عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/صوبائی کمشنر کشمیر انشول گَرگ نے ہفتہ کے روز کہا کہ کشمیری کاریگر صدیوں پرانی دستکاری کی روایات کو محفوظ رکھنے اور انہیں جدید جمالیات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر بے حد تحسین کے مستحق ہیں۔سری نگر میں منعقدہ پھیرن ڈے جشنِ چلہ کلاں کی تقریبات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےصوبائی کمشنر نے کہا کہ یہ تقریب وادی کی روایتی دستکاری کی مسلسل توانائی اور اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔انہوں نے کہاکشمیر کا روایتی لباس اور ہماری دستکاریاں ہماری گرمجوشی اور جمالیاتی ذوق کی عکاسی کرتی ہیں۔ آج یہاں موجود تمام کاریگر اس بات کے مستحق ہیں کہ انہوں نے بدلتے وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہوئے اس ورثے کو زندہ رکھا ہے۔
صوبائی کمشنر نے محکمۂ ہینڈی کرافٹس و ہینڈلومز کو مقامی کاریگروں کے فروغ کے لیے باقاعدہ اقدامات کرنے پر مبارکباد دی، جن میں تین روزہ فیسٹیولز، نئے سال کے خصوصی آرٹیژن ایونٹس اور نئے مارکیٹنگ پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ انہوں نے کہامحکمہ خاص طور پر سردیوں اور سیاحتی سیزن سے قبل کاریگروں کو نمائش اور مواقع فراہم کرنے میں سرگرم رہا ہےاور مزید بتایا کہ انتظامیہ کشمیر کی دستکاری معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ’’لوکل فار لوکل‘‘تصور پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے عوام اور سیاحوں کو کشمیر ہاٹ میں منعقدہ دو روزہ نمائش دیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تقریبات نہ صرف کشمیر کے ثقافتی ورثے کا جشن ہیں بلکہ کاریگروں کو خریداروں اور سیاحوں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔کمشنر موصوف نے آنے والے تہواری سیزن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور انتظامیہ کی سردیوں کی تیاریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ’انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر‘ اور ضلعی سطح کے کنٹرول رومز چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ تمام ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اضلاع میں کنٹرول رومز قائم کیے ہیں اور نَوڈل افسران تعینات کیے گئے ہیں تاکہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی، برف ہٹانے اور ضروری خدمات کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر انشول گَرگ نے فائر سیفٹی سے متعلق ایڈوائزری بھی جاری کی اور عوام سے سردیوں کے دوران احتیاط برتنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہاحالیہ ہفتوں میں آگ لگنے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سردیوں کے آلات کا جائزہ لیں اور استعمال میں نہ ہونے پر برقی آلات بند رکھیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
سردیوں کی تیاریوں کے لیے انتظامیہ ہائی الرٹ:انشول گَرگ