طارق شبنم
کشمیری شعری مجموعہ بعنوان ’’اندرم دگ‘‘ نوجوان شاعر ریاض ہاکباری کی دوسری تصنیف ہے ۔اس سے پہلے ان کی ان کی ایک تصنیف بعنوان ’’بہ کوتاہ وونی کرئے برداشت ‘‘منظر عام پر آکر قارئین سے داد حاصل کر چکی ہے ۔ ریاض ہاکباری ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نرم دل ا ور ملنسار انسان ہیں اور بحیثیت امام مسجد فرائض انجام دے رہے ہیں ۔
214 صفات پر مشتمل زیر نظر شعری مجموعے کے ابتدا میں معروف شاعر اور محقق محترم شاد رمضان،حلقہ ادب سوناواری کے صدر شاکر شفیح، اختر حسین منصور اور شہباز ہاکباری کے تعثرات اور تجزیاتی مضامین شامل اشاعت ہیں جن کے مطالعے سے ریاض ہاکباری کے ادبی سفر اور شخصیت کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے ۔اس کے بعد ریاض ہاکباری نے مختصر الفاظ میں اپنا تعارف پیش کیا ہے۔
کتاب کی شروعات ایک خوب صورت نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہوتی ہے۔کتاب میں نعت ،منقبت ،نظمیں وغیرہ شامل اشاعت ہیں جنہیں پڑھ کر قاری محظوظ ہوتا ہے۔ ریاض ہاکباری نے اپنی شاعری میں ایک حساس شاعر کی طرح سنجیدہ انداز میں مختلف سماجی معاملات کو موضوع سخن بنایا ہے اور آسان الفاظ کا استمال کیا ہے۔فنی باریکیوں کی پرکھ کو ناقدین پر چھوڑ کر بحیثیت ایک قاری کے مجھے یہ بات کہنے میں خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ریاض ہاکباری نے دلچسپ انداز میں اپنی شاعری میں مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے اس کے شعر قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں ۔معروف ادیب اور نقاد شہباز ہاکباری صاحب ہاکباری کے شاعری کے بارے میں یوں رقم فراز ہیں( ترجمہ)۔
’’ریاض ہاکباری شاعری کے ابتدائی لوازمات سے واقف ہیں ،گو کہ شاعری دلہن کو سجانے کے مترادف ہے جتنے زیادہ گہنے اس کو پہنائے جائیں اتنی ہی دلہن دلکش وخوب صورت لگتی ہے ۔اس کی یہ دوسری کتاب ہے جس میں محبت کے گانے ،سماجی مسائل، انسان کے طرح طرح کے معاملات کا احاطہ کیا گیا ہے ۔مجھے امید ہے کہ ریاض ہاکباری اگر ادب کے مطالعہ اہتمام سے کریں گے تو ان کو بہت سے شاعرانہ گن حاصل ہونگے ۔‘‘آگے آپ لکھتے ہیں،’’میں اس بات پر مطمعن ہوں کہ ریاض ہاکباری شاعری کے سفر میں کامیابی سے آگے بڑھ سکتے ہیں ۔‘‘(بحوالہ ،اندرم دگ ۔ص۔ 24)
شہباز ہاکباری صاحب بھی ان کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ ریاض ہاکباری مستقبل میں ایک کامیاب شاعر ثابت ہو سکتے ہیں۔کتاب کا سرورق دلکش اور چھپائی عمدہ ہے۔امید ہے یہ کتاب کشمیری ادب میں ایک مثبت اضافہ ثابت ہوگی ۔اس خوب صورت شعری مجموعہ کی اشاعت کے لئے ریاض ہاکباری صاحب کو ڈھیروں مبارک باد اور مستقبل کے لئے نیک خواہشات ۔
نمونہ کلام
یتھنہ زانہ دکھ چھاو میا نس دوستس
نے زء کرزء گراو میانس دوستس
یاونکی دوہ بییہ چھ آمت باغی تس
تیتھ چھ از کل چاو میانس دوستس
ہا مے چھے از بڑ خوشی جگرس اندر
دشہ گنڑتھ نکہ زاو میانس دوستس
( اند رم دگ۔ ص۔ 77)