی اور حال
غلام قادر جیلانی
کشمیر کے گاؤں ایک شاندار ثقافتی پس منظر کے علاوہ ایک عظیم روایتی ورثہ رکھتے ہیں۔ ماضی میں دیہات کے باسی محنت و مزدوری کے ساتھ ساتھ بنیادی طور پر زرعی سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہوئے ایک سادہ اور مطمئن زندگی گزارتے تھے۔ان کی طرز زندگی کا خاصہ فطرت کے ساتھ قریبی رشتہ اور باہمی ہم آہنگی تھی۔ اس سادہ لیکن پُرسکون طرز زندگی میں خاندانوں، مقامی تہواروں اور قدیم مقامی رسم و رواج کو خاص توجہ اور اہمیت حاصل تھی۔لیکن کشمیر میں گاؤں کی روایتی زندگی اب ایک نئے دور میں داخل ہوئی ہے۔ جدید سہولیات کی فراوانی اور بدلتے ہوئے طرز زندگی نے لوگوں کے رہن سہن کے ساتھ ساتھ زندگی کے بنیادی اقدار اور اصولوں کو بھی بدل ڈالا ہے۔ان تبدیلیوں کے براہ راست منفی اثرات لوگوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے علاوہ آپسی میل جول اور بھائی چارے کے مضبوط رشتوں پر پڑ رہے ہیں۔ یہی نہیں، قدرتی ماحول کے لیے خطرہ بنتے ہوئے گاؤں کے باسی بدلے میں اب ماحولیاتی بگاڑ اور قدرتی آفات کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔
دیہی زندگی کے تقریباً ہر پہلو اور ہر شعبے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ خاص طور پر ماضی میں گھریلو زندگی کی ایک شاندار روایت موجود تھی۔گھروں میں بڑے اور بزرگ لوگوں کا انتہائی احترام اور عزت کی جاتی تھی۔ معمول کے کام ختم کر کے گھر کی بیٹیاں اپنے والدین کے علاوہ گھر کے دیگر بڑے اور بزرگوں کی دل و جان سے خدمت کرتی تھیں۔اکثر شام کے وقت دن بھر کی محنت کے بعدبڑوں اور بزرگوں کے پاؤں گرم پانی سے دھوئے جاتے تھے۔ ان کے لئے کھانا بڑی محنت اور توجہ سےچولہے (دان) پر تیار کیا جاتا تھا۔ ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھا جاتا تھا اور بدلے میں چھوٹوں کو بڑوں کا بے لوث پیار اور شفقت نصیب ہوتی تھی۔
حیا اور شرم کا ایک بلند معیار قائم تھا۔ گھر کے بڑے بزرگوں کے علاوہ محلے کے بزرگوں کا حیا،لحاظ اور احترام کیا جاتا تھا۔یہ طرزِ زندگی خاندانی رشتوں کی مضبوطی اور احترام کی علامت تھی، لیکن افسوس کہ اب یہ شاندار تہذیبی وراثت دم توڑ رہی ہے۔گھریلو زندگی سے باہر بھی گاؤں کے لوگوں کے درمیان باہمی تال میل اور ہم آہنگی کا ایک مثالی ماحول موجود تھا۔ گاؤں کی خواتین اکثر ندیوں اور دریاؤں کے گھاٹ پر پانی لینے کے لیے آتی تھیں جسے کشمیر میں ’’یاربل ‘‘کہا جاتا ہے۔یہ گھاٹ صرف پانی بھرنے کا مقام نہیں تھے بلکہ سماجی مرکز کا درجہ رکھتے تھے، جہاں خواتین اپنا دُکھ سکھ بانٹنے کے علاوہ گاؤں کا حال احوال جانتی تھیں۔ کشمیر میں گھاٹ پر ملنے والی خواتین کو ’’یاربل کاکنہ‘‘ کہا جاتا تھا، جو ان کے گہرے سماجی رشتے کی علامت تھی،تاہم یہ روایتی طرزِ عمل اب ختم ہو رہا ہے۔ ندیوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہونے کے علاوہ پانی آلودہ ہو چکا ہےاور اب جدید سہولیات کے ذریعے پینے کا پانی پائپوں کے ذریعے گھروں تک پہنچایا جاتا ہے۔ پانی کے گھاٹ پر ہونے والا یہ اہم میل جول اور بھائی چارہ ختم ہو گیا ہے،جس کا براہِ راست اثر دیہی زندگی کی سماجی ہم آہنگی پر پڑا ہے۔
ماضی میں کشمیری دیہات کی انفرادی پہچان وہاں کا اجتماعی بھائی چارہ تھا۔ گاؤں کے لوگ اپنے چھوٹے بڑے مسائل اور مشکلات کسی سرکاری مدد کے انتظار کے بغیر مل جل کر حل کرتے تھے۔یکجہتی اور باہمی تعاون کے اس جذبے کو مقامی زبان میں ’’ہل شیری ‘‘کہا جاتا تھا۔ یہ محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک سماجی تحریک تھی، جس کے تحت گاؤں کی ندیوں اور نالوں کی صفائی، چھوٹے پلوں کی تعمیر اور رابطہ سڑکوں کی مرمت جیسے بڑے کام گاؤں والے خود انجام دیتے تھے۔ یہاں تک کہ سردیوں کے ایام میں سڑکوں سے برف ہٹانے کا دشوار گزار کام بھی ’’ہل شیری‘‘ کے تحت کیا جاتا تھا۔’’ہل شیری‘‘ کا یہ جذبہ اس بات کی علامت تھا کہ دیہی عوام اپنی بستی کی بہتری کے لیے ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتے تھے۔ یہ روایت نہ صرف وسائل بچاتی تھی بلکہ گاؤں والوں کے درمیان محبت، یگانگت اور اعتماد کو بھی مضبوط کرتی تھی۔
پرانے زمانے میں کشمیر کے دیہاتی مکانات اپنی پائیداری اور بے مثال ہنر مندی کا شہکار تھے، کثیر المنزلہ یہ مکانات لکڑی اور مٹی کے اینٹوں سے تعمیر کئے جاتے تھے ، زلزلوں کے خطرناک جھٹکوں سے بچانے کے لئے ان میں دھجی دیواری کی تکنیک اپنائی جاتی تھی جس میں لکڑی کے فریموں کے درمیان اینٹوں کی بھرائی کی جاتی تھی جو مکان کو لچکدار اور مستحکم بناتی تھی۔ شدید برفباری کو مدنظر رکھتے ہوئے چھتیں ڈھلوان اور نوکیلی بنائی جاتی تھیں،جو گھاس پھوس اور لکڑیوں کے تختوں سے ڈھکی ہوئی تھیں تاکہ برف کا بوجھ چھت پر جمع ہونے کے بجائے نیچے گر جائے، ان مکانات کا سب سے دلکش حصہ زوٗن ڈَب (بالکنی) ہوتا تھا۔جہاں گھر کے افراد اپنے فراغت کے لمحات گزارتے تھے۔مکانات کے نچلے منزلے میں مال مویشی کے لئے جگہ مخصوص ہوتی تھی جو جانوروں کے تحفظ کے علاوہ سردیوں میں مکان کو قدرتی حرارت بھی فراہم کرتی تھی۔اس طرز تعمیر میں قدرتی مواد کا استعمال اور گردوپیش کے ماحول کے ساتھ کامل ہم آہنگی فطرت کے لئے گہرے احترام کی عکاسی کرتی تھی۔آج گاؤں میں روایتی طرز تعمیر کو چھوڑ کر کنکریٹ مکانات کی طرف زیادہ رجحان ہے جسکی وجہ سے دہی زندگی کا نقشہ ہی بدل گیا ہے، طرز تعمیر کی اس تبدیلی نے ہمارے روایتی سکون، صدیوں پرانی ثقافتی شناخت اور ماحولیاتی توازن میں بگاڑ پیدا کیا ہے ۔
کشمیر کے دیہات میں اب وہ روایتی چہل پہل اور سادگی مفقود ہو چکی ہے جو کبھی ہمارے تہواروں کی روح ہوا کرتی تھی۔ اس تبدیلی کا کرب عبدالغنی نامی ایک بزرگ کی باتوں سے صاف جھلکتا ہے۔ جب میں نے اسے ماضی کی عیدوں اور دیگر تقاریب کے بارے میں پوچھا، تو ان کی آنکھوں میں ایک پرانی چمک آ گئی اور کہا کہ ان کے بچپن میں عید جیسے مقدس تہواروں پر فضول خرچی کا تصور تک نہ تھا۔ عید محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک روحانی تجربہ ہوتی تھی، جہاں لوگ اسراف اور دکھاوے کے بجائے عبادات اور شکر گزاری میں مشغول رہتے تھے۔ نئے کپڑوں اور پکوانوں سے زیادہ توجہ دلوں کی صفائی اور اللہ کی رضا پر ہوتی تھی۔انہوں نے گزرے ایام کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ عید کے موقع پر گاؤں کی عورتیں ایک جگہ جمع ہو کر روایتی ‘عید رؤف گاتی تھیں، جس کی تال پر پورا محلہ وجد میں آ جاتا تھا۔ یہ محض گیت نہیں تھے بلکہ آپسی محبت، یگانگت اور ہم آہنگی کا اظہار تھے۔آج صورتحال اس کے برعکس ہے۔ تہوار اب بے جا اصراف اور نمود و نمائش کی نذر ہو گئے ہیں۔ آج مادی چیزوں کی ریل پیل تو ہے، مگر وہ خالص پیار، باہمی میل ملاپ اور دلی سکون نایاب ہو چکا ہے جو کبھی کشمیری دیہات کا خاصہ تھا۔
اگرچہ کاشتکاری کے جدید طریقے بظاہر آسان نظر آتے ہیں، مگر کیمیائی کھادوں اور زہریلی ادویات کے بے جا استعمال نے انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کیے ہیں۔ماضی کا گاؤں ایک خود کفیل اکائی تھا، جہاں پشو پالن (مویشی پالن)، بھیڑ پالن اور مرغ پالن ہر گھر کا حصہ تھے۔ یہ جانور کسانوں کو نہ صرف دودھ، مکھن، گوشت، اون اور انڈے فراہم کرتے تھے، بلکہ ان کا فضلہ (گوبر) زمین کے لیے بہترین قدرتی کھاد ثابت ہوتا تھا۔ کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے بیلوں کا استعمال انسانی محنت کا مظہر تھا۔ اسی طرح، گھروں میں مٹی کے برتنوں کا استعمال صحت و تندرستی کا ضامن تھا، جو اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔
شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی اب وہ سادگی اور خلوص نظر نہیں آتا۔ ڈولی کی جگہ قیمتی گاڑیوں نے لے لی ہے اور نت نئی فضول رسومات نے شادیوں کو ایک بوجھ بنا دیا ہے۔ پرانے وقتوں کی شادیاں سادہ مگر محبت اور اجتماعی بھائی چارے سے بھرپور ہوتی تھیں، جہاں دکھاوے کے بجائے دلی خوشی کو اہمیت دی جاتی تھی۔آج ہمارے دیہاتوں میں پختہ سڑکیں، اسکول، ہسپتال، ٹرانسپورٹ اور موبائل نیٹ ورک جیسی تمام جدید سہولیات موجود ہیں، لیکن وہ سکون اور اطمینان کہیں کھو گیا ہے۔ مادیت پرستی کے اس دور میں اخلاقی قدریں زوال پذیر ہیں۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم دوبارہ اُسی باہمی میل ملاپ اور بھائی چارے کی طرف لوٹیں۔ ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں خلوصِ دل سےشریک ہوں اور اپنے ماحولیاتی ورثے، جنگلات اور آبی وسائل کے تحفظ کو اپنا اولین فریضہ سمجھیں۔
[email protected]