جرسِ ہمالہ
میر شوکت
یہ تحریر کسی شخصی دشمنی، وقتی جذبات یا ہجوم کی داد سمیٹنے کی خواہش کا نتیجہ نہیں بلکہ اس فکری بے چینی کی توسیع ہے جو اس مناظرے کے بعد ذہن میں مسلسل کروٹیں بدلتی رہی۔ یہ وہ اضطراب ہے جو تب جنم لیتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے عہد میں علم اور شہرت کے پیمانے گڈمڈ ہو چکے ہیں اور دلیل کی جگہ تاثر نے لے لی ہے۔ اس اسٹیج پر جو کچھ ہوا، وہ محض دو افراد کے درمیان مکالمہ نہیں تھابلکہ دو زمانوں، دو روایتوں اور دو فکری رویّوں کا براہِ راست تصادم تھا۔ایک طرف وہ ذہن تھا جو لفظوں کی چمک دمک، میڈیا کی روشنی اور داد کی گونج میں اپنی صداقت تلاش کرتا ہے، دوسری طرف وہ ذہن جو خاموش کتابوں، روایت کی زنجیر اور دلیل کی ذمہ داری کے بوجھ تلے سانس لیتا ہے۔ اسی لئےیہ کہنا زیادہ قرین حقیقت ہے کہ یہ جاوید اختر اور مفتی شمائل کے درمیان مناظرہ کم اور شہرت بمقابلہ علم کی ایک علامتی کہانی زیادہ تھی۔جاوید اختر اردو اور ہندی ادب کا ایک معتبر، مستحکم اور تسلیم شدہ نام ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہ صرف ناانصافی ہو گا بلکہ ادبی بددیانتی کے مترادف بھی۔ ان کی شاعری نے کئی نسلوں کو محبت کی نزاکت، بغاوت کی شائستگی اور انسان دوستی کی خوشبو سے آشنا کیا ہے۔ وہ زبان کے رموز جانتے ہیں، لفظ کے نشیب و فراز سے واقف ہیں اور یہی فنی مہارت انہیں عوامی سطح پر ایک خاص مقام عطا کرتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں جاوید اختر شاعر کم اور خطیب زیادہ بنتے چلے گئے ہیںاور خطیب بھی ایسا جو سوال اٹھانے کے بجائے فیصلے صادر کرنے پر یقین رکھتا ہے۔یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی اور فکری عمل کا نتیجہ ہے۔ شہرت ایک ایسا نشہ ہے جو آہستہ آہستہ انسان کو یہ یقین دلانے لگتا ہے کہ جو بات وہ کہہ رہا ہے، وہی آخری بات ہے۔ تالیاں دلیل کی جگہ لے لیتی ہیں اور داد عقل کی جگہ۔ جب کسی کو مسلسل سنا جائے، مسلسل دکھایا جائے اور مسلسل سراہا جائے تو وہ لاشعوری طور پر خود کو ہر موضوع پر صاحبِ رائے ہی نہیں، صاحبِ حکم سمجھنے لگتا ہے۔ جاوید اختر کے حالیہ بیانات میں یہی رجحان نمایاں دکھائی دیتا ہے۔وہ مذہب، تاریخ اور فلسفے جیسے نہایت پیچیدہ اور صدیوں پر محیط علمی موضوعات پر اس اعتماد سے گفتگو کرتے ہیں گویا یہ سب ان کی تخلیقی بصیرت کے ذیلی مضامین ہوں۔ یہاں مسئلہ اختلافِ رائے کا نہیں، کیونکہ اختلاف تو علم کی روح ہے، مسئلہ فہم و استدلال کے فرق کا ہے۔ علم کی دنیا میں بات اس طرح نہیں کی جاتی کہ’’مجھے یوں لگتا ہے‘‘ یا’’میری عقل یہ کہتی ہے۔‘‘ یہاں عقل بھی جواب دہ ہوتی ہے اور علم بھی حوالہ، سند اور روایت کا مطالبہ کرتا ہے۔مذہب ہو یا فلسفہ، یہ دونوں صدیوں کی فکری محنت، مناظروں، مباحثوں اور علمی ضبط کا حاصل ہیں۔ انہیں ذاتی تاثر کی چھلنی سے گزار کر پرکھنا دراصل خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ جاوید اختر کی گفتگو میں یہی خود فریبی نمایاں نظر آتی ہے، جہاں تخیل کو منطق اور شہرت کو تحقیق کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ ان کے لہجے میں اعتماد بہت ہے، مگر وہ احتیاط نہیں جو علم کا بنیادی وصف ہوتی ہے۔ ان کے بیانیے میں گونج بہت ہے، مگر گہرائی کم۔اس کے مقابلے میں مفتی شمائل ایک بالکل مختلف ذہنی اور علمی روایت کے نمائندہ ہیں۔ وہ روایت جو شور سے نہیں، ٹھہراؤ سے پہچانی جاتی ہے، جو فوری فیصلوں کے بجائے تدریجی فہم پر یقین رکھتی ہے۔ یہ بات بجا ہے کہ وہ اس مناظرے میں اپنی بات کو مکمل ترتیب، وسعت اور تفصیل کے ساتھ پیش نہ کر سکے۔ شاید وقت نے مہلت نہ دی، شاید اسٹیج کا ماحول موزوں نہ تھا یا شاید وہ اس طرزِ مکالمہ کے عادی نہیں جہاں دلیل سے زیادہ رفتار اور اختصار کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مگر اس کے باوجود، ان کی گفتگو میں ایک وصف مسلسل نمایاںرہا۔ علم کا وقار۔مفتی شمائل نے جذباتی حملوں اور ذاتی طنز کے بجائے چند بنیادی سوالات اٹھائے۔ یہی سوالات دراصل جاوید اختر کے اس اعتماد میں دراڑ ڈالنے کے لیے کافی ثابت ہوئے جو زیادہ تر عوامی پذیرائی کے سہارے کھڑا تھا۔ انہوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مذہب کو سمجھنے کے لیے محض ذہانت کافی نہیں بلکہ ایک پوری علمی روایت، ایک منہج اور ایک تسلسل سے جڑنا ضروری ہے۔ یہ وہ نکتہ تھا جہاں جاوید اختر کے بیانیے کی عمارت کچھ لرزتی محسوس ہوئی، کیونکہ وہ عمارت حوالوں کے بجائے تاثر پر کھڑی تھی۔یہ بھی قابلِ غور ہے کہ مفتی شمائل نے جاوید اختر کی شخصیت کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ ان کے دلائل کو۔ انہوں نے شاعر ہونے کو جرم نہیں ٹھہرایا، نہ ہی ادب کی اہمیت کو کم کیا۔ ان کا زور صرف اس بات پر تھا کہ ہر علم کی ایک سرحد ہوتی ہے، اور ان سرحدوں کا احترام ہی فکری دیانت کہلاتا ہے۔ شاعری کی عظمت اپنی جگہ مسلم اور مذہب کی تفہیم اپنی جگہ ایک الگ، منضبط اور ذمہ دارانہ عمل۔ یہی تفریق علم اور رائے کے درمیان فرق کو نمایاں کرتی ہے، اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں جاوید اختر کا وہ’’علمی بھوت‘‘جو خود اعتمادی، حاضر جوابی اور شہرت کے امتزاج سے تشکیل پایا تھا ۔کچھ دیر کے لیے بے نقاب ہو گیا۔اس مناظرے نے ایک اور بنیادی سوال کو بھی جنم دیا: کیا ہر مشہور شخص ہر موضوع پر اتھارٹی بن سکتا ہے؟ ہمارے عہد کا المیہ یہی ہے کہ شہرت کو علم کا متبادل بنا دیا گیا ہے۔ جو زیادہ دکھائی دیتا ہے، وہی زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے، جو زیادہ سنا جاتا ہے، وہی زیادہ درست مانا جاتا ہے۔ میڈیا نے آواز کو دلیل پر اور تاثر کو تحقیق پر فوقیت دے دی ہے۔ جاوید اختر اسی فکری ماحول کے نمائندہ بھی ہیں اور اس کے اسیر بھی۔مفتی شمائل کی گفتگو میں اگرچہ وسعت اور ترتیب کی کمی تھی، مگر اس میں وہ ٹھہراؤ ضرور تھا جو کتابوں کی صحبت سے پیدا ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ میں وہ احتیاط تھی جو علم کو سطحیت سے بچاتی ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ہر سوال کا جواب بلند آواز میں نہیں دیا جاتا اور ہر اختلاف کو طنز میں لپیٹنا فکری قوت نہیں بلکہ فکری کمزوری کی علامت ہے۔یہ مناظرہ دراصل ہمارے معاشرے کے فکری انتشار کا ایک آئینہ بھی ہے۔ ہم شاعر سے فلسفہ چاہتے ہیں، اداکار سے سیاست اور دانشور سے ہر سوال کا فوری، سادہ اور حتمی جواب۔ اس عجلت میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ علم وقت مانگتا ہے اور دلیل صبر۔ جاوید اختر کی گفتگو اسی جلد بازی کا عکس تھی، جبکہ مفتی شمائل کی خاموشی اور اختصار اسی صبر کی علامت۔آخرکار، یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس مناظرے نے کسی ایک فرد کو نہیں بلکہ ایک رویّے کو بے نقاب کیا۔ یہ واضح ہو گیا کہ علم تالیاں نہیں مانگتا، دلیل مانگتا ہے۔ شاعر اگر شاعر رہے تو ادب کا وقار بڑھتا ہے اور عالم اگر عالم رہے تو علم محفوظ رہتا ہے۔ جب یہ حدیں دھندلا جاتی ہیں تو شور تو بہت پیدا ہوتا ہے، مگر روشنی کم ہو جاتی ہے۔یہ مناظرہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ عقل کو اَنّا سے اور علم کو شہرت سے الگ رکھنا ہی فکری دیانت کا پہلا زینہ ہے۔ جو اپنی حدود پہچان لے، وہی علم کے دروازے تک پہنچتا ہے اور شاید یہی وہ سبق ہے جو اس اسٹیج کے شور میں دب گیا، مگر جس کی بازگشت ہمارے عہد کے فکری منظرنامے میں دیر تک سنائی دیتی رہے گی۔