عبدالرشید خان ، سرینگر
خدا بےحد خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے ،شاید یہی وجہ ہے کہ اپنا تعلق خدا سے جوڑنے کے لیے خوبصورت لوگ دوسرے انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلے ہوئے ہیں اور خدا پسندی کا ثبوت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔انسان کی صورت کیسی ہے، اگرچہ اس میں اسکا کوئی عمل دخل نہیں ،یہ ایک قدرتی تحفہ ہے جس کو بہر حال قبول کر نا ہی پڑتا ہے ،تاہم سیرت جو انسان کی اصلی پہچان تھی، اسکو سنوار نے کے بجائے بگاڑنے کا ذمہ دار خود انسان ہے۔تیزرفتار زندگی نے انسان کے خیالات ،احسا سات اور جذبات چھین کر اسکو اندر سے خالی کر دیا ،وہ اب انسان سے زیادہ مشین بن کر جی رہا ہے ،بُرا ہو بناؤ سنگھار اور مصنوعی میک اَپ کا ،اس نے انسان کی اصلی صورت ہی بگاڑ دی۔
وہ حسن و جمال جس کی تعریفیں کر تے کرتے شاعر وں نے دیوانوں کے دیوان لکھ ڈالے اور جس کے بارے میں چاچا غالب جیسے صوفی شاعر نے کہا تھا۔ ’’ نیند اس کی ہے راتیں اس کی ہیں دماغ اس کا ہے جس کے شانوں پر تری زلفیں پریشان ہو گیں ۔‘‘ اب وہ کہیں دکھائی نہیں دیتے ،مجھے یقین ہے کہ اگر چا چا غالب آج زندہ ہوتے ،نرم و نازک سیاہ زلفوں کے بجائے پلاسٹک کے رنگ برنگے دھاگے دیکھ کر انہیں ضرور کھجلی ہو جاتی ،سویرے گھر سے نکلا حسین وجمیل نوجوان ،چہرے پر سورج جیس چمک دمک ،گلابی ہونٹ ،نرگسی آنکھیں ،سر پر بادل جیسے گھنے اور سیاہ بال لے کر نکلتا ہے تو اڈوس پڑوس کے لوگ عش عش کرتے رہتے ہیں اور جب شام کو یہ عمر رسیدہ ہاتھی جیسی کالی چمڑی والا چہرہ ،سوکھے ہوئے پتے جیسے ہونٹ ،جوسال ہا سال سے پانی کو ترس رہے ہیں ،آنکھیں کالی قمیض پر لگے سیاہ بٹن ،جو نہ دِکھتے ہیں اور وہ بند ہوتے ،سر جس پر نہ کھبی کچھ اُگا اور نہ آیندہ اُگنے کی امید کی جا سکتی ہے۔یقین نہیں آتا کہ یہ وہی حسین وجمیل نوجوان ہے جو بقول مرحوم رشید احمد صدیقی ابھی ابھی گھر سے نکاح کر کے چلا تھا ،اتنی جلدی کیونکر بدل گیا ۔اب تو خوبصورت لوگوں کے جھرمٹ سے اصلی صورت والے انسان کو ڈھونڈ نکالنا کار دارد والا معاملہ ہے۔لیکن اس کے باوجود حسن چاہے قدرتی ہو یا بناوٹی ،یہ ایک نعمت ہے۔ کار بار ہو یا ملازمت ،تجارت ہو یا سیاست ،زندگی کے ہر میدان میں حسن والوں کا پلہ بھاری رہتا ہے۔ اگر آپ ڈاکٹر ہیں ،لوگ بلا مرض کے آپ سے علاج کرانے آئیں گے اور انہیں صحت یاب ہونے کی کوئی جلدی نہیں ہو گی، آپ دس بار ایک ہی ٹیسٹ کرانے ،دوائی کے بجائے ملتانی مٹی کھلا ئیے ،وہ آپ کو کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ آپ دواساز کمپنیوں سے کمیشن لے رہے ہیں اور اگر کوئی وکیل خوش قسمتی سے حسین واقع ہوا، سمجھو اسکے لیے client ڈھونڈ نے کی چنتا ختم۔مجال ہے کہ کوئی آسامی اپنا کیس جلد از جلد حل کروانے کا تقاضا کرے ،کیس کا ہار جانا ،جو وکیل حضرات بہر حال ہار ہی جاتے ہیں ،چاہے پہلے سال میں یا بیس سال کی مشقت کے بعد ،اس کا وکیل صاحب کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لوگ بالکل اسی طرح اسکے گرد گھومتے ہیں جیسے شمع کے گرد پروانے ،اِدھر جل جانے کا احتمال اُدھر عمر بھر کی کمائی کے ساتھ ساتھ پشتوں کی موروثی جائیداد کھو جانے کی ضمانت۔ سیاست کے میدان میں حسین ہونا نیک بختی کی علامت اور کامیابی کی ضمانت مانی جاتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ حسین لوگوں نے کس طرح قوموں کی تقدیریں بدل دیں ،حسیں سیاست دان کسی کے لئے عاشق اور کسی کے لئے معشوق ثابت ہوتا ہے ،اگر وہ کسی گلی کے نکڑ پر بھاشن دینے کے لئے کھڑا ہو ،خدا واسطے لوگ وہاں جمع ہوتے ہیں ۔وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیوں کہہ رہا ہے اس سے کسی کو کوئی مطلب نہیں ،ہاں! حسن کی داد دینے کے لئے بیچ بیچ میں تالیاں بجاتے رہتے ہیں۔ایسے سیاست دان کے لئے تمام پارٹیوں کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ کبھی کبھار حسن آدمی کے لئے وبال جان بن جاتا ہے نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ،یقین نہ آئے تو جا کر یوسف علیہ السلام سے پوچھو ،پیغمبر ہوتے ہوئے بھی قید و بند کی صعوبتوں سے گزر کر حسین ہونے کی قیمت چکانی پڑی۔رہی بات محمود اور ایاز کی ،ایاز تو بہر حال غلام ہی تھا ،محمود شہنشاہ ہوتے ہوئے بھی حسن کے آگے بے بس ولاچار۔ اگر بدقسمتی سے میاں بیوی میں سے کوئی ایک حسین ہو تو یہ نحوست کی علامت اور فساد کی جڑ بن جاتی ہے، ازدواجی خوشیوں اور مسرتوں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے انکی زندگی ایک دوسرے کی سراغ رسانی اور جاسوسی کرنے میں گزرجاتی ہے، چوری چھپے ایک دوسرے کے فون چک کرنا ،دوستوں اور رشتےداروں سے بات نہ کر نے دینا ،قدم قدم پر غلط فہمی کا شکار ہو نا،حد تو یہ کہ مرتے دم تک ایک دوسرے کو شک کی نظروں سے دیکھنا۔ انسان فطرتاً ایک سماجی حیوان ہے ،سماجی رشتے استوار کرنے میں حسین لوگ ایک اہم رول ادا کرتے ہیں ،بس یا ٹرین کے سفر میں بہر حال رشتے بنتے ہی رہتے ہیں ،حسن ہزاروں میل کی دوری طے کر نے پر آدمی کو آمادہ کرتا ہے، کہاں وسیع وعریض ملک شام کی سلطنت کا عظیم وشان بادشاہ اور موحد پیغمبر حضرت سلیمان علیہ السلام اور کہاں شہر سبا کی آفتاب پرست بلقیس ،رشتہ تو بن ہی گیا۔ دیکھا جائے تو شعر و شاعری کی پوری دنیا اسی خوبصورتی سے آباد ہے۔نازک بدن،سرمئی آنکھیں ،دراز زلفیں ،پتلی کمر، قاتل ادایں جیسی ہزاروں اصطلاحات کو اگر شاعری سے نکال دیا جائے تو پوری کی پوری عمارت دھڑام سے گر جائے گی۔زمانے کے ستاے ،غم زدہ اور دل جلے نوجوانوں کو کھنڈرات میں سے دل رُبا ادایں ،قاتل نگاہوں والے حسین لوگوں کو ڈھونڈ نا پڑے گا تو بیچارے بے موت مارے جائیں گے۔
رابطہ۔ 9797080924