فکر انگیز
انجینئر محمود اقبال
نومبر2025کے آخری عشرہ میں ایک حوصلہ افزا خبر آئی ہے کہ بلجیم کے ایک ہو نہار سپوت،لارنٹ سایئمنس نے 15سال کی عمر میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔انہوں نے وہ حاصل کیا ، جو زیادہ تر سائنسدان دہائیوں بعد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ بلجیم کی(Antwerp University) انٹورپ یونیورسٹی نے مقالہ’’بوس بولارون ان سپر فلؤڈز اور سپرسولڈز‘‘کو کامیاب طور پر ڈییفنڈ کرنے پر انہیں کوانٹم فزکس کی پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی ہے۔تب سے لارنٹ سایئمنس کو’’بلجیئم کا لٹل آیئنسٹائین‘‘ کہا جانے لگا ہے۔ لٹل کا مطلب چھوٹا، چلئے ہم ’’چھوٹو‘‘کہہ کر بلالیتے ہیں؟ ’’چھوٹو‘‘نے 4سال کی عمر میں پرائمری اسکول شروع کیا اور 6سال کی عمر میں ختم کردیا۔12سال کی عمرتک پہنچتے پہنتے کوانٹم فزکس کی ماسٹر ڈگری ہاتھ میں پکڑ چکا تھااور اس کے عنوان تھے’’بوسونس‘‘ اور’’بلیک ہولس‘‘۔ رپورٹس کے مطابق ’’چھوٹو‘‘ کی ’فوٹو گرافک میموری ہے اور اس کا (IQ)لیول 145ہے جو غیرمعمولی مانا جاتا ہے۔ دادا، دادی کے انتقال کے بعد اُسے خیال آیا ہے کہ انسان کی درازیٔ عمر اور اچھی صحت کے لئے بھی کام کرنا چاہئے، یعنی لافانی انسان۔اس لئے اب وہ میڈیکل سائنس کے فیلڈ میں اپنا وقت لگانا اور دماغ لڑانا چاہتا ہے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ آ پ حضرت نوح ؑ(Noah) کی زندگی کی بھی اسٹڈی کریں کہ انہوں نے کیسے اور کس طرح 900 سال کی زندگی پائی تھی؟’’چھوٹو‘‘ کی اُمنگوں بھری پیاری پیاری باتیں سن کر آیئنسٹائین کا ایک قول یاد آرہا ہے’’صرف دوسروں کے لئے جینے والی زندگی ہی قابل قدر ہے‘‘۔ ’’چھوٹو‘‘ جرمنی کی میونخ یونیورسٹی میں میڈیسن کی پی ایچ ڈی کے لئے داخلہ لے چکاہے اور انسان کی درازیٔ عمر اور اچھی صحت اسکا منشاء وٹارگٹ ہے۔ وہ مصنوعی ذہانت کا بھی سہارا اور مدد لینا چاہتا ہے۔کیا ’’چھوٹو‘‘ دنیا کا سب سے چھوٹا پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہے؟ مگر’’گینس ورلڈریکارڈس‘‘ کے مطابق ایک 13 سالہ جر منی کے ’کارل وٹے ‘نے پہلے ہی سے بازی مار رکھی ہے۔
چلئے اب ہم’’ایٹم‘‘ اور’’کوانٹم‘‘ کو بہت ہی آسان زبان میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔آپ کو یاد ہوگا، کورونا کا دور؟ جس کو جھیل جھیل کر ہم سب’’کوانٹم فزکس‘‘ کے ایکسپرٹ بن چکے ہیں۔کورونا کیسا تھا؟ طاقتور ترین خوربین سے دیکھتے تھے سائنسداں اور ہمارے میڈیا والے اسکی بہت خوبصورت ترین تصاویر اسکرین پر پیش کرتے تھے جنہیں دیکھ دیکھ کر دل چاہتا تھا کہ اپنے گلدستہ میں سجالیں۔ بالکل ڈراگن فروٹ کی طرح،اس کے اندر کیا چیز تھی؟وینوم یعنی زہر جو بہت ہی قلیل مقدار میں کورونا کی جسامت کا ایک چوتھائی حصہ سے بھی کم اور بقیہ خلاء ہی خلاء،وہ زہر کی پڑیا کی شکل،میڈیا والے ایسے دکھاتے تھے کہ جیسے معصوم بچے غبارہ میں ہوا بھر کے اسے منہ سے کھینچتے ہیں تو شکل بنتی تھی۔ یہ کتنا جان لیوا اور مہلک تھا اس سے ہم سب گزرچکے ہیں۔ منہ پر ماسک لگاکر دو فٹ دوری سے بات کرنے پر ہم مجبور تھے۔کورونا صرف محسوس کیا جاسکتا تھا ،نظر نہیں آتا تھا اور غضب ڈھاتا تھااورسانس کے ذریعہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا تھا۔گویا جب ہم کورونا کو جان گئے ہیں تو سمجھئے’’ایٹم‘‘ کو بھی پہچان گئے۔ دونوں میں کیا فرق ہے؟ایٹم مادے کی سب سے چھوٹی اکائی ہے۔ایٹم کورونا کی خول کی طرح کا ڈھانچا ہے، جسے نیوکلیس کہتے ہیں، پانی کے بُلبلہ کی طرح۔ جس کے اندر زہر کی تھیلی کے بجائے دو ذرات’’فوٹون‘‘ اور ’’نیوٹرون‘‘ ہوتے ہیں۔ فوٹون مثبت برقی چارج شدہ اورنیوٹرل نیوٹرون۔ خول، یعنی نیوکلیس کے اطراف میں’’الیکٹرون‘‘ چکر لگاتے رہتے ہیں اور منفی چارج شدہ ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ فوٹون اور الیکٹرون کی تعداد مساوی ہوتی ہے۔ فوٹون کی مثبت چارج والے ذرات اٹامک نمبر کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایٹم، کیمسٹری کی بنیادی اکائی ہے۔بنیادی بلڈنگ بلاکس ہیں جو آپس میں ملکر سالمات کی شکل اختیار کرتے ہیں اور پھر مختلف ماد ے تشکیل پاتے ہیں۔کیمسٹری کا پیریاڈک ٹیبل بھی جاننا ضروری ہے۔ابھی تک اس میں 118 کیمیائی عناصر ہیں، جوبڑھتے ہوئے جوہری نمبر کو ظاہر کرتے ہیں۔سب سے پہلے اسےDmitri,Mendeleevنے تیار کیا تھا۔عناصر کی ترتیب جوہری نمبر کے ذریعہ ہے۔(H=1 & Oganesson=118)۔تابکار عناصر وہ ہیں جو غیر مستحکم نیوکلیس کے ساتھ ہوتے ہیں اور زوال پذیر یابوسیدہ ہوتے جاتے ہیں۔جیسے پولونیم (Po) جسکا اٹامک نمبر 84 ہے۔یہ اور اسکے بعد کے تمام تابکار عناصر ہیں۔’’ایٹم‘‘ کو سمجھنے کے بعد اب ہم ’’کوانٹم‘‘ پر آتے ہیں۔ کوانٹم کا مطلب ہے، توانائی کی ایک مجرد مقدار جو تابکاری کی فریکونسی کی متناسب ہوتی ے۔میکس پلانک کو عموما’’فادر آف کوا نٹم فزکس‘‘ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ا س نظریہ کے مطابق’’تو انائی مسلسل نہیں ہے بلکہ چھوٹی نا قابل تقسیم اکائیوں میں موجود ہے‘‘۔’’کوانٹا‘‘کی تفہیم و تشریح کے بعد انہیں 1918کے فزکس کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔کوانٹم فزکس سائنس کی وہ شاخ ہے جو سب سے بنیادی سطح پر مادے اور توانائی کے رویے کا مطالعہ کرتی ہے، بشمول الیکٹران اور فوٹون جیسے ذیلی ایٹمی ذرات۔ یہ دماغ کو جھنجوڑ دینے والا فیلڈ ہے۔مثال کے طور پر سپرپوزیشن ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ حالتوں میں موجودشئے کو کہتے ہیں۔ اُلجھاؤفاصلے سے قطع نظر ’’ذرات مسلسل‘‘ ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور غیر یقینی اصول (جو کہتا ہے کہ خصوصیات کے کچھ جوڑے، جیسے کسی ذرہ کی پوزیشن اور رفتار دونوں کامل وقت کے ساتھ معلوم نہیں ہو سکتے)۔یہ تصورات ایٹموں کی ساخت اور’’فوٹو الیکٹرک اثر‘‘ جیسے مظاہر کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔میکس پلانک کے علاوہ البرٹ آئنسٹائین (فوٹو الیکٹرک اثر)، نیلس بوہر اور ورنر ہایئزنبرگ وغیرہ سائنٹسٹ بھی قابل ذکر اور اہم کردار ہیں۔
کوانٹم فزکس کے کلیدی تصورات! ہر ذرہ دوہرا۔ ذرات ’لہر نما‘ اور ’ذرہ نما‘ خصوصیات دونوں کی نمائش کر سکتے ہیں۔ ایک مشہور مثال ڈبل سلٹ تجربہ ہے، جہاں ایک وقت میں ایک سے فائر کئے گئے انفرادی ذرات مداخلت کا نمونہ بناتے ہیں، گویا وہ لہریں ہیں جو بیک وقت دونوں شگاف سے گزر رہی ہیں۔ سپرپوزیشن ، ایک کوانٹم سسٹم ایک ہی وقت میں متعدد ممکنہ حالتوں کے مجموعہ میں موجود ہوسکتا۔ بے یقینی کا اصول: ایک ہی وقت میں کسی ذرہ کی خصوصیات کے کچھ جوڑوں جیسے اس کی پوزیشن اور رفتار کو کامل درستگی کے ساتھ جاننا ناممکن ہے۔ آپ جتنی درست طریقے سے ایک کی پیمائش کریں گے، اتنا ہی کم درست طریقے سے آپ دوسرے کو جان سکیں گے۔ الجھن: دو یا زیادہ کوانٹم ذرات اس طرح سے جڑے ہو سکتے ہیں کہ وہ ایک نظام کے طور پر کام کریں۔ ایک ذرہ کی حالت فوری طور پر دوسرے کی حالت کے ساتھ جڑ جاتی ہے، چاہے وہ کتنے ہی دور کیوں نہ ہوں۔کوانٹم فزکس کیوں اہم ہے؟یہ بہت سے مظاہر کے لیے ایک بنیادی تفہیم فراہم کرتا ہے، بشمول ایٹموں کی ساخت کیسے ہوتی ہے اور روشنی اور مادّہ کس طرح باہم تعامل کرتے ہیں۔یہ بہت زیادہ جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد ہے، بشمول ٹرانزسٹر، لیزر اور انٹرنیٹ وغیرہ۔اس میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور کوانٹم نیٹ ورکنگ جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے کمپیوٹنگ، محفوظ کمیونیکیشن اور سینسنگ جیسے شعبوں میں مستقبل میں پیش رفت کرنے کی صلاحیت ہے۔لارنٹ کا ڈاکٹریٹ کام ایسے تصورات پر استوار ہے جو تجربہ کار طبیعیات دانوں کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔ گیارہ سال کی عمر میں اپنے دادا دادی کو کھونے کے بعد اُس نے یہ سمجھنے پر اپنی نگاہیں مرکوز کیں ہیں کہ انسانی زندگی کو کس طرح بڑھایا جائے، اپنے وقار اور فائدہ کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کی لمبی اور صحت مند زندگی گزارنے میں مدد کرنے کے امکان کے لیے۔امریکہ اور چین کی بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں کی پیشکشوں کے باوجود اس کے والدین کا اصرار ہے کہ اس کے بچپن اور صحت کا احترام بھی لازم و ملزوم ہے۔
سائنس اور طبعیات کی دقیق اصطلاحات کو موٹی موٹی باتوں میں سمجھنے کے بعد اب ہم آتے ہیں’’چھوٹو‘‘ پر۔ اس کا کیا کارنامہ ہے جس کی وجہ سے وہ چھوٹی سی عمر میں کوانٹم میکانکس کا’’ڈاکٹر‘‘ٹھہرا؟ایک اور اصطلاح پہلے ہم سمجھ لیتے ہیں۔ لفظ ہے’’کنڈنسیٹس‘‘اس کا مطلب ہے گاڑھا یاکثیف۔ایسا مائع جو عمل کثافت سے گزر کر وجود میں آتا ہے۔سایمنس نے ’’بوس۔ آئنسٹائین کے کنڈنسیٹس کے کوانٹم رویے پر روشنی ڈالی ہے۔مادے کی ایسی حالت جہاں ایٹمس بالکل صفر کے قریب ٹھنڈے ہو کر ایک واحدمربوط ہستی کے طور پر برتاؤ کرتے ہیں۔اجنبی ذرات جو کنڈنسیٹس کے ساتھ تعامل کرتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ’’کواس، ذرات کوانٹم سیالوں میں کیسے برتاؤ کرتے ہیں‘‘لارنٹ نے خاص طور پر’’بوس۔بولارون‘‘کی جانچ کی۔ یہ مظا ہر متعدد جسمانی نظاموں کے مطالعہ کے لیے ضروری ہیں۔ مادی سائنس، کوانٹم کمپیوٹنگ اور فلکی طبعیات پر بھی اس کے اثرات ہیں۔ یہ’’بوس‘‘ صاحب کون ہیں؟ اپنے ہی بوس ہیں یعنی، مایہ ناز ہندوستانی سائنٹسٹ ستیندر ناتھ بوس جنہوں نے سب سے پہلے کوانٹم کے اعداد و شمار تیارکئےتھے جو اس تصور کی بنیادہے۔البرٹ آئنسٹائین نے اس کو آگے بڑھایا اور پیش گوئی کی کہ جب ایٹموں کے گروپ انتہائی کم درجہ حرارت پر پہنچ جاتے ہیں توکیا ہوتا ہے؟اس حالت میں ایٹم اکھٹے ہو جاتے ہیں اور ایک ہی ایٹم کی طرح برتاؤ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس غیر معمولی کوانٹم خصوصیات کی وجہ سے ایک BEC (بورس۔ا ٓئنسٹائین کنڈنسیٹ) کوانٹم سیمولیٹر کے طور پر کام کر سکتا ہے اور جس سے طبعیات داں اثرات کو ماڈل بناسکتے ہیں، جن کا وہ براہ راست مطالعہ نہیں کرسکتے ہیں۔ لار نٹ سائمز کی پی ایچ ڈی تحقیق نے BEC کے ایک اور پہلو کو جانچا اور اس بار’’بولارون‘‘ نامی ذرہ کا استعمال کیا۔بولارون،آلایشیںہیں، جو آس پاس کے درمیانے درجہ کے ساتھ تعامل کرتے ہیں اور مادہ اور توانائی جیسی خصوصیات کو تبدیل کرتے ہیں۔سائمنس نے اس تحقیق کو آگے بڑھایا کہ بولارون کس طرح دو کوانٹم حالتوں میں برتاؤ کرتاہے۔’’سپر فلؤڈز اور سوپر سولڈز‘‘،جسے اس نے BEC کا استعمال کرتے ہوئے کیا۔کوانٹم میکانکس ایک ایسا شعبہ ہے جس کے وسیع پیمانے پر اثرات ہیں۔اس شعبہ نے’’مخالف مادہ‘‘ کی پیش گوئی کی ہے۔تابکاری کی وضاحت کی ہے۔ایٹم اور نیوکلیس کی سا خت کو بیان کیا ہے۔اس کے بغیر آج کی زیادہ ترسائنسی دریافتیں ممکن نہ ہوتیں۔اب ہم اس نو نہال سپوت کو ماسٹرلارنٹ سائمنس کے طور پر یاد کرتے رہیںگے۔ اردو داں طبقہ پر امید اور دعا گو ہے کہ وہ جلد یا بدیر نوبل انعام کی بھی بازی مار لے جائے گا۔ اب یہ اوپر والا جانے کہ اسکی دوسری پی ایچ ڈی کیا گل کھلاتی ہے؟ جس کا اس نے میڈیکل سائنس کا میدان چنا ہے اور ہماری اور آپ کی درازیٔ عمر اور اچھی صحت کے چکر میں ہے؟ تحقیق اور رزلٹ جو بھی ہومگر اردو داں طلباء و طالبات کے لئے وہ مشعل راہ اور سرخیل بن چکا ہے۔
(رابطہ۔6309727951)
[email protected]