سبزار احمد بٹ
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جو قوم اپنی مادری زبان کو زندہ رکھ پاتی ہے، اپنی مادری زبان کے عروج اور ترقی کے لیے کوشاں رہتی ہے، وہ قوم زندہ و جاوید رہتی ہے اور اس قوم کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے اور جو قوم اپنی مادری زبان کو بھول جاتی ہے، اس زبان میں پڑھنے، لکھنے، اور بولنے میں شرم محسوس کرتی ہے اُس قوم کو زوال پذیر ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔ جہاں تک کشمیری زبان کی بات ہے، اس کو وہ عزت، وہ وقار اور وہ ترقی نہیں دی جا رہی ہے جس کی یہ زبان مستحق ہے ۔ لیکن اگر ہم اس زبان کو بچانے میں اور اسے ترقی دینے میں کامیاب نہیں ہوئے تو ہم بھی کہیں کے نہیں رہیں گے۔ بقول رحمان راہیؔ ؎
کاشِر سیتھن کاشِر ساری
نتہ ویرانُک حیران کاؤ
کشمیری زبان کی موجودہ صورتحال سب کے سامنے عیاں ہے اور اس زبان کو نقصان پہنچانے میں کس کا کتنا کردار رہا، یہ ایک الگ بحث طلب معاملہ ہے لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ کشمیری زبان کے ایسے سپوت ابھی زندہ ہیں جو اپنے خون جگر سے اس زبان کو سینچتے ہیں جو کسی صلے کی پرواہ اور ستائش کی تمنا کئے بغیر اس زبان کی ترویج اور بقا کے لیے اپنا خون سیاہی کے بدلے استعمال کر کے اس زبان کو ترقی دیتے ہیں۔ انہی سپوتوں میں ایک نام ڈاکٹر شیدا حسین شیدا کا بھی ہے ۔ حالانکہ سوشل میڈیا کے ذریعے میں انہیں جانتا تھا لیکن ان کے علمی قد کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا، جب وہ مجھے ویشو لٹری فیسٹیول میں ملے اور انہوں نے اپنی کتاب’’صحراون سبزارچ کل‘‘ پیش کر کے میری عزت افزائی کی ۔ ڈاکٹر صاحب کی تصنیف ’’صحراون سبزارچ کل‘‘ بہت خوبصورت اور شاندار شعری مجموعہ ہے ۔ اس مجموعے کے عنوان سے ہی ڈاکٹر شیدا کے مثبت سوچ کی عکاسی ہوتی ہے جیسا کہ انہوں نے اپنے شعری مجموعے کا نام ’’صحراون سبزارج کل‘‘ رکھا ہے۔ یعنی ریگستانوں کو بھی سرسبز و شاداب ہونے کی دُھن سوار ہو گئی ہے اور اس کا مطلب صاف ہے کہ ہر انسان کو اچھائی اور بہتری کی امید ہونی چاہیے ، چاہے حالات جیسے بھی ہوں ۔ اس شعری مجموعے میں ڈاکٹر صاحب نے مختلف النوع مضامین پیش کئے ہیں۔اس مجموعے میں مناجات، نعت، غزل اور نظم جیسے اصناف سخن پر طبع آزمائی کی گئی ہے، مجموعے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اشعار اس سادگی سے پیش کئے گئے ہیں کہ ایک عام قاری بھی اس کتاب کا مطالعہ کر سکتا ہے ۔ بڑے سے بڑے موضوع کو اس سادگی سے پیش کیا گیا ہے کہ ہر شعر ایک تیر کی طرح جگر میں پیوست ہو جاتا ہے ۔ شاعر نے دنیا کی بے ثباتی کو مختلف رنگوں میں پیش کر کے موجودہ مادیت پرست انسان کو آئینہ دکھانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے ۔ اس شعری مجموعے کی شروعات میں ہی ڈاکٹر شیدا نے بہت خوبصورت انداز میں ایک انسان کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جو تم نہیں ہو، وہ بننے کی کوشش مت کرو ۔ اپنی اصلیت پہچانو اور یاد رکھنا کل زیر زمین اپنے کئے کا حساب دینا ہوگا۔ وہ لکھتے ہیں کہ
یمیُیک مِد چھُے تہِ سورُے یتیی چھُ تراوُن
جزم چھُکھ آ پزیاہ تشدید لاگُن
زِبر تراوِتھ گژھن چھُے زیر پانو
پگاہ تس برونٹھ کنہ چھُے پیش سپدُن
شاعر چونکہ اس شہر کا باسی ہے جس نے کئی دہائیوں سے آگ ہی آگ دیکھی ہے ۔ اس لئے شاعر نے بہت سادگی سے اللہ رب العزت سے دعا کی ہے کہ یہ صحرا بھی سبزار میں تبدیل ہو اور پھر سے بہاریں لوٹ آئیں لکھتے ہیں کہ :
صحراوس سبزار منگان چھی یا اللہ
نارس اءس گلزار منگان چھی یا اللہ
وانس وچھان گیہ نار دزان یتھ کشمیرس
کرتس وین گلزار منگان چھی یا اللہ
شاعری کا بنیادی موضوع چونکہ عشق رہا ہے، لہٰذا موصوف نے پہلی ہی غزل میں عشق کے خوبصورت موضوع کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے اشعار میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ
گژھان روٹتھ نظر چانین اچھن منز
برتھ کوتاہ مژر چانین اچھن منز
بہ یمنی منز مرتھ بسہ ہا طمع چھم
میہ گژھِ آسین قبر چانین اچھن منز
ایک اچھے انسان کےلیے یہ ضروری نہیں کہ اس کے پاس دولت اور جاہ حشمت ہو اور سب لوگ اسے احترام کر رہیں ہوں بلکہ بڑی بات یہ ہے کہ ایک انسان کا کردار اچھا ہو ۔ انسان کا کردار ہی اس کی پہچان ہے اس موضوع کو ڈاکٹر شیدا نے کچھ اس انداز سے پیش کیا ہے
پام چھنہ کانہہ چھُس اگر دستار روس
چانئ پاٹھن ما بہ چھوس کردار روس
اس بات میں کیا شک ہے کہ آجکل ہر انسان کو دوسرے سے شکایت ہے کہ وہ چہرے پر چہرہ سجا لیتے ہیں یعنی انسان اندر سے ایک ہے اور باہے سے ایک ۔یعنی رہبر کے روپ میں اب رہزن گھوم رہے ہیں ۔ شاعر نے اس موضوع کو اس طرح پیش کیا ہے
نبئری تسبیح تہ اللہ ہو پران چھکھ
اندری کین آزرنی ما بُت گراں چھکھ
کتاب کے ایک حصے میں طنز و مزہ اور ظرافت پر مبنی نظمیں بھی پیش کی گئی ہیں اور اس حصے کا نام ’’ٹیوٹھ مُدُر‘‘ رکھا گیا ہے۔ شاعر نے اس حصے میں بہت ساری مزاحیہ نظمیں لکھی ہیں، یہ نظمیں انسان کو ہنسنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ انسان کا چہرہ چند لمحوں کے لیے کھل اٹھتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ان مزاحیہ نظموں میں جو پیغام چھپے ہوئے ہیں ،وہ بہت خوبصورتی سے براہ راست یا غیر براہ راست ایک انسان کے دل پر اثر کرتے ہیں۔
طنز و مزاح کی نظموں میں ’’کاوس بنیوم کوتر‘‘۔’’ الماسک نگ‘‘۔’’ڈارلنگ‘‘۔’’نار چھکان چھُس‘‘۔’’ لیڈر‘‘ وغیرہ جیسی کچھ شاندار نظمیں پیش کی گئی ہیں ۔
اس کے علاوہ بہت ساری سنجیدہ نظمیں بھی لکھی گئی ہیں، جن میں ’’سسٹرو مرحبا‘‘ جیسی شاندار نظم بھی ہے ۔ ورلڈ نرس ڈے کے موقع پر یہ نظم انہوں نے لکھی ہے اور ہسپتالوں میں کام کرنے والی سسٹرز کو ایک طرح کا اخراج پیش کیا ہے ۔’’بجرس منز‘‘ ناؤ کی نام کی ایک طویل نظم بھی اس کتاب کی زینت بنی ہے جس میں بڑھاپے میں پیش آنے والی مشکلات کا بہت خوبصورتی کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے۔ حسین علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک شاندار نظم بھی لکھی گئی ہے ۔ اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کتاب کے ساتھ مکمل انصاف کر پانا قدرے مشکل ہے کیونکہ ہر موضوع پر بات کرنے سے طوالت کا خدشہ رہ جاتا ہےاور ہر موضوع پر بات نہ کرنے سے دل میں ایک خلش سی رہ جاتی ہے۔ کتاب کے موضوعات کو سمجھنے اور شاعری میں پیش کئے گئے درد کو محسوس کرنے کے لیے ہر کشمیری کے لیے ضروری ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ کرے ۔ اس کتاب کے مکمل مطالعے کے بعد میں ذاتی طور پر یہ کہوں گا کہ ڈاکٹر شیدا حسین شیدا نے یہ کتاب لکھ کر نہ صرف کشمیری زبان پر ایک احسان کیا ہے بلکہ یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کشمیری زبان کے ہمدرد سپوت ہیں اور وہ کشمیری زبان و ادب کے خیر خواہ بھی ہیں ۔ اس شعری مجموعے کی عظمت کا اعتراف وادی کشمیر کے نامور شعراء اور قلم کار حضرات نے اپنے تاثرات پیش کر کے کیا ہے۔ جن میں جناب ایوب صابر صاحب ،جناب بشیر دادا، اظہار مبشر کے علاوہ رفیق راز، رشید سرشاد،ڈاکٹر حکیم نصیر احمد شاہ جیسے منجے ہوئے قلم کاروں کے تاثرات بھی شامل ہیں ۔
جناب رفیق راز لکھتے ہیں کہ ’’ شیدا صاحب الفاظ کا بہترین استعمال کرنا جانتے ہیں، وہ کشمیری زبان کی فنی باریکیوں سے خوب واقف ہیںاور انہیں بحروں کی بھی خوب جانکاری ہے ۔ مختصر بحر میں لکھی ہوئی ان کی شاعری قدرے شاندار ہے۔‘‘ (ترجمہ)
جناب بشیر دادا صاحب لکھتے ہیںکہ’’ ڈاکٹر شیدا ایک ایسے خوش نصیب شاعر ہیں جنہوں نے ایسے گھر میں جنم لیا، جہاں شعر و شاعری کا ماحول تھا ۔ان کے والد مرحوم غلام محمد رفیق صاحب ایک بہت بڑے شاعر تھے جو رباعی، تنقید ،سنجیدہ غزل اور انقلابی نظمیں لکھنے کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ میں ایک کامیاب شاعر ڈاکٹر شیدا حسین شیدا کو عمیق دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔‘‘( ترجمہ)
(نوٹ : اس کتاب کو مصنف سے اس 7006670763 پررابطہ کر کے اُن سے راہ راست حاصل کیا جا سکتا ہے)
رابطہ۔7006738436
[email protected]
������������������