فکر ِ صحت
ویب ڈیسک
جہاں ان دنوں سردی کا موسم عروج پر ہے وہیں بدلتے موسم میں کئی افراد فلو اور زکام کے باعث وبیعت کی ناسازی سے بھی پریشان ہیں۔ تاہم اس موسم میں کچھ آسان اقدامات سےآپ ٹھنڈ اور فلو سے محفوظ رہ کر موسم کی خوبصورتی سے بآسانی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔اگرآپ سردی میں ٹھنڈ لگنے سے بچنا چاہتے ہیں تواس کے لیے آپ کو کچھ آسان سی تدابیر اختیار کر کے اپنا مدافعتی نظام کو بہتر کرنا ہو گا۔ قوت مدافعت کو بڑھانے میں صرف وہی اضافی وٹامنز حاصل کرنا ہی کافی نہیں ہوتے جو ہمیں بہت سارے بیش قیمت پھلوں اورسبزیوں سے ہی مل سکتی ہے بلکہ سردیوں کے مہینوں میں خود کو فٹ اور صحت مند محسوس کرنے کا بہترین موقع ہم چند دوسری غذائیں اور ایسے اقدامات کر کے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ہمیں وٹامن اے کی ضرورت اس لئے ہوتی ہے تاکہ ہماری ناک اور پھیپھڑوں میں بلغم کے استر(تہہ) کو اتنا مضبوط رکھا جا سکے جو انفیکشن سے بچا جا سکے۔دیگر غذاؤں میں نارنجی، آم، خوبانی اور خربوزوں سمیت دیگر نارنجی اور سرخ پھل شامل ہیں اور سبزیاں بھی اکثر وٹامن سی کے اچھے ذرائع میں شمار کی جاتی ہیں۔ جن سے ہمارے مدافعتی نظام کو سہارا ملتا ہے۔تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وٹامن سی کی زیادہ مقدار ان لوگوں کے لیے سب سے مفید ہے جو مختصر عرصے میں شدید جسمانی بیماریوں کا سامنا کرتے ہیں مثلًا کھلاڑی جو سخت تناو کا سامنا کرتے ہیں یا بہت ٹھنڈے ماحول میں رہنے والے۔گہرے سبز رنگ کے پتوں والی سبزیاں جیسے ساگ اور پالک، کالی مرچ، بروکولی، مٹر جبکہ پھلوں میں کیوی، مالٹا ، نارجنی اوراس قبیل کے ترش پھلوں سے وٹامن سی بڑی مقدار میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔سبزیوں کی اس حیرت انگیز قبیل میں ایسا طاقتور تیل ہوتا ہے جواینٹی مائیکروبیل خصوصیات کے باعث بیکٹیریل اور وائرل انفیکشن سے بچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ پیاز اور لہسن پری بائیوٹک (صحت مند بیکٹیریا) کو فروغ دینے کے سبب آنتوں کی صحت بھی بہتر رہتی ہے۔ٹھنڈ سے بچاؤ میں لہسن کی افادیت کی حمایت کرنے والے ٹرائلز تاحال ناقص معیار کے رہے، اس لئے اس کے طبی ثبوت بہت کم ہیں تاہم لہسن اور پیاز دونوں کے صحت کے لیے متاثر کن فوائد ہیں، اس لئے ان کو روز مرہ کی خوراک میں شامل رکھنا ضروری ہے۔
اگر آپ لہسن کھانے کے بعد سانس کی بو یا ذائقے کو نا پسند کرتے ہیں تو خمیر شدہ سیاہ لہسن کوآزما کر دیکھیں، اس کا جہاں ذائقہ منفرد ہوتا ہے بلکہ لہسن کے مقابلے میں دوگنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔مجموعی صحت کے لیے غذا کا اہم جزو ہے۔ تحقیق سے علم ہوا ہے کہ اس اہم وٹامن کی کمی والے افراد میں انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔سردیوں کے مہینوں میں، سورج کی روشنی کی کم سطح کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنی خوراک سے وٹامن ڈی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔وٹامن ڈی کے حصول کے لیے تیل والی مچھلی جیسے سالمن اور میکریل، انڈے اور مشروم کو شامل کیا جا سکتا ہے۔سردیوں کے دوران باقاعدگی سے ان کھانوں کا استعمال وٹامن ڈی کی سطح کو بڑھانے کا ایک مفید طریقہ ہے۔
تاہم وٹامن ڈی کی مطلوبہ مقدار محض چند غذاوں سے پوری کرنا مشکل ہے۔جئی یعنی اوٹس اور جوَ میں پانی میں گھلنے والا فائبر ہوتا ہے ،جسے بیٹا گلوکینز کہا جاتا ہے۔یہ ہمارا پیٹ مکمل بھرنے کے احساس کے ساتھ ساتھ اپنے اندر مدافعتی اثرات بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس اناج سے حفاظتی مدافعتی خلیوں کی تعداد اور کام کو بڑھانے میں کافی مدد ملتی ہے۔جئی اور جو کو مختلف طرح سے دلیہ، سلاد اور سوپ کے اندر استعمال کر کے لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔اومیگا 3 فیٹ بھی ہماری صحت کے بہت سے پہلوؤں کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے، اس میں مدافعتی خلیوں کی پیداوار بھی شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ صحت کے رہنما خطوط کے مطابق ہفتے میں دو بار مچھلی کو کھانا انتہائی مفید ہے اور اس میں کم از کم ایک حصہ تیل والی مچھلی قسم کا ہونا چاہیے ،جن میں میکریل، سالمن، سارڈینز اور ٹراؤٹ شامل ہیں۔اگر آپ سبزی خور ہیں تو آپ کو پودوں سے حاصل ہونے والا اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے ذرائع اپنی غذا میں شامل کرنا ہوں گے، جیسے چیا سیڈز، فلیکس سیڈز اور اخروٹ۔جبکہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے حصول کے لیے طبی ماہر کے مشورے سے سپلیمنٹ بھی لیا جا سکتا ہے۔یہ بات جان ذہن نشین کر لیں کہ صحت مند اور تندرست رہنے کے لیے آنتوں کی اچھی صحت بہت ضروری ہے۔ درحقیقت، ہمارے مدافعتی دفاع کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ ہماری آنتوں کے بلغمی استر(mucosal lining) کے ساتھ ہوتا ہے۔اس لئے اسے بالکل درست حالت میں رکھنا انفیکشن کے خلاف دفاع کی پہلی لائن ہے۔دہی، کیفیر(خمیر شدہ دودہ سے بنا مشروب)، کیمچی( خمیر شدہ سبزیوں سے بنی کورین ڈش) بند گوبھی سے بنی ساورکراٹ جیسی پروبائیوٹک غذائیں آنتوں میں فائدہ مند بیکٹیریا کو پھلنے پھولنے میں مدد کر سکتی ہیں۔اگر یہ غذائیں آپ کے لیے نئی ہیں تو انھیں آہستہ آہستہ اپنی غذا میں شامل کریں تاکہ آپ کے نظام انہضام کو اس کا عادی ہونے کا وقت ملے۔(بی بی سی)