غیر متعدی امراض کی روکتھام اور ذہنی صحت کی فلاح پر غور وخوض
رپورٹ
محمد حنیف
عالمی صحتِ عامہ کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر، نیویارک میں منعقدہ اقوامِ متحدہ کی اسّی ویں جنرل اسمبلی میں شریک عالمی رہنماؤں نے ایک تاریخی سیاسی اعلامیہ منظور کیا ہے، جس کے تحت پہلی مرتبہ غیر متعدی امراض اور ذہنی صحت کو ایک مشترکہ اور مربوط عالمی فریم ورک کے تحت یکجا کیا گیا ہے۔ یہ اعلامیہ دسمبر 2025 میں طویل بین الحکومتی مذاکرات کے بعد منظور کیا گیا جو اس بڑھتے ہوئے عالمی شعور کی عکاسی کرتا ہے کہ جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور سماجی مساوات کے حصول کے لیے ان سے اجتماعی طور پر نمٹنا ناگزیر ہے۔
یہ اعلامیہ، جس کا عنوان ’’مساوات اور انضمام۔ غیر متعدی امراض اور ذہنی صحت و فلاح کے فروغ کے لیے قیادت اور عملی اقدامات کے ذریعے زندگیوں اور معاش کو بدلنا‘‘ ہے، برسوں پر محیط وکالت اور پالیسی مباحث کا نتیجہ ہے۔ اس کا نقطۂ عروج ستمبر میں منعقد ہونے والی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چوتھی اعلیٰ سطحی اجلاس تھا، جس میں غیر متعدی امراض کی روک تھام اور کنٹرول اور ذہنی صحت و فلاح کے فروغ پر غور کیا گیا۔غیر متعدی امراض، جن میں قلبی بیماریاں، سرطان، دائمی سانس کی بیماریاں اور ذیابیطس شامل ہیں، دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ ہر سال اندازاً ایک کروڑ اسی لاکھ افراد ان بیماریوں کے باعث وقت سے پہلے جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جن میں سے کئی ستر سال کی عمر تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔ اسی دوران، ذہنی صحت کے مسائل ایک ارب سے زائد افراد کو متاثر کر رہے ہیں، جو عمر، جنس، جغرافیہ اور آمدنی کی تمام حدوں سے ماورا ہیں۔ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں بچاؤ، تشخیص اور علاج تک رسائی اب بھی غیر مساوی ہے۔ غیر متعدی امراض کے کئی اسباب، جیسے غیر صحت بخش غذائیں، تمباکو کا اور الکحل کااستعمال، جسمانی سرگرمی کی کمی اور فضائی آلودگی سے واسطہ، قابلِ تدارک ہیں اور ان کا ذہنی صحت کے نتائج سے گہرا تعلق ہے۔ تیز رفتار شہری، موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل نمائش اور سماجی عدم مساوات نے ان خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اسی لئے اعلامیہ غیر متعدی امراض اور ذہنی صحت کو محض طبی مسائل نہیں بلکہ ہمہ جہت ترقیاتی چیلنجز کے طور پر پیش کرتا ہے، جن کے سماجی اور معاشی اثرات دور رس ہیں۔اعلامیے کا ایک نہایت اہم پہلو 2030 تک حاصل کئے جانے والے مخصوص اور وقت سے مشروط عالمی اہداف کا تعین ہے۔ ان اہداف کو تیز رفتار نتائج کے طور پر متعین کر کے عالمی کوششوں کو محض اعلانات سے عملی اثرات کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
نتائج سے متعلق اہداف کے علاوہ، اعلامیہ ایسے بلند حوصلہ نظامی معیارات بھی پیش کرتا ہے جن کا مقصد غیر متعدی امراض اور ذہنی صحت کے مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے قومی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ ان میں جامع پالیسی، قانون سازی اور ضابطہ جاتی اقدامات؛ بنیادی صحت مراکز میں ضروری ادویات اور بنیادی ٹیکنالوجی کی دستیابی، مالی تحفظ میں توسیع تاکہ ذاتی اخراجات کم ہوں، کثیر شعبہ جاتی قومی عملی منصوبوں کا نفاذ اور مضبوط نگرانی و مانیٹرنگ نظام کی تشکیل شامل ہے۔ یہ اعلامیہ اپنی وسعت اور شمولیت کے باعث بھی نمایاں ہے، جو کووڈ۔19 وبا ءاور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے حاصل ہونے والے اسباق کی عکاسی کرتا ہے۔ پہلی مرتبہ اس میں غیر متعدی امراض کے ایک وسیع دائرے کو واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جن میں منہ کی صحت، پھیپھڑوں کی صحت، بچوں کا سرطان، جگر اور گردوں کی بیماریاں اور نایاب امراض شامل ہیں، جنہیں ماضی میں پالیسی سطح پر محدود توجہ حاصل رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت کے ماحولیاتی عوامل پر بھی گفتگو کو وسعت دی گئی ہے، جس میں فضائی آلودگی، غیر محفوظ کھانا پکانے کے طریقے، سیسے کی نمائش اور خطرناک کیمیائی مادّوں کے جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں ضابطہ جاتی اقدامات کو بھی نمایاں اہمیت دی گئی ہے، خصوصاً تمباکو کی مصنوعات، بشمول ای سگریٹس اور جدید نکوٹین فراہم کرنے والے نظام، پر کنٹرول اور بچوں کے لیے غیر صحت بخش غذاؤں کی تشہیر پر پابندی کے حوالے سے۔ غذاؤں پر سامنے کی جانب غذائی لیبلنگ اور صنعتی ٹرانس فیٹس کے خاتمے سے متعلق وعدے صحت مند غذائی ماحول کے قیام پر بڑھتے ہوئے زور کو ظاہر کرتے ہیں۔
مساوات اس اعلامیے کا مرکزی نکتہ ہے۔ اس میں اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے کہ غیر متعدی امراض اور ذہنی صحت کے مسائل کا غیر متناسب بوجھ محروم طبقات پر پڑتا ہے، جن میں غربت کا شکار افراد، موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ برادریاں، چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک اور انسانی بحرانوں سے متاثرہ آبادی شامل ہے۔ اعلامیہ اس بات کی بھی
اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ پالیسی سازی اور نفاذ میں اُن افراد کو شامل کیا جائے جنہیں ان مسائل کا براہِ راست تجربہ ہے، تاکہ اقدامات حقیقی ضروریات اور انسانی حقوق کے اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔
مالی وسائل کی فراہمی اعلامیے میں ایک کلیدی مسئلے کے طور پر سامنے آتی ہے، خصوصاً عالمی معاشی دباؤ کے تناظر میں جو صحت کے اخراجات کو متاثر کر رہا ہے۔ دستاویز میں مناسب، قابلِ پیش گوئی اور پائیدار مالی معاونت کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کے لیے داخلی سرمایہ کاری میں اضافہ، بین الاقوامی تعاون کو فروغ اور کثیر الجہتی مالیاتی نظاموں میں بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ان مالی وعدوں کو مضبوط بنا کر پالیسی اہداف اور زمینی عملدرآمد کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اعلامیہ غیر متعدی امراض اور ذہنی صحت پر کارروائی کو محض وزارتِ صحت تک محدود ذمہ داری قرار نہیں دیتا بلکہ اسے مشترکہ اجتماعی ذمہ داری کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس میں حکومت کے تمام شعبوں اور پورے معاشرے کی شمولیت پر مبنی نقطۂ نظر کی وکالت کی گئی ہے، کیونکہ تعلیم، مالیات، شہری منصوبہ بندی، ماحولیات، محنت اور ڈیجیٹل حکمرانی جیسے شعبوں میں مربوط اقدامات کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں۔ سول سوسائٹی تنظیموں، نوجوانوں کے گروپس، معذور افراد اور کمیونٹی رہنماؤں کو تبدیلی لانے اور رفتار برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر شراکت دار قرار دیا گیا ہے۔
جوابدہی اس نئے فریم ورک کی نمایاں خصوصیت ہے۔ اعلامیہ پیش رفت کی نگرانی، رپورٹنگ اور جائزے کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیتا ہے تاکہ سیاسی عزم برقرار رہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آئندہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے قبل 2030 کے اہداف کی جانب پیش رفت پر رپورٹ پیش کریں، جبکہ عالمی ادارۂ صحت اور دیگر اقوامِ متحدہ کے ادارے ممالک کو عالمی وعدوں کو قومی پالیسیوں اور پروگراموں میں ڈھالنے میں معاونت فراہم کریں گے۔ جوابدہی پر یہ زور عالمی صحت حکمرانی میں شفافیت اور نتائج کے بڑھتے ہوئے مطالبے کی عکاسی کرتا ہے۔
جیسے جیسے دنیا 2030 کی جانب بڑھ رہی ہے، اس اعلامیے کی منظوری ہمارے عہد کے کچھ نہایت پیچیدہ اور دیرینہ صحت چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئے عزم کی علامت ہے۔ غیر متعدی امراض اور ذہنی صحت کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کر کے عالمی رہنماؤں نے جسمانی، ذہنی، سماجی اور معاشی فلاح و بہبود کی ناقابلِ تقسیم نوعیت کو تسلیم کیا ہے۔ آیا یہ تاریخی عزم اپنے وعدے پورے کر پائے گا یا نہیں، اس کا انحصار مسلسل سیاسی عزم، مناسب مالی وسائل اور قومی و مقامی سطح پر بامعنی اقدامات پر ہوگا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس اعلامیے نے صحت مند اور زیادہ منصفانہ معاشروں کے قیام کے لیے عالمی تعاون کا ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے۔